معاشرے کی پائیدار ترقی اور روشن مستقبل کے لیے نوجوان نسل کی مناسب رہنمائی اور معیاری تعلیم ناگزیر ہے، میر ظہو ربلیدی

تربت(خ ن) صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ معاشرے کی پائیدار ترقی اور روشن مستقبل کے لیے نوجوان نسل کی مناسب رہنمائی اور معیاری تعلیم ناگزیر ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ان کی روزمرہ مصروفیات اور صحبت پر بھی توجہ دیں، انہیں مثبت اور تعمیری ماحول فراہم کریں اور مستقبل کے بہتر مواقع سے ہمکنار کرنے کے لیے ان کی بھرپور رہنمائی کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ شہید ایوب بلیدی ڈگری کالج بلیدہ میں منعقدہ تعلیمی کانفرنس سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا، جس میں اساتذہ، طلبہ، ضلعی انتظامیہ کے افسران اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں دیرپا مسائل کا حل طاقت کے بجائے سیاسی، سماجی اور تعمیری ذرائع سے تلاش کرنا زیادہ مو¿ثر ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں طویل عرصے تک جاری رہنے والے تنازعات نے انسانی جانوں اور معاشروں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے، اس لیے نوجوانوں کو ایسے حالات سے محفوظ رکھتے ہوئے انہیں تعلیم، ہنر اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ نوجوان اپنی توانائیاں تعلیم اور مستقبل کی تعمیر میں صرف کریں، کیونکہ کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی اس کی نئی نسل کے بہتر اور تعمیری مستقبل سے وابستہ ہوتی ہے۔ والدین اور معاشرے کے تمام طبقات کو بھی نوجوانوں کی مثبت رہنمائی اور ان کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان میں تعلیم کے شعبے میں بتدریج بہتری آرہی ہے، تاہم اب بھی کئی علاقوں میں معیاری تعلیمی سہولیات اور مواقع کی کمی ہے، جس کے ازالے کے لیے مو¿ثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید ایوب بلیدی ڈگری کالج بلیدہ اب درست سمت میں گامزن ہے اور فیمیل ایجوکیشن کے فروغ کے لیے بھی مثبت پیش رفت ہورہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بلیدہ میں گرلز کالج کے قیام کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے فروغ میں حکومت کے ساتھ ساتھ والدین، اساتذہ اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ نوجوان نسل کو جدید تقاضوں کے مطابق تیار کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ سائنس و ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے پیش نظر تعلیمی نظام کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا اور بچوں کو تعلیم کے ساتھ مثبت و تعمیری سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر کالجز مکران ڈویژن پروفیسر برکت اسماعیل نے کہا کہ تعلیمی شرح کے لحاظ سے مکران ڈویڑن پاکستان میں ساتویں نمبر پر ہے، جبکہ بلیدہ کے علاقے میں شرح خواندگی کیچ کے دیگر علاقوں کی نسبت بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور کے تقاضے تبدیل ہوچکے ہیں، اس لیے بچوں کو محض رٹہ لگوانے کے بجائے سوچنے، سوال کرنے اور تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم انسان کو ایک ذمہ دار شہری بناتی ہے اور تعلیمی ترقی صرف اساتذہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین اور معاشرے کے تمام طبقات کو بھی اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ انہوں نے صوبائی وزیر سے بلیدہ میں گرلز کالج کے قیام اور منظوری کے لیے عملی اقدامات کی درخواست بھی کی۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد نے تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی کی خدمات اور کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اصل سرمایہ کاری تعلیم ہے، جس کے ذریعے ایک بہتر، باصلاحیت اور خوشحال مستقبل کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض اخلاص اور دیانت داری سے انجام دیتے ہوئے نئی نسل کو معیاری تعلیم فراہم کریں۔ شہید ایوب بلیدی ڈگری کالج بلیدہ کے پرنسپل پروفیسر الٰہی بخش نے کالج کی تعلیمی و ترقیاتی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کالج میں اس وقت 750 سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں، جبکہ 8 کروڑ روپے کی لاگت سے آئی ٹی حب کی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کالج میں فٹ سال، چار دیواری، ٹیچرز لاج اور مسجد سمیت مختلف منصوبوں کے لیے فنڈز فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ طلبہ کے اسٹڈی ٹور کے لیے بھی 15 لاکھ روپے فراہم کیے گئے تھے۔کانفرنس کی صدارت شہید ایوب بلیدی ڈگری کالج بلیدہ کے پرنسپل پروفیسر الٰہی بخش نے کی، جبکہ ڈویڑنل مانیٹرنگ آفیسر کالجز مکران ڈویژن پروفیسر برکت اسماعیل، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ امجد شہزاد، اسسٹنٹ کمشنر بلیدہ ابوبکر میروانی، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بلیدہ ممتاز بلیدی، میونسپل کمیٹی بلیدہ کے چیئرمین اسلام بہادر بلیدی، اساتذہ، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت مولانا عبدالوکیل نے حاصل کی، جبکہ اختتام پر سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے شرکاءکے مختلف سوالات کے جوابات دیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں