امریکی خبر ایجنسی نے ایرانی حملوں سے تباہ ہونیوالی امریکی تنصیبات کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کردیں

امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے مشرق وسطیٰ میں ایرانی حملوں سے تباہ ہونے والی امریکی تنصیبات کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کرتے ہوئے تجزیہ کیا ہےکہ ایران نے پہلے امریکی فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا، پھر امریکی طیاروں اور عمارتوں کو تباہ کیا۔ایسوسی ایٹڈ پریس نے مختلف سیٹلائٹ کمپنیوں کی تصاویرکی مدد سے امریکی اہداف کو پہنچنے والے نقصان کی آزادانہ طور پر تصدیق کی اور خطے کے چار ایسے حکام سے بھی بات کی جنہیں حملوں میں نشانہ بننے والے مقامات کے بارے میں معلومات دی گئی تھیں یا وہ خود ان نقصانات سے براہ راست واقف تھے۔خبر ایجنسی کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے اگست تک ایران کی جانب سے کیے گئے 115 سے زائد ڈرون اور میزائل حملوں کے نتیجے میں 26 فوجی اڈوں اور دیگر مقامات پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوگئیں۔امریکی خبر ایجنسی نے سیٹلائٹ تصاویر اور ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں تجزیہ کیا ہےکہ ایران نے پہلے امریکی فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا، پھر مشرق وسطیٰ کے فوجی اڈوں پر طیاروں اور عمارتوں کو تباہ کیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں امریکی فوجی سازوسامان کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔امریکی خبر ایجنسی نے ایرانی حملوں سے تباہ ہونیوالی امریکی تنصیبات کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کردیںان حملوں سے مشرق وسطیٰ میں امریکا کی فوجی موجودگی کی صورت حال نمایاں طور پر تبدیل ہو گئی ہے۔ خطے کے دو حکام کے مطابق امریکا نے اپنے بہت سے فوجی اثاثے خلیج کے علاقے سے دوسری جگہ منتقل کر دیے ہیں۔ان میں طیارے، فضائی دفاعی نظام، مواصلاتی نظام اور فوجی اڈوں کو فعال رکھنےکے لیے ضروری دیگر سازوسامان شامل ہیں۔

امریکی خبر ایجنسی کے مطابق اگر دوبارہ جنگ شروع ہوتی ہے تو امریکی فوجی اڈوں کو مزید بھاری مالی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس سے یہ غیر یقینی صورتحال بھی پیدا ہوسکتی ہےکہ جنگ ختم ہونے کے بعد امریکا خطے میں اپنے فوجی اڈوں اور سازوسامان کی دوبارہ تعمیر اور بحالی کا فیصلہ کرےگا یا نہیں۔

امریکی خبر ایجنسی کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ ایران نے زیادہ حملےکویت میں کیے، تاہم بحرین، عراق، اردن، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ایران جنگ کے دوران امریکی فوجیوں پر ہونے والا سب سے ہلاکت خیز معلوم حملہ کویت میں ہوا، جہاں یکم مارچ کو پورٹ شعیبہ میں ڈرون حملےکے نتیجے میں 6 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔

کویت کے علی السالم ائیر بیس پر کم از کم 30 مرتبہ حملے کیےگئے، جن کے نتیجے میں کم از کم 15 طیاروں کے ہینگرز، متعدد گوداموں اور رہائشی علاقے کے قریب واقع 10 عمارتوں کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوگئیں۔

امریکی خبر ایجنسی نے ایرانی حملوں سے تباہ ہونیوالی امریکی تنصیبات کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کردیں
کویت میں واقع کیمپ بوہرنگ کو اس سے بھی زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ایرانی حملوں کے باعث اس کے بیشتر طیاروں کے ہینگرز ناقابل استعمال ہوگئے۔

امریکی خبر ایجنسی نے ایرانی حملوں سے تباہ ہونیوالی امریکی تنصیبات کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کردیں
فروری کے اواخر میں جنگ شروع ہونے کے پہلے دو دنوں کے دوران ایران نے کویت کے کیمپ عارفجان اور بحرین میں نیول سپورٹ ایکٹیویٹی کے مقامات پر امریکی ریڈار نظاموں کو تحفظ فراہم کرنے والی حفاظتی تنصیبات تباہ کر دیں۔

ایران نے سعودی عرب کے پرنس سلطان ائیر بیس اور اردن کے موفق السلطی ایئر بیس پر نصب موبائل ریڈار نظاموں کو بھی نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ اردون اور قطر میں بھی ریڈار کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی خبر ایجنسی نے ایرانی حملوں سے تباہ ہونیوالی امریکی تنصیبات کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کردیں
مارچ میں سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ایرانی حملے سے بوئنگ کے ای تھری سینٹری نگرانی کرنے والے طیارے کا پچھلا حصہ تباہ ہوگیا، فوٹو: اے پی
ریڈار نظاموں کو نشانہ بنانے کے بعد ایران نے جنگ کے پہلے مہینے میں امریکی فوجی سازوسامان رکھنے والے 18 مقامات پر 50 سے زیادہ کامیاب حملے کیے۔ ان حملوں میں ایسے مقامات کو ترجیح دی گئی جہاں طیارے موجود تھے۔

کانگریشنل ریسرچ سروس کی اکتوبر میں اپ ڈیٹ کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق، مشرق وسطیٰ کے امریکی فوجی اڈوں پر مجموعی طور پر 15 امریکی طیاروں کو نقصان پہنچا تھا۔

امریکی خبر ایجنسی نے ایرانی حملوں سے تباہ ہونیوالی امریکی تنصیبات کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کردیں
شروع ہونے کے پہلے دو دنوں کے دوران ایران نےبحرین میں نیول سپورٹ ایکٹیویٹی کے مقامات پر امریکی ریڈار نظاموں کو تحفظ فراہم کرنے والی حفاظتی تنصیبات تباہ کر دیں، فوٹو: اے پی
متحدہ عرب امارات میں ابوظہبی سے تقریباً 20 میل جنوب میں واقع الظفرہ ائیر بیس کو بھی جنگ کے ابتدائی دنوں میں بار بار نشانہ بنایا گیا۔

ماہر دفاعی امور رافیل کوہن کے مطابق آج کے دور میں جنگ لڑنےکے طریقوں نے دنیا کی تمام افواج کو بڑے پیمانے پرکیے جانے والےکم لاگت ڈرون حملوں کے سامنے غیر محفوظ بنا دیا ہے، یہ امریکا کے لیے وارننگ ہونی چاہیے۔

خبر ایجنسی کے مطابق امریکی حکام کی درخواست پر امریکا کے ساتھ معاہدے رکھنے والی بڑی سیٹلائٹ کمپنیوں نے سیٹلائٹ تصاویر کی عوامی اشاعت روک دی یا اس میں تاخیر کی۔امریکی حکام نے بعض مواقع پر ان تصاویر کی اشاعت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں