بولان (نامہ نگار) سیاسی و قبائلی شخصیت میر غفار جان جتوئی سے صحافی غلام فاروق جتوئی نے ملاقات کی، ملاقات کے دوران تحصیل سنی میں تعلیم کی مجموعی صورتحال، سرکاری سکولوں کی بندش، اساتذہ کی حاضری، طلباءکو درپیش مشکلات اور تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر میر غفار جان جتوئی نے تحصیل سنی کے تعلیمی نظام کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کا بنیادی دارومدار تعلیم پر ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے اگر ہمارے علاقوں میں سکول بند رہیں اور بچوں کو پڑھانے والے اساتذہ اپنی ڈیوٹی باقاعدگی سے سرانجام نہ دیں تو اس سے سب سے زیادہ نقصان غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کا ہوگا تحصیل سنی ایک وسیع اور پسماندہ علاقہ ہے جہاں بہت سے بچے پہلے ہی تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں۔ ایسے علاقوں میں موجود سرکاری سکولوں کو فعال رکھنا اور اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانا محکمہ تعلیم کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحصیل سنی کے تمام سکولوں کا جامع سروے کرایا جائے اور معلوم کیا جائے کہ کون سے سکول فعال ہیں، کون سے بند ہیں اور کہاں اساتذہ کی کمی ہے انھوں نے کہا کہ صرف سکولوں کی عمارتیں تعمیر کرنا کافی نہیں بلکہ ان میں باقاعدہ تدریسی عمل، قابل اور حاضر اساتذہ، طلبائ کیلئے ضروری سہولیات اور مو¿ثر نگرانی بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ افسران سکولوں کے اچانک دورے کریں اور اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کیلئے مو¿ثر نظام تشکیل دیں تاکہ دور دراز علاقوں کے بچے بھی تعلیم کے بنیادی حق سے محروم نہ رہیں انہوں نے مزید کہا کہ والدین اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی امید میں انہیں سکول بھیجتے ہیں، لیکن جب سکول بند ہوں یا اساتذہ دستیاب نہ ہوں تو بچوں کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے اور والدین میں بھی مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ اس صورتحال پر محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ کو فوری توجہ دینا ہوگی
میر غفار جان جتوئی سے صحافی غلام فاروق جتوئی کی ملاقات
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل