معروف اردو ادیب مرحوم نسیم انہونوی کے ناول ”نجمْ السَّحر کی تقریب رونمائی

کراچی(پ ر)معروف اردو ادیب مرحوم نسیم انہونوی کے ناول ”نجمْ السَّحر“ کی نئی اشاعت کی تقریبِ رونمائی آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جوش ملیح آبادی لائبریری میں منعقد ہوئی، جس میں شہر کی ممتاز ادبی، سماجی اور ثقافتی شخصیات، اہلِ قلم اور مختلف خاندانوں سے تعلق رکھنے والے احباب نے بھرپور شرکت کی یہ محض ایک کتاب کی رونمائی نہیں بلکہ لکھنؤ کی تہذیب، خاندانی محبت، دیرینہ رشتوں اور تقریباً ستر برس پر محیط ایک ایسی داستان کا جشن تھا جس نے دو خاندانوں اور کئی نسلوں کو ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے کے قریب کر دیاتقریب کی صدارت ممتاز صحافی، شاعر اور ادیب محمود شام نے فرمائی، جبکہ صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی محمد احمد شاہ مہمانِ خصوصی تھے معروف قانون دان بیرسٹر شاہدہ جمیل اور اس پوری داستان کی مرکزی شخصیت محترمہ نجمْ السَّحر مسعود نے مہمانانِ اعزازی کی حیثیت سے شرکت کی اس ناول کی دوبارہ اشاعت کے پس منظر میں محبت اور یادوں کی ایک نہایت دلچسپ داستان پوشیدہ ہے کئی دہائیاں قبل مرحوم سید مسعود شاہ نے اپنی شریکِ حیات نجمْ السَّحر مسعود صاحبہ کو انہی کے نام سے منسوب ناول ”نجمْ السَّحر“ تحفے میں دیا تھا، جس کے حاشیوں پر اپنے ہاتھ سے محبت بھرے جملے بھی تحریر کیے تھے وقت گزرنے کے ساتھ یہ یادگار نسخہ گم ہو گیا، مگر برسوں بعد نجمْ السَّحر صاحبہ کی اسے دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش نے ایک غیر معمولی جستجو کو جنم دیالکھنؤ میں ان کی عزیزہ حنا بیگ کی کوششوں اور مصنف نسیم انہونوی کے خانوادے، بالخصوص ان کی صاحبزادی نجمْ السَّحر اور صاحبزادے فہیم انہونوی کے تعاون سے بالآخر ناول کا ایک قدیم نسخہ دستیاب ہوایہ کتاب لکھنؤ سے دبئی اور پھر کراچی پہنچی، جہاں اسے دوبارہ شائع کرنے کا اہتمام کیا گیاناول کی نئی اشاعت میں حمزہ وصی اور ان کے ادارے ابنِ وصی پرنٹرز اینڈ پبلشرز نے اہم کردار ادا کیا اور کتاب کی اصل ادبی و تہذیبی شناخت برقرار رکھتے ہوئے اسے نئی نسل کے قارئین کے لیے خوبصورت انداز میں پیش کیاتقریب میں ممتاز ادیبہ ڈاکٹر فاطمہ حسن، معروف اہلِ قلم اخلاق احمد اور کیپٹن فرید مسعود نے اظہارِ خیال کیا، جبکہ نظامت کے فرائض عمیر احمد خان نے انجام دیے مقررین نے ناول کی ادبی اہمیت، لکھنؤ کی تہذیبی روایات، کتاب کی بازیافت اور اس کے پس منظر میں موجود محبت اور خاندانی وابستگی کو اجاگر کیاتقریب کے حسنِ انتظام میں ڈاکٹر فاطمہ حسن، ان کی معاون سمیرا جیا اور آرٹس کونسل کی انتظامیہ کی خدمات کو خصوصی طور پر سراہا گیااس موقع پر اردو طنز و مزاح کے عظیم نثر نگار مرحوم مشتاق احمد یوسفی کے خانوادے کی نمائندگی، بالخصوص ان کی بہو وسیمہ یوسفی کی شرکت، اور دیگر ممتاز علمی و ادبی خاندانوں کی موجودگی نے نشست کو مزید وقار اور اپنائیت بخشی تقریب میں مرچنٹ نیوی کے سینئر افسران، نوجوان بحری افسران، اہلِ صحافت، اہلِ ادب اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی شریک ہوئیں اس موقع پر ناول کی دوبارہ اشاعت کے محرک کیپٹن فرید مسعود، چیئرمین دی ناٹیکل انسٹی ٹیوٹ پاکستان برانچ نے اپنے بعد از تقریب تاثرات میں کہا کہ یہ محض ایک پرانی کتاب کی بازیافت نہیں بلکہ ان محبتوں، یادوں اور خاندانی رشتوں کی تجدید ہے جو وقت اور فاصلے کے باوجود قائم رہے انھوں نے اس پورے سفر کو نہایت خوبصورتی سے یوں سمیٹا”کتاب تو ایک ہی ڈھونڈنے نکلے تھے، مگر راستے میں محبتوں کا پورا خاندان مل گیا۔‘یہ یادگار ادبی نشست مرحوم نسیم انہونوی صاحب اور سید مسعود شاہ صاحب کی یادوں، محبتوں اور لکھنؤ کی شائستہ تہذیبی روایت کو ایک خوبصورت خراجِ عقیدت تھی”نجمْ السَّحر“ کی دوبارہ اشاعت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ کتابیں محض اوراق کا مجموعہ نہیں ہوتیں۔ بعض کتابیں نسلوں کے درمیان رابطے، بچھڑے رشتوں کی پہچان اور محبتوں کی ایسی امانت بن جاتی ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود اپنی خوشبو برقرار رکھتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں