ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرکی مختلف سرکاری گرلز اسکولوں کا دورہ

گواد (خ ن)وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے تعلیمی شعبے میں اصلاحات، تعلیمی اداروں کی بہتری اور طلبہ کو معیاری و سازگار تعلیمی ماحول کی فراہمی کے وڑن کے تحت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) زرا تون بلوچ نے مختلف سرکاری گرلز اسکولوں کا دورہ کیا اور تدریسی سرگرمیوں، بنیادی سہولیات اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول کوہماڈی وارڈ میں کلاس رومز کی کمی کا جائزہ لیا گیا، جہاں محدود جگہ کے باعث ایک سے زائد جماعتوں کی طالبات کو ایک ہی کمرے میں بٹھا کر تدریسی عمل جاری رکھا جا رہا ہے۔ اسکول میں نان ٹیچنگ اسٹاف کی عدم دستیابی کے مسئلے کی بھی نشاندہی کی گئی، جبکہ انتظامی امور کو مو¿ثر بنانے کے لیے معاون عملے کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول سنیٹر اسحاق وارڈ میں اساتذہ تدریسی سرگرمیوں میں مصروف پائے گئے۔ تاہم مڈل سیکشن کی طالبات کو نصابی کتب کی عدم دستیابی کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کی توجہ مبذول کراتے ہوئے نصابی کتب کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ طالبات کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔اسی طرح گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول گھٹی ڈور میں کلاس رومز کی کمی کے باعث طالبات کو اسکول کے باہر کھلے ماحول میں تعلیم حاصل کرنے کی مشکلات کا جائزہ لیا گیا۔ نئی کلاس رومز کی تعمیر تک طالبات کے لیے عارضی شیڈ یا متبادل تعلیمی جگہ کی فراہمی کو فوری ضرورت قرار دیا گیا۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (خواتین) نے اسکول انتظامیہ کو ہدایت کی کہ دستیاب وسائل کو مو¿ثر انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے تعلیمی سرگرمیوں میں تسلسل برقرار رکھا جائے، جبکہ درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر متعلقہ حکام کے سامنے پیش کیا جائے۔حکومت بلوچستان کی جانب سے تعلیمی اداروں کی مسلسل مانیٹرنگ، بنیادی سہولیات کی فراہمی، اساتذہ و عملے کی دستیابی، نصابی کتب کی بروقت فراہمی اور اسکول انفراسٹرکچر میں بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ صوبائی حکومت کی تعلیمی پالیسی کا بنیادی مقصد ہر بچے، بالخصوص دور دراز علاقوں کی طالبات، کو محفوظ، باوقار اور معیاری تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وڑن کے مطابق تعلیمی شعبے میں اصلاحات کا عمل نچلی سطح تک جاری رکھتے ہوئے اسکولوں میں موجود مسائل کی نشاندہی، مو¿ثر مانیٹرنگ اور قابلِ عمل حل کے ذریعے تعلیمی نظام کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں