ماں کا دودھ نومولود بچے کے لیے قدرتی، محفوظ اور مکمل غذا ہے، ڈاکٹر نور اللہ

واشک(نمائندہ خصوصی)صوبائی ڈائریکٹوریٹ نیوٹریشن پروگرام واشک نے یونیسیف کے اشتراک سے ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک (ماں کے دودھ کی اہمیت کے عالمی ہفتے) کے حوالے سے ماں کے دودھ کی اہمیت و افادیت کے بارے میں پریس بریفنگ کا انعقاد کیا گیا۔اس سلسلے میں شیخ زید سول اسپتال بسیمہ میں ڈسٹرکٹ نیوٹریشن کوآرڈینیٹر واشک اسرار احمد کبدانی نے پریس بریفنگ دی اس موقع پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ شیخ زید سول ہسپتال بسیمہ ڈاکٹر نور اللہ عیسی زئی۔سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عبدالصمد محمدحسنی ودیگر مو جود تھے۔پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ ماں کے دودھ کی اہمیت اور بچوں کی صحت مند نشوونما میں اس کے کردار کے حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے اہم آرا کا اظہار کیا اور آگاہی پیغام دیا۔ ماں کا دودھ نومولود بچے کے لیے قدرتی، محفوظ اور مکمل غذا ہے، جو بچے کو ابتدائی عمر میں ضروری غذائیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف بیماریوں سے بچاو¿ میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔انھوں نے کہا کہ پیدائش کے فوراً بعد ماں کا دودھ پلانا اور ابتدائی چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلانا بچے کی بہتر صحت، جسمانی نشوونما اور مضبوط مدافعتی نظام (Immunity) کے لیے انتہائی اہم ہے۔ چھ ماہ کے بعد بچے کو ماں کے دودھ کے ساتھ مناسب اور متوازن اضافی غذا بھی دی جانی چاہیے۔ ایسے آگاہی پروگرامز کا بنیادی مقصد ماو¿ں، والدین اور معاشرے کو ماں کے دودھ کے فوائد سے آگاہ کرنا، نومولود بچوں میں غذائی کمی اور بیماریوں کے خطرات کو کم کرنا اور بچوں کو صحت مند مستقبل فراہم کرنا ہے۔ انھوں نے تاکید کی کہ عوام میں درست معلومات پہنچا کر ماو¿ں کو بچوں کو اپنا دودھ پلانے کی ترغیب دینا بھی ان پروگرامز کا اہم مقصد ہے۔ صحت مند بچے ہی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ماں کے دودھ کی اہمیت کے بارے میں پیغام ہر گھر تک پہنچایا جائے اور ماو¿ں کو اس حوالے سے مکمل رہنمائی اور تعاون فراہم کیا جائے۔پریس بریفنگ کے دوران والدین اور خصوصاً ماو¿ں پر زور دیا گیا کہ وہ بچوں کی بہتر صحت اور مستقبل کے لیے ماں کے دودھ کی اہمیت کو سمجھیں اور طبی ماہرین کی ہدایات پر عمل کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں