حب:پاکستان پیپلزپارٹی کے صوبائی سینئر نائب صدر و ترجمان صدر آصف علی زرداری برائے بلوچستان میر علی حسن زہری نے کہا ہے کہ حب کے لئے اربوں روپے کے منصوبے لائے ہیں ،وہ کسی پر احسان نہیں کیا بلکہ عوام کا ہم پر احسان ہے جو آپ ہمیں اپنے ووٹ سے منتخب کرکے اسمبلی بھیجتے ہیں ، حب میں چھ ارب روپے کے ماسٹر پلان کے تحت مختلف منصوبے چل رہے ہیں، پورے شہر کو اکھاڑ کر رکھ دیا مگر بدقسمتی سے ابھی تک صوبائی حکومت سے صرف ڈیڑھ ارب روپے ملے ،ساکران میں پانچ ارب روپے کا کیڈٹ کالج لایا ہوں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ساکران حسن پیر حاجی عطاءمحمد مینگل گوٹھ میں پیپلزپارٹی ساکران کے رہنماءعزیز مینگل کی جانب سے شمولیت کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جلسے سے پیپلزپارٹی کے دیگر رہنماﺅں نے بھی خطاب کیا، جلسے سے خطاب کرتے ہوئے میر علی حسن زہری نے کہا کہ بلوچستان میں مواصلاتی نظام کی مضبوطی میں ایف ڈبلیو او کا اہم کردار ہے ،ایسے میں وزیر اعلیٰ کا ایف ڈبلیو او کے خلاف تقریر کرنا باعث تشویش ہے ،بلوچستان کی سڑکوں کی تعمیر میں ایف ڈبلیو او کے شہداءکا خون شامل ہے ہرکسی کو معلوم ہے کہ بلوچستان میں کن حالات سے ایف ڈبلیو او مواصلات کے نظام کو بہتر بنانے میں مصروف عمل ہے۔ایف ڈبلیو او کے ایک پرانے منصوبے کو جواز بنا کر ادارے پر تنقید سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ ایف ڈبلیو او اس وقت ہے،کٹھن حالات میں بھی حب سے چمن تک قومی شاہراہ کی تعمیر میں مصروف عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ساکران میں لوگوں کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کر خوشی ہورہی ہے کہ چالیس سال سے یہاں حکمرانی کرنے والوں کے علاقے میں جلسہ کررہا ہوں ،شاید انہوں نے خود بھی اس علاقے میں اتنا بڑا جلسہ نہیں کیا ہوگا ۔انہوں سابق رکن قومی اسمبلی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں جو بھی عوام کے لئے منصوبہ لاتا ہوں اس پروہ اسٹے لیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میں جو منصوبے لارہا ہوں وہ عوام کے لئے ہیں ، اربوں روپے کے منصوبے کسی پر احسان نہیں بلکہ عوام کا ہم پر احسان ہے جو ہمیں اپنے ووٹ سے منتخب کرکے ایوانوں تک پہنچاتے ہیں۔ میں وعدہ کرتا ہوں جب تک زندہ ہوں ایم پی اے رہوں یا نہ رہوں آپ لوگوں کی خدمت جاری رکھوںگا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں 21اسکولوں کا کام جاری ہے جبکہ 70کے قریب ایسے اسکول ہیں جو خستہ حال ہیں انکی مرمت کاکام جاری ہے اور متعدد اسکولز میں فرنیچر سمیت دیگر ضروری سامان فراہم کیا ۔تعلیم پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں ،گزشتہ روز گڈانی اور وندر کی دور دراز بچیوں کو اسکولز پہنچانے کے لئے بسیں فراہم کیں، مزید بھی تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے لئے اقدامات کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حب میں چھ ارب روپے کے ماسٹر پلان کے تحت مختلف منصوبے چل رہے ہیں، پورے شہر کو اکھاڑ کر رکھ دیا گیامگر بدقسمتی سے ابھی تک صوبائی حکومت سے صرف ڈیڑھ ارب روپے ملے ۔میں نے متعدد بار وزیر اعلیٰ کو کہا کہ خدارا حب ماسٹر پلان کے پیسے ریلیز کرائیں یہاں کھدائی کئے گئے سیوریج لائنز میں بچے گرکر مررہے ہیں مگر افسوس توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں ساکران میں پانچ ارب روپے کا کیڈٹ کالج لایا ہوں مگر ابھی تک وزیر اعلیٰ نے صرف دو کروڑ روپے رکھے ہیں اب آپ بتائیں دو کروڑ میں کونسا کیڈٹ کالج بنے گا ۔انہوں نے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں یہ سارے کام مکمل کرکے دکھاﺅنگا۔
بلوچستان میں مواصلاتی نظام کی مضبوطی ‘ایف ڈبلیو او کا اہم کردار ہے‘علی حسن زہری
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل