سندھ کے17شہروں کا ماسٹر پلان تیار‘کراچی اور حیدر آباد بھی شامل ہیں‘ مراد علی شاہ

کراچی:وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت سندھ کے31 شہروں کے ماسٹر پلان تیار کر رہی ہے، جن میں کراچی اور حیدرآباد جیسے بڑے شہر بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق 17 شہروں کے ماسٹر پلان مکمل ہو چکے ہیں جبکہ باقی 14 پر کام جاری ہے۔ اب تک سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص، عمرکوٹ، مٹھی، اسلام کوٹ، دادو، نوابشاہ اور نوشہرو فیروز کے ماسٹر پلان کا نوٹیفکیشن جاری کیا جا چکا ہے۔ورلڈ سیٹیز ڈے کے موقع پر گالف کلب کے کنونشن سینٹر میں سندھ ماسٹر پلاننگ اتھارٹی نے این ای ڈی یونیورسٹی اور یو این ہیبی ٹیٹ کے تعاون سے سندھ سیٹیز فورم 2026 منعقد کیا، جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ غیر منصوبہ بند تعمیرات، ٹریفک کی بھیڑ، پانی کی قلت، نکاسی آب کے ناقص نظام اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات جیسے شہری مسائل سے نمٹنے کے لئے ماسٹر پلاننگ ناگزیر ہے۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ کراچی اور حیدرآباد کے ماسٹر پلان پر تیزی سے کام جاری ہے۔ کراچی کے ماسٹر پلان کے لئے بین الاقوامی کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی گئی ہیں،تاہم شہر کی موجودہ شہری صورتحال کے باعث یہ کام ایک بڑا چیلنج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی نئے شہر کا ماسٹر پلان ابتدا سے تیار کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، لیکن کراچی میں پہلے سے موجود مسائل کو درست کرنا کنسلٹنٹس اور اربن پلانرز کے لئے مشکل مرحلہ ہے۔ انہوں نے ماہرین پر زور دیا کہ وہ شہر کی حالت بہتر بنانے کے ساتھ منصوبے پر موثر عمل درآمد کے لئے بھی قابل عمل سفارشات پیش کریں۔وزیراعلیٰ نے کراچی سے اپنی طویل وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شہر کو تیزی سے پھیلتے دیکھا ہے، تاہم اس دوران منصوبہ بندی کی سنگین خامیاں بھی سامنے آئیں، جن کے باعث شہری انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا مزید مشکل ہو گیا۔مراد علی شاہ نے اعتراف کیا کہ ان کی اپنی حکومت سمیت ماضی کی یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں سے بھی ایسی غلطیاں ہوئیں جن کا اثر شہر کی موجودہ صورتحال پر پڑا۔ ان کے مطابق ایک مرتبہ شہری ڈھانچے میں مسائل پیدا ہو جائیں تو انہیں درست کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ حکومت شہریوں، منصوبہ سازوں، بلڈرز، یوٹیلیٹی کمپنیوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے تعاون کے بغیر ان چیلنجز سے موثر طور پر نہیں نمٹ سکتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں