وزیراعظم کا زراعت ، ہاﺅسنگ ، ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی میں سست روی پر کاروائی کا عندیہ

اسلام آباد ۔۔۔۔۔وزیراعظم شہبازشریف نے وزیرِ خزانہ کو ایس ایم ای سیکٹر، زراعت اور ہاو¿سنگ کے شعبے کے اسٹیک ہولڈرز فائنانسنگ سے متعلق مسائل حل کرنے اور جامع لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار، ہاو¿سنگ اور زراعت کی ترقی سے معیشت میں بہتری اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے،حکومتی اقدامات کے تحت کسانوں، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں اور وزیرِ اعظم اپنا گھر اسکیم میں صارفین کو قرضوں کی فراہمی میں سست روی اختیار کرنے والے بینکس کے ساتھ اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کی طرف سے کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے،اپنا گھر اسکیم سے ہاو¿سنگ و تعمیرات کے شعبے سے منسلک کئی صنعتوں کو فروغ ملے گا۔ پیر کو وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولت پر جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی بڑھانے کے لیے اسٹیٹ بینک تین بنیادی ستونوں پر کام کر رہا ہے، جن میں ضوابط میں بہتری، حکومت اور بینکوں کے درمیان رسک اور اخراجات میں شراکت داری، اور ڈیجیٹل سہولیات کا فروغ شامل ہیں۔ اس سلسلے میں حال ہی میں ایس ایم ایز کے لیے ایس ایم ای کنیکٹ ڈیجیٹل پورٹل (smeconnect.sbp.org.pk ) کا آغاز کیا گیا ہے جس کے ذریعے کاروباری افراد قرضوں کے حصول کے لیے درخواست دے سکیں گے اور اپنی درخواستوں کی پیش رفت بھی دیکھ سکیں گے۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ہاو¿سنگ، زراعت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو ترجیحی بنیادوں پر قرضوں کی فراہمی کے لیے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے،23 اکتوبر 2026 تک وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 511 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ 86 ہزار 899 قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ 15 ہزار 584 درخواست گزاروں کو 91 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔ ہاو¿سنگ فنانس کے شعبے میں قرضوں کا مجموعی حجم 455 ارب روپے اور مستفید ہونے والے قرض داروں کی تعداد ایک لاکھ 87 ہزار 317 ہو گئی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ زرعی شعبے میں قرضوں کا حجم 1329 ارب روپے اور مستفید ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً 35 لاکھ، جبکہ ایس ایم ایز کے شعبے میں قرضوں کا حجم 1148 ارب روپے اور قرض حاصل کرنے والے کاروباری افراد کی تعداد 3 لاکھ 42 ہزار 458 تک پہنچ گئی ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2027 کے اختتام تک زرعی اور ایس ایم ای شعبوں میں قرضوں کا حجم 1500 ارب روپے تک پہنچانے کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے ہاو¿سنگ، زراعت اور ایس ایم ای شعبوں کے لیے رسک شیئرنگ اور کریڈٹ گارنٹی کے اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں جبکہ قرضوں کے حصول کے طریقہ کار کو آسان بنانے، مطلوبہ دستاویزات میں کمی اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانے پر بھی کام جاری ہے۔اجلاس کو تینوں ترجیحی شعبوں میں کمرشل بینکس کی کارکردگی کے اشاریے بھی پیش کئے گئے. وزیرِ اعظم نے اچھی کارکردگی کے حامل بینکس کی تعریف کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار، ہاو¿سنگ اور زراعت کی ترقی سے معیشت میں بہتری اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ شہبازشریف نے کہاکہ ایسے بینکس جو زراعت، ہاو¿سنگ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو حکومتی اقدامات کے تحت قرضوں کی آسان فراہمی میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، قابل ستائش ہیں۔ انہوںنے کہاکہ حکومتی اقدامات کے تحت کسانوں، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں اور وزیرِ اعظم اپنا گھر اسکیم میں صارفین کو قرضوں کی فراہمی میں سست روی اختیار کرنے والے بینکس کے ساتھ اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کی طرف سے کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔ شہبازشریف نے کہاکہ نجی شعبے کی ترقی کیلئے بینکس کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ شہبازشریف نے کہاکہ بینکوں کی جانب سے ترجیحی شعبوں کیلئے قرضوں کی فراہمی میں ویسے ہی تعاون کی توقع رکھتے ہیں جیسا تعاون حکومت اور حکومتی ادارے بینکوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار معیشت کی ترقی، برآمدات کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور استعداد رکھتے ہیں۔ شہبازشریف نے کہاکہ زراعت کا شعبہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، زرعی اجناس کی ویلیو ایڈیشن سے برآمدات میں اضافے کیلئے کوشاں ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ اپنا گھر اسکیم سے ہاو¿سنگ و تعمیرات کے شعبے سے منسلک کئی صنعتوں کو فروغ ملے گا۔وزیرِ اعظم نےوزیرِ خزانہ کو ایس ایم ای سیکٹر، زراعت اور ہاو¿سنگ کے شعبے کے اسٹیک ہولڈرز فائنانسنگ سے متعلق مسائل حل کرنے اور جامع لائحہ عمل مرتب کرنے اور اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کو مل کر چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں اور برآمد کنددگان کے ٹیکس کے مسائل حل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔وزیرِ اعظم نے چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو قرضوں کی آسان فراہمی کیلئے رسک کوریج کی بھی جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے ۔اجلاس میں وفاقی وزراءاحسن اقبال، رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، میاں ریاض حسین پیر زادہ، محمد اورنگزیب، عطاءاللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، مشیر وزیرِ اعظم ہارون اختر، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، ارکان قومی اسمبلی حفیظ الدین، چوہدری افتخار نذیر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی. اجلاس معروف کمرشل بینکس کے سربراہان و نمائندے بھی شریک تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں