پیر محمد کاکڑ کی 13 سالہ قانونی جدوجہد رنگ لے آئی، عدالت کا ریفرنڈم کے حق میں تاریخی فیصلہ

کوئٹہ:کیسکو لیبر یونین بلوچستان کے سرپرستِ اعلیٰ آغا سلطان شاہ، چیف آرگنائزر اسلام خان، جنرل سیکرٹری ملک سعید لہڑی، حاجی عبدالمجید، آصف شاہوانی، عزیز احمد سارنگزئی، مشتاق امین، حاجی عبدالسلام، یاسر شاہ، منیر احمد، آغا نادر شاہ اور دیگر رہنما¶ں نے بلوچستان ہائی کورٹ کی جانب سے کیسکو کی سطح پر علیحدہ ریفرنڈم کے انعقاد سے متعلق یونین کے م¶قف کو تسلیم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کیسکو ملازمین کے جمہوری حقِ نمائندگی کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ اپنے مشترکہ بیان میں رہنما¶ں نے کہا کہ کیسکو لیبر یونین بلوچستان گزشتہ 13 سال سے کیسکو ملازمین کے لیے علیحدہ ریفرنڈم کے انعقاد کی خاطر قانونی اور آئینی جدوجہد کر رہی تھی۔ اس طویل جدوجہد میں یونین کے صدر پیر محمد کاکڑ نے خود قیادت کرتے ہوئے عدالتی مقدمے کی پیروی کی اور مختلف قانونی پیچیدگیوں اور مشکلات کے باوجود اپنے م¶قف سے پیچھے نہیں ہٹے۔ بالآخر بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے نے یونین کے م¶قف کو تقویت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیر محمد کاکڑ نے مزدوروں کے حقوق اور کیسکو ملازمین کی آزادانہ نمائندگی کے لیے جس مستقل مزاجی، ثابت قدمی اور عزم کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ ہم انہیں 13 سالہ طویل قانونی جدوجہد میں کامیابی پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور ان کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔رہنما¶ں نے کہا کہ کیسکو کی سطح پر علیحدہ ریفرنڈم کا فیصلہ ملازمین کو اپنی پسند کی قیادت منتخب کرنے، جمہوری حقِ رائے دہی استعمال کرنے اور آزادانہ طور پر اپنی نمائندگی کا حق حاصل کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ یہ کامیابی کسی ایک فرد یا تنظیم تک محدود نہیں بلکہ کیسکو کے تمام ملازمین کے جمہوری حقوق کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے حقوق کا تحفظ، ملازمین کے لیے بہتر سروس اسٹرکچر، جائز مراعات، مسائل کا حل اور آزادانہ ٹریڈ یونین سرگرمیوں کا فروغ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کیسکو ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور ان کے مسائل کے حل کے لیے قانونی، آئینی اور جمہوری جدوجہد آئندہ بھی بھرپور انداز میں جاری رکھی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں