گوادر (خ ن)ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، ضلعی افسر تعلیم زاہد حسین بلوچ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیمیل زراحاتون، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کی پرنسپل سبین بلوچ، گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج کے پرنسپل نصیر احمد بلوچ سمیت دیگر متعلقہ افسران اور اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی اجلاس میں ضلع بھر کے سرکاری اسکولوں کی فعالی، اساتذہ کی حاضری و کمی، اٹیچمنٹس کی منسوخی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور دور دراز علاقوں میں تدریسی عمل کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ کسی بھی اسکول میں اساتذہ کی کمی یا غیر حاضری کے باعث تدریسی سرگرمیاں متاثر نہیں ہونی چاہئیں ڈپٹی کمشنر نے ضلع بھر کے ہائی، مڈل اور پرائمری اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری ہر صورت یقینی بنانے کی سخت ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جو مرد یا خواتین اساتذہ باقاعدگی سے ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوں گے، ان کی غیر حاضری کا ریکارڈ مرتب کرکے حکومتی قواعد و ضوابط کے مطابق تنخواہ کی بندش اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے، جبکہ مسلسل غیر حاضری ثابت ہونے کی صورت میں ملازمت سے برطرفی کے لیے بھی قانونی تقاضے پورے کیے جائیں انہوں نے ضلعی افسرانِ تعلیم میل و فیمیل اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مسلسل غیر حاضر اساتذہ کی فہرست مرتب کرکے پیش کی جائے اور اسکولوں میں حاضری کی مو¿ثر نگرانی یقینی بنائی جائے اجلاس میں پیش کی گئی ریئل ٹائم اسکول مانیٹرنگ رپورٹ کے مطابق ستمبر 2026ئ کے دوران مختلف سرکاری اسکولوں کے معائنے میں 72 اساتذہ و ملازمین غیر حاضر پائے گئے، جن میں 61 فعال جبکہ 11 غیر فعال یا بند اسکولوں سے متعلق ہیں۔ رپورٹ میں 22 ملازمین کی طویل مدتی غیر حاضری، 11 کی اٹیچمنٹس منسوخ ہونے اور تعطیلات کے بعد اصل اسکولوں میں رپورٹ نہ کرنے، جبکہ 6 افراد کے حوالے سے متبادل افراد کے ذریعے ڈیوٹی جاری رکھنے کی نشاندہی کی گئی؛ مزید 33 ملازمین معائنے کے وقت غیر حاضر پائے گئے اجلاس میں بتایا گیا کہ اسکولوں اور اساتذہ کا ڈیٹا ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے جبکہ مستقبل میں تبادلے اور تعیناتیاں شفاف ڈیجیٹل نظام کے تحت ہوں گی، جس سے غیر ضروری اٹیچمنٹس کے خاتمے اور اساتذہ کی مو¿ثر تعیناتی میں مدد ملے گی ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ دور دراز اور مشکل رسائی والے علاقوں میں اساتذہ کی دستیابی، اسکولوں کی فعالی اور تدریسی عمل کا تسلسل یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کی تعلیم کا تسلسل اولین ترجیح ہے اور کسی بھی صورت تدریسی عمل متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
اسکولوں میں حاضری کی موثر نگرانی یقینی بنائی جائے،نقیب اللہ کاکڑ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل