کراچی ۔۔—-۔آفریدی کا پانچ روزہ دورہ سندھ تیسرے روز بھی جاری رہا، ان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کی اسٹریٹ موبلائزیشن اور عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں قافلہ نوشہروفیروز سے نوابشاہ، سانگھڑ، میرپورخاص اور عمرکوٹ پہنچا۔قافلے میں پی ٹی آئی کے مرکزی، صوبائی اور سندھ کے رہنما جن میں سیکریٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ، صدر پی ٹی آئی سندھ حلیم عادل شیخ، صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر، مینا خان آفریدی، شفیع جان، عامر ڈوگر، عادل بازئی، ڈاکٹر مسرور سیال اور مشتاق جونیجو سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔نوابشاہ میں اسٹریٹ موومنٹ ریلی کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا کہ نوابشاہ کے عوام کا جوش اس بات کا ثبوت ہے کہ سندھ کا سیاسی منظرنامہ بدل چکا ہے۔ دہائیوں سے سندھ کو پیپلز پارٹی کی سیاسی جاگیر قرار دینے کا بیانیہ عوام نے مسترد کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ زرداری ماضی بن چکے ہیں اور سندھ میں خاندانی سیاست کا دور ختم ہونے جارہا ہے۔ جو لوگ اپنے بیٹوں، بیٹیوں اور رشتہ داروں کو اقتدار منتقل کرتے ہیں وہ عوامی لیڈر نہیں بلکہ خاندانی سیاست کے نمائندے ہیں۔ قیادت عوام کے درمیان سے جنم لیتی ہے، پیراشوٹ سے اترنے والے لوگ عوامی لیڈر نہیں بن سکتے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان نے انہیں عوام میں سے منتخب کیا، وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور عام پاکستانی کی طرح رکشوں اور ٹیکسیوں میں سفر کرتے رہے ہیں۔ ہم عوام سے آئے ہیں اور عوام ہی میں واپس جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کسی ایک صوبے کے نہیں بلکہ پاکستان کے ہر طبقے اور خطے کے لیڈر ہیں۔ وہ ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ پاکستانی عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کا نظریہ جیل میں قید نہیں کیا جاسکتا اور ان کا پیغام آج بھی عوام میں موجود ہے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تین ججوں کے حکم کے باوجود انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ عدالتی حکم کے باوجود عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدالت کے حکم کی بھی کوئی حیثیت نہیں تو عام پاکستانی کو انصاف کہاں سے ملے گا؟سہیل آفریدی نے کہا کہ 27 ستمبر کی کال کسی ایک جماعت کے لیے نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے اپنے حقوق کے لیے ہے۔ 27 ستمبر کو سندھ سمیت پورا پاکستان اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہوگا، گولیاں، جیلیں اور ظلم عوام کے جذبے کو شکست نہیں دے سکتے۔پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ بھر میں پی ٹی آئی کی مقبولیت دیکھ کر پیپلز پارٹی بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ پی ٹی آئی سندھ کے عوام کو ان کے حقوق دلوانے کے لیے میدان میں نکل چکی ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 18 سال کے دوران سندھ حکومت کو ملنے والی رقم کا مناسب حصہ بھی اگر صوبے کی ترقی پر خرچ کیا جاتا تو سندھ کے شہروں کے حالات اتنے خراب نہ ہوتے۔ سندھ میں معیاری تعلیم، بنیادی صحت، بہتر سڑکوں سمیت شہریوں کو بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپنی نااہلی اور مبینہ کرپشن چھپانے کے لیے فیس سیونگ کی سیاست کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ سندھ کی تقسیم کی مخالفت کی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔انہوں نے کراچی میں پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاری کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ 150 سے زائد کارکنوں کو گھروں سے بلاجواز اٹھایا گیا، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ پرامن عوامی اجتماعات کرنا ہر پاکستانی شہری کا آئینی حق ہے، گرفتار کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ 6 ستمبر کو کراچی میں میدان سجے گا اور کراچی کے عوام اپنے مہمانوں کا بھرپور استقبال کریں گے۔پی ٹی آئی سندھ کے ترجمان محمد علی بلوچ نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا قافلہ پہلے روز کموں شہید سے گھوٹکی، کشمور اور کندھکوٹ سے ہوتا ہوا جیکب آباد پہنچا، دوسرے روز جیکب آباد، شکارپور، قمبر شہدادکوٹ، گڑھی یاسین اور لاڑکانہ میں عوامی رابطہ کیا گیا، جبکہ رانی پور کے راستے نوشہروفیروز پہنچنے پر کارکنوں اور عوام نے استقبال کیا۔انہوں نے بتایا کہ تیسرے روز قافلہ نوشہروفیروز، نوابشاہ، سانگھڑ، میرپورخاص اور عمرکوٹ پہنچا، جبکہ 6 ستمبر کی شام قافلہ کراچی ٹول پلازہ، سہراب گوٹھ، لیاقت آباد اور گرو مندر سے ہوتا ہوا شاہراہ قائدین پہنچے گا، جہاں عوام سے خطاب کیا جائے گا۔محمد علی بلوچ کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا پانچ روزہ دورہ سندھ 7 ستمبر کو کراچی میں اختتام پذیر ہوگا۔ وہ 7 ستمبر کو سندھ ہائی کورٹ بار میں وکلا سے خطاب کریں گے، جس کے بعد سندھ کا دورہ مکمل کرکے اسلام آباد روانہ ہوں گے۔
زرداری ماضی بن چکے، سندھ میں خاندانی سیاست کا دور ختم ہونے جارہا ہے، سہیل آفریدی
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل