لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ نئے صوبے بنانے کے معاملہ پر ایک اتفاق رائے قائم کرنا ہوگا، سندھ اسمبلی میں جو پیپلزپارٹی نے اچھل کود کی وہ قابل مذمت ہے، کوئی سندھو دیش قابل قبول نہیں کوئی بھی میلی آنکھ سے دیکھے گا تو برداشت نہیں کریں گے،مطالبات نہ مانے گئے توپہیہ جام اور شٹر ڈاﺅن ہڑتال کر ینگے ، پیٹرول پمپس بند کیے جائیں گے اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ ہوگا ، حکومت گراﺅ تحریک کی طرف جائیں گے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے لاہور میں فیصل چوک مال روڈ پر دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کا دھرنا 22ویں روز میں داخل ہو گیا ہے، جبکہ عوام کو ریلیف دلانے کے مطالبے کے لئے ملک بھر میں جاری دھرنوں کی تعداد 30 سے تجاوز کر گئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ تعلیم اور صحت سمیت ہر شعبہ مہنگائی کی لپیٹ میں آچکا ہے، وزیراعظم بتائیں کہ لیوی کی مد میں عوام سے وصول کیے گئے پیسے کہاں گئے؟۔نہوں نے کہا کہ حکومت اپنی نااہلی چھپانے کےلئے قوم کی جیبوں سے نکالا گیا پیسہ خرچ کر رہی ہے، جبکہ حکمران عوام کو ریلیف دینے کے بجائے اپنی عیاشیوں میں مصروف ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ بہت جلد ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی کال دی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوام کو ریلیف نہ دیا گیا تو جماعت اسلامی لانگ مارچ کی طرف بھی جائے گی۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کے ساتھ آج (پیر کو) ہونے والے مذاکرات کے لیے ان کی ٹیم پوری طرح تیار ہے، تاہم اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو حکومت گراﺅ تحریک کی طرف جانے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے ملک بھر میں جاری لوڈشیڈنگ کو حکومت کی بدترین نااہلی کا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی حکومت کی ذمے داری ہے۔انہوں نے پٹرولیم لیوی کو جگا ٹیکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں تقریبا 130 روپے ٹیکس شامل ہے، جس میں حکومت براہ راست 105 روپے سے زائد وصول کررہی ہے۔ شہباز شریف حکومت نے چار ہزار ارب روپے سے زائد پٹرولیم لیوی وصول کی، حکومت بتائے یہ رقم کہاں خرچ کی گئی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ قوم کو 6 ستمبر مبارک ہو اور جماعت اسلامی افواج پاکستان کی ان قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جو وہ ملک کے دفاع کےلئے دیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افواج اور عوام کے درمیان اتحاد اس وقت متاثر ہوتا ہے جب آئینی حدود سے تجاوز کیا جائے۔ اداروں کو اپنے اپنے آئینی دائرہ کار میں کام کرنا چاہیے۔ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے لیے احتجاج جاری رکھے گی اور حکومت کے پاس مطالبات تسلیم کرنے یا تحریک کا سامنا کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو سندھ سے غرض ہے سندھیوں سے کوئی غرض نہیں، اگر محبت ہوتی تو سندھیوں کو پڑھاتے، پیپلزپارٹی والے رہتے دبئی میں اور بچے یورپ میں پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے، کراچی میں ٹی ایم اوز سیکرٹری ٹریفک پولیس سمیت تمام محکموں میں اردو بولنے والے نہیں ہیں سب سندھی ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیپلزپارٹی والے جمہوریت دشمن ہیں، زمینوں کو لوٹ مار کر لاڑکانہ میں کارخانہ لگاتے لیکن یہ سارے پیسے دبئی اور لندن لے جاتے ہیں۔ بلاول نے اسکول کے بچوں کے ساتھ تصویر بنوائی تو بچوں کے بال مٹی میں اٹے تھے اور پاﺅں میں ٹوٹی ہوئی جوتی تھی، بلاول سات لاکھ کے جوتے پہن کر ان کا مذاق اڑاتے رہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ فریال تالپور کہتی ہیں کہ وہ مشرف دور میں نواب شاہ کی ضلعی ناظم تھی، بے شرمی کی انتہا ہے، مشرف دور کا نظام ان کے دور کے نظام سے ہزار گنا بہتر تھا، مشرف جیسے ڈکٹیٹر نے لوکل سطح پر بہترین نظام دیا، جمہوریت کی چیمپئن پیپلزپارٹی نے سندھ پر قبضہ کر لیا ہے پھر کہتے ہیں بے نظیر کو کیا جواب دیں گے، جب پیپلزپارٹی والوں کا بے نظیر سے سامنا ہوگا تو بتا دینا کہ ہم نے ہاریوں کو تباہ کیا، سندھ کو اجاڑ دیا تھا، لوگوں کو تعلیم سے دور رکھا۔
نئے صو بوں پر اتفاق رائے قائم کرنا ہوگا، سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی اچھل کود کی وہ قابل مذمت ہے،حافظ نعیم
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل