سوراب(سراج احمد بلوچ) جمعیت علماءاسلام تحصیل سوراب کے عہدیداران نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں سوراب میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) کے منصوبوں اور پانی کی فراہمی کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوراب کو مسلسل تین بجٹ میں پی ایچ ای کی مد میں فنڈز فراہم کیے گئے ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں اور عوام آج بھی بنیادی سہولتِ آب سے محرومی کی شکایات کر رہے ہیں،جے یو آئی تحصیل سوراب کے عہدیداران نے کہا کہ سرکاری ریکارڈ میں مختلف ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کا ذکر موجود ہونے کے باوجود عوام کو ان منصوبوں کے ثمرات نظر نہیں آ رہے۔ انہوں نے متعلقہ محکمے کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر فنڈز باقاعدگی سے جاری ہوئے ہیں تو ان کے ثمرات عوام تک کیوں نہیں پہنچ رہے اور پانی کے مسائل تاحال کیوں برقرار ہیں،انہوں نے الزام عائد کیا کہ متعلقہ افسران عوامی مسائل کے حل میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے اور عوام اپنے بنیادی مسائل کے سلسلے میں متعلقہ حکام کے دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں،ان کا کہنا تھا کہ سرکاری افسران عوام کے خادم ہیں، انہیں عوام سے دور رہنے کے بجائے ان کے مسائل سننے اور حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں،جے یو آئی تحصیل سوراب کے عہدیداران نے مطالبہ کیا کہ سوراب میں گزشتہ تین بجٹ کے دوران پی ایچ ای کو جاری کیے گئے فنڈز، مکمل ہونے والے منصوبوں اور ان پر ہونے والے اخراجات کا شفاف آڈٹ کرایا جائے، جبکہ نامکمل اور غیر فعال منصوبوں کی وجوہات بھی عوام کے سامنے لائی جائیں،انہوں نے صوبائی حکومت، محکمہ پی ایچ ای کے اعلیٰ حکام اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ سوراب میں پانی کی فراہمی کے منصوبوں کا فوری جائزہ لیا جائے، عوامی شکایات کا ازالہ کیا جائے اور اگر کسی سطح پر غفلت یا بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے
سوراب، پی ایچ ای کے فنڈز ملنے کے باوجود عوام پانی کی سہولت سے محروم
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل