ملک کے مضبوط دفاع کے لیے ہمیں اس ملک کی معیشت کو ناقابل تسخیر بنانا ہوگا،احسن اقبال

نارووال۔۔۔۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی،ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملک کے مضبوط دفاع کے لیے ہمیں اس ملک کی معیشت کو ناقابل تسخیر بنانا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم دفاع پاکستان کے موقع پر گورنمنٹ ہائی سکول نارووال میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاآج کا دن دفاع وطن کی تاریخ کا روشن دن ہے۔6ستمبر کے دن ہمارے شہدا نے وطن عزیز کی آزادی کے دفاع کی خاطر اپنی جان کے نذرانے پیش کیے۔احسن اقبال نے کہا کہ اگر اندرونی سلامتی کا محاذ کمزور ہوجائے تو ان ملکوں کا جغرافیہ بدل جاتا ہے۔یوم دفاع ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ملک کا دفاع قوم کے جذبوں کے بغیر ادھورا رہتا ہے۔میں دفاع وطن کی خاطر اپنی جانون کے نذرانے پیش کرنے والے شہدا کے جذبات کوسلام پیش کرتا ہوں۔شہید نہ صرف اپنی جان کی قربانی دیتا ہے بلکہ وہ اپنے خاندان کی خوشیوں کو دفاع وطن پر لوٹاتا ہے۔آج کے دن ہم دفاع وطن کے شہدا کے خاندانوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔آج کی جنگ روایتی جنگوں سے بہت مختلف ہے۔آج کی جنگ اسلحہ کی بجائے معیشت اور ماڈرن ٹیکنالوجی کے میدان میں لڑی جارہی ہے۔احسن اقبال نے کہاآج کے آلات حرب میں سائبر سکیورٹی،اے۔آئی،کوانٹم کمپیوٹنگ سمیت سپیس ٹیکنالوجی بھی شامل ہے۔مئی 2025 میں دشمن نے غلط اندازہ لگاتے ہوئے رات کے اندھیرے میں پاکستان پر حملہ کیا تو دنیا نے دیکھا کہ اس کا جواب پاکستان نے ایسے دیا کہ ہندوستان گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گیا۔دشمن کے مہنگے اور جدید ترین جہاز چڑیوں کی طرح گرا دئیے گئے۔ایک جدید ریاست فرسودہ ٹیکنالوجی اور کمزور معیشت پر زیادہ دیر کھڑی نہیں رہ سکتی۔آج کے دن کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم دورجدید کے تقاضوں کے مطابق دفاع وطن کو مضبوط بنائیں۔انہوں نے کہا کہ 21ویں صدی میں تعلیم،ٹیکنالوجی اور معاشی میدان میں انویشن مضبوط دفاع کی ضامن ہیںہمیں اپنی صلاحیتوں کے مطابق اپنے آپ کو تعمیر وطن اور دفاع پاکستان کا سپاہی بنانا ہوگا۔ہر شہری جو اپنے فرض کی ادائیگی کرتا ہے وہ دفاع پاکستان کی مضبوط بنیادوں پر استوار کررہا ہے۔ہمیں اپنی صفوں سے انتشار اور بدامنی کو ختم کرنا ہوگا۔آج کے دور میں ملکوں کو غلط بیانیے کی جنگ کا بھی سامنا ہے۔اساتذہ کا یہ فرض ہے کہ وہ بچوں کی تربیت کریں کہ وہ نفرت کے بیانیے پر کان نہ دھریں۔ہمیں بحیثیت قوم خود کو متحد رکھنا ہوگا۔راویتی جنگ میں شکست فاش کے بعد ہندوستان دوبارہ راویتی جنگ کا کبھی سوچ بھی نہیں سکے گا۔احسن اقبال نے کہا کہ راویتی جنگ میں ناکامی کے بعد اب ہمارا دشمن اب پاکستان میں سیاسی اور سماجی بدامنی پیدا کررہاہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان قیام امن کے نتیجے میں آج دنیا میں پاکستان کی تعریف کی جارہی ہے۔2027 میں ایس۔سی۔او کا اجلاس پاکستان میں ہونے جارہا ہے جو سفارتی میدان میں پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔پاکستان کے مضبوط دفاع کی کنجی 25 کروڑ عوام کے ہاتھ میں ہے۔آج ہمیں یہ عزم کرنا چاھیے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو قرضوں کے بھوج تلے دبنے نہیں دیں گے۔اپنی تنخواہ کو حرام ہونے سے بچائیں۔تعلیم واحد شعبہ ہے جس میں ہم اپنے اساتذہ کو پرائیویٹ سیکٹر سے بہت بہتر تنخواہ دے رہے ہیں۔سرکاری سکولوں کے بچوں کے نتائج اگر پرائیویٹ سیکٹر سے برے ہیں تو ہمارے اساتذہ کو سوچنا ہوگا کہ کیا وہ اپنا رزق حلال کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں