کوئٹہ…..گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی صوبے کا سب سے بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کیلئے زراعت اور دیگر معاشی شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہے۔ نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں کے متلاشی ہونے کی بجائے دوسروں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے قابل بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تقریب کے دوران وزیراعظم یوتھ لیپ ٹاپ پروگرام کے تحت طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے جبکہ گورنر بلوچستان نے یونیورسٹی میں جدید ڈیجیٹل ای لائبریری کا افتتاح بھی کیا۔ انہوں نے ای لائبریری کو ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل وسائل تک رسائی نوجوانوں میں فکری وسعت، ریسرچ اور علم کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی۔ گورنر بلوچستان نے ان خیالات کا اظہار بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (BUMHS) کوئٹہ کے زیرِ اہتمام نئے داخل ہونے والے طلباء و طالبات کے اعزاز میں منعقدہ اورنٹیشن اور وائٹ کوٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، وائس چانسلر ڈاکٹر شبیر لہڑی، فیکلٹی ممبرز، طلباء و طالبات اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ ماضی میں اکیڈمک ڈگریوں کی اہمیت زیادہ تھی تاہم موجودہ دور میں پریکٹیکل مہارتوں اور اسکلز ڈیولپمنٹ کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ پروفیشنل اور ٹیکنیکل کورسز مکمل کرنے والے نوجوان اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک بہتر روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ نوجوانوں کیلئے جاپان، چین اور دیگر ممالک میں اسکالرشپ کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ انہوں نے پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی مالی معاونت میں موجودہ حکومت اور صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ سرکاری یونیورسٹیز کو درپیش مشکلات کے حل اور تعلیمی معیار کی بہتری کیلئے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ سینیٹ اور سنڈیکیٹ جیسے ادارے یونیورسٹیوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ ان میں شامل انتہائی پڑھے لکھے تجربہ کار اور ماہرین اور سینئر شخصیات اپنی اعلیٰ بصیرت اور اجتماعی دانش سے تعلیمی اداروں کو کامیابی کی راہ پر گامزن کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی بہتری کیلئے کی جانے والی انتھک کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آچکے ہیں اور سرکاری یونیورسٹیوں کی رینکنگ اور اسکورنگ میں ڈبل اضافہ ہوا ہے۔گورنر بلوچستان نے پروفیسرز اور پی ایچ ڈی اسکالرز کی مستقل تعیناتی پر پابندی کے باعث 100 سے زائد پی ایچ ڈی اسکالرز کے صوبہ چھوڑنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سینئر پروفیسرز اور ریسرچرز کو جاب سیکورٹی اور مناسب معاوضہ فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس مسئلے کے پائیدار حل کیلئے صوبائی کابینہ کی منظوری اور باہمی مشاورت سے جلد اقدامات کیے جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ بعض مستحق طلبہ مالی مشکلات اور فیس ادائیگی کی استطاعت نہ رکھنے کے باعث اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے وائس چانسلر ڈاکٹر شبیر لہڑی کو مستحق طلبہ کی فیسوں میں رعایت دینے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ فیس کم کرنے اور طلبہ کو تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے حامی رہے ہیں۔صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا دور ہے تاہم انسان خود اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ ایک عظیم آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو مختلف بحرانوں سے نکالنے میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا خصوصی تعاون حاصل رہا ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل لائبریری کے قیام کی کوششوں کو بھی سراہا۔وائس چانسلر ڈاکٹر شبیر لہڑی نے کہا کہ آج ہم سب کیلئے فخر اور اعزاز کا دن ہے کیونکہ بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز نے بیک وقت کئی اہم سنگِ میل عبور کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل کی ہدایات پر شروع کیے گئے شارٹ اور لانگ پروفیشنل کورسز کیلئے اب تک 20 ہزار درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جو صوبے کی تمام یونیورسٹیوں کی تاریخ میں ایک منفرد کامیابی ہے۔ تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جدید تعلیم، ڈیجیٹل سہولیات، پریکٹیکل مہارتوں اور مالی معاونت کے ذریعے بلوچستان کے نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائیگا تاکہ وہ نہ صرف اپنے مستقبل کو روشن کر سکیں بلکہ صوبے کی معاشی ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کریں۔
نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی صوبے کا سب سے بڑا چیلنج ہے،گورنر بلوچستان
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل