میرٹ کے قتل کے خلاف جے ٹی آئی کا مظاہرہ،پریس کلب کے سامنے دھرنا

جیکب آباد ( انیس جکھرانی ) جمعیت طلباءاسلام (جے ٹی آئی) ضلع جیکب آباد کی جانب سے میرٹ کے قتل کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ جے یو آئی کے ضلعی امیر ڈاکٹر اے جی انصاری، ضلعی جنرل سیکریٹری مولانا سلیم اللہ بروہی، جے ٹی آئی کے مرکزی رہنما محکم الدین بروہی،اسداللہ حیدری، تاج محمود امروٹی،مولاداد کوسو، منیب الرحمان بروی،مزمل برڑو،فضل الرحمن برڑو،حافظ اسداللہ بنگلانی،مزمل سومرو کی قیادت میں جے یو آئی کے دفتر جیکب آباد سے نکالا گیا۔ مظاہرہ میں بڑی تعداد میں طلبہ اور کارکنان نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر میرٹ کی بحالی، حق داروں کو حق دینے اور ناانصافی کے خاتمے کے مطالبات درج تھے۔جنہوں نے شہر کے مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے پریس کلب پہنچے، جہاں شرکاءنے دھرنا دیا اور میرٹ کی پامالی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرٹ کا قتل نوجوان نسل کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ جب تعلیم یافتہ اور اہل نوجوانوں کو ان کی قابلیت کے مطابق مواقع نہیں ملیں گے تو نوجوانوں میں مایوسی، بے چینی اور بددلی پیدا ہونا فطری امر ہے۔مزید کہا کہ سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں میرٹ کو نظرانداز کرنے سے نہ صرف حقدار نوجوانوں کی حق تلفی ہے بلکہ پورا معاشرہ اس کے منفی اثرات سے متاثر ہوتا ہے۔ اگر پبلک سروس کمیشن جیسے اہم ادارے میں بھی میرٹ کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں تو پھر عام تعلیمی اداروں اور بھرتیوں کے نظام سے شفافیت کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے نوجوان برسوں سے تعلیم حاصل کرکے مقابلے کے امتحانات اور سرکاری ملازمتوں کے لیے تیاری کرتے ہیں، اگر سفارش، اقربا پروری اور غیر شفاف طریقہ کار کے ذریعے ان کے حقوق سلب کیے جائیں تو یہ نوجوانوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔انہوں نے کہا اس وقت بہی ایک سے چار گریڈ کی نوکریوں میں بہرتیوں کے لئے لاکہوں روپے بٹورے جارہے ہیں۔مقررین نے مطالبہ کیا کہ میرٹ کی پامالی کے تمام معاملات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، حقدار امیدواروں کو ان کا حق دیا جائے اور نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ مزید کھلواڑ بند کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں