لورالائی(خ ن)ماں اور بچے کی صحت سے متعلق شعور اجاگر کرنے اور خواتین کو دورانِ حمل و زچگی ضروری طبی احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنے کے لیے لورالائی میں آگاہی مہم کے سلسلے میں ایک اہم ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ کے مہمانِ خصوصی اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم تھے، جبکہ کوآرڈینیٹر ایم ایم سی ایچ خیر محمد سمیت متعلقہ محکمہ صحت کے حکام اور دیگر شرکاءنے بھی شرکت کی ورکشاپ کا مقصد ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے عوامی آگاہی کو فروغ دینا، خواتین کو حمل سے قبل، دورانِ حمل اور بچے کی پیدائش کے بعد ضروری طبی نگہداشت اور احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنا تھا ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد صحت مند ما¶ں اور بچوں پر قائم ہوتی ہے، لہٰذا خواتین کی صحت اور بچوں کی بروقت نگہداشت کو ترجیح دینا انتہائی ضروری ہے۔ شرکاءکو بتایا گیا کہ حمل سے قبل خواتین کو اپنی صحت کا مکمل معائنہ کروانا چاہیے اور کسی بھی بیماری یا طبی پیچیدگی کی صورت میں مستند ڈاکٹر سے بروقت رجوع کرنا چاہیے مقررین نے متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دورانِ حمل مناسب غذا، باقاعدہ طبی معائنہ اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل ماں اور بچے دونوں کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ حاملہ خواتین کو باقاعدگی سے قریبی ہسپتال یا بنیادی صحت مرکز کا دورہ کرنا چاہیے تاکہ کسی بھی ممکنہ طبی پیچیدگی کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن بنایا جا سکے ورکشاپ کے دوران نومولود بچوں کی صحت اور نگہداشت کے حوالے سے بھی تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی۔ مقررین نے کہا کہ بچے کی پیدائش کے بعد مناسب غذائیت، صفائی ستھرائی، بروقت حفاظتی ٹیکہ جات اور باقاعدہ طبی نگرانی بچے کی صحت مند نشوونما میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ساتھ ہی زچگی کے بعد ماں کی صحت، مناسب آرام اور غذائیت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیااس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر لورالائی ندیم اکرم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت کسی بھی معاشرے کی مجموعی ترقی اور خوشحالی سے براہِ راست منسلک ہے۔ خواتین کو صحت سے متعلق بروقت اور درست معلومات کی فراہمی کے ذریعے متعدد بیماریوں اور پیچیدگیوں سے بچا¶ ممکن بنایا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ دیہی اور دور دراز علاقوں میں صحت سے متعلق آگاہی کی سرگرمیوں کو مزید م¶ثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہر خاتون اور بچے کو بنیادی طبی سہولیات اور ضروری رہنمائی تک رسائی حاصل ہو سکے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں اور محکمہ صحت کے حکام پر زور دیا کہ عوامی آگاہی کے پروگراموں کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک صحت سے متعلق مفید معلومات پہنچائی جائیں آخر میں مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ اور عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے آگاہی مہمات اور تربیتی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ ایک صحت مند، محفوظ اور باشعور معاشرے کے قیام میں م¶ثر کردار ادا کیا جا سکے۔
دیہی اور دور دراز علاقوں میں صحت سے متعلق آگاہی کی سرگرمیوں کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے، ندیم اکرم
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل