پشاور: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں، تاہم گزشتہ 13 سال سے صوبے میں برسراقتدار جماعت نے عوامی خدمت کے بجائے سیاسی نعروں اور تقسیم در تقسیم کی سیاست پر توجہ دی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والے 800 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے، صوبے میں کتنے سیف سٹی منصوبے قائم کیے گئے اور محکمہ انسداد دہشت گردی کو کتنا مضبوط بنایا گیا؟وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج وزیراعظم پاکستان اور قائد محمد نواز شریف کے کارکن کی حیثیت سے مخاطب ہیں۔ خیبرپختونخوا وطن عزیز کا خوبصورت صوبہ ہے اور یہاں کے عوام غیور، دلیر اور باوقار ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے خیبرپختونخوا میں جمہوری روایات کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ 2013 کے انتخابات کے بعد قائد محمد نواز شریف نے صوبے میں اکثریتی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع دیا۔ یہ ان کی جمہوری سوچ، فراخ دلی اور سیاسی رواداری کا ثبوت تھا جس نے صوبے میں جمہوریت کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 13 برسوں کے دوران صوبے میں بلند و بانگ دعوے تو کیے گئے، لیکن عوامی خدمت کے حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آئی۔ پشاور سے کوہستان، ہزارہ اور جنوبی اضلاع تک عوام کے بنیادی مسائل عدم توجہی کا شکار رہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس عرصے میں صوبے میں کتنی یونیورسٹیاں اور ہسپتال قائم کیے گئے؟شہباز شریف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوام، پولیس، افواج پاکستان اور سیاسی رہنماو¿ں نے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان نے اس جنگ میں بھاری جانی اور معاشی نقصان برداشت کیا۔انہوں نے کہا کہ محمد نواز شریف کے دور میں پوری قوم اور قومی اداروں نے مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا تھا۔ آرمی پبلک اسکول پشاور کا دل خراش سانحہ آج بھی پوری قوم کے ذہنوں میں تازہ ہے اور معصوم بچوں کی شہادت کا یہ المناک واقعہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران ملک میں لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کی گئی۔ 2014 کے دھرنے کے باعث چینی صدر شی جن پنگ کا دورہ پاکستان مو¿خر ہوا، تاہم 2015 میں ان کے دورے کے موقع پر اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 20، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ بھی نواز شریف کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ تھا۔انہوں نے کہا کہ 2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لا کر آباد کیا گیا، جس کے نتیجے میں دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا اور ملک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ماضی کی طرح مل کر مقابلہ کرنے کی دعوت دی گئی، لیکن ان کی بات نہیں سنی گئی۔این ایف سی ایوارڈ کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں خیبرپختونخوا کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں ایک فیصد اضافی وسائل مختص کرنے پر اتفاق ہوا تھا، جس کے تحت صوبے کو اب تک 800 ارب روپے مل چکے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے بڑے مالی وسائل ملنے کے باوجود صوبے میں کتنے سیف سٹی منصوبے قائم کیے گئے؟ محکمہ انسداد دہشت گردی کو کس حد تک مضبوط بنایا گیا؟ پولیس کی پانچ ہزار خالی آسامیوں پر بھرتیاں کیوں نہیں کی گئیں؟ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے دستیاب وسائل پولیس کو جدید اسلحہ، بہتر تربیت اور جدید سہولیات فراہم کرنے پر خرچ ہونے چاہییں تھے۔وزیراعظم نے ملکی معیشت کے حوالے سے کہا کہ عسکری اور سیاسی قیادت نے معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مل کر شبانہ روز محنت کی ہے۔ عالمی حالات اور خلیجی جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، تاہم مشکلات کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فیول سبسڈی اسکیم شروع کی۔انہوں نے بتایا کہ فیول سبسڈی اسکیم سے ایک کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہو چکے ہیں، جبکہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت نے 75 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ غریب آدمی کو ریلیف دینا حکومت کی اہم ترجیح ہے اور ملکی معیشت کو عدم استحکام سے بچانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ ناگزیر حالات کے پیش نظر یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی اور پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی کمیٹیوں نے 48 گھنٹے تک مذاکرات کیے۔ مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا جاتا رہا، تاہم منظوری نہ مل سکی۔انہوں نے کہا کہ عوام، ملک، معیشت اور معاشرے کو بچانے کے لیے فیصلہ کرنا ضروری تھا۔ اگر بروقت فیصلہ نہ کیا جاتا تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کی ترقی، خوشحالی، امن و استحکام اور عوامی خدمت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ صوبے کے عوام کو بہتر تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
غریب آدمی کو ریلیف دینا حکومت کی اہم ترجیح ہے‘ محمد شہباز شریف
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل