پاکستان چین اسٹریٹجک تعاون، باہمی شراکت داری، اعتماد اور تعاون پر قائم ہے،اسحق ڈار

اسلام آباد ۔۔۔۔نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان چین اسٹریٹجک تعاون، باہمی شراکت داری، اعتماد اور تعاون پر قائم ہے، آج کے چین کو سمجھنے کیلئے چینی کمیونسٹ پارٹی کو سمجھنا ضروری ہے، چین کے نظام حکمرانی کے پیچھے مضبوط سیاسی جماعت موجود ہے، پاکستان اور چین کی شراکت داری خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کیلئے ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد ذریعہ ہے۔ وہ پیر کو یہاں چین کے صدر شی جن پنگ کے پارٹی سازی سے متعلق نظریات کے موضوع پر سمپوزیم اور چین پاکستان گورننس سیمینار سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر پاکستان کے دورہ پر آئے ہوئے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے بین الاقوامی شعبہ (آئی ڈی سی پی سی)کے وزیر لیو ہائی شینگ اور پاکستان میں چین کے سفیر بھی موجود تھے۔ نائب وزیراعظم نے فورم کی مشترکہ صدارت کرنے اور ایک نہایت اہم موضوع پر اظہارِ خیال کرنے پر مسرت کا اظہار کیا اور اس اہم کانفرنس میں شرکت کیلئے دعوت قبول اور اسلام آباد آنے پر چین کے وزیر لیو ہائی شنگ سے اظہار تشکر کیا۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ آج کے سمپوزیم نے حکمرانی، ادارہ سازی اور قومی ترقی میں سیاسی جماعتوں کے دیرپا کردار پر غور و فکر کرنے اور پاکستان و چین کے درمیان دیرینہ جماعتی روابط اور تبادلوں کو مزید گہرا کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صدر شی جن پنگ کے پارٹی سازی سے متعلق نظریات کی فکری خدمات اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے اس تجربے کو سراہتے ہیں جس کے ذریعے اس نے اپنے اصولوں کو موثر حکمرانی اور ترقی کے ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا ہے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ آج کی ہماری گفتگو پاکستان اور چین کے تعلقات کی بنیاد بننے والی گہری سیاسی مفاہمت اور تزویراتی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے اور یہ ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے اور اپنے مشترکہ عزائم کو آگے بڑھانے کے عزم کی بھی توثیق کرتی ہے۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ چین کے وزیر کے خطاب نے صدر شی جن پنگ کے پارٹی سازی سے متعلق نظریات کو پانچ جہتوں سے جامع انداز میں سمجھنے کا موقع فراہم کیا جن میں ان کی نظریاتی بنیادیں، عملی اطلاق، عوام کو نقط نظرکا مرکز بنانا، ثقافتی جڑیں اور عالمی اہمیت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی گفتگو سے حاصل ہونے والا ایک بنیادی سبق یہ ہے کہ قومی اتحاد، ادارہ جاتی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے بصیرت افروز قیادت ناگزیر ہے، صدر شی جن پنگ کی دانشمندانہ قیادت میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے چین کی قومی احیائے نو کے سفر کو تیز تر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی غیر معمولی ترقی کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے جماعتی نظم و ضبط، تنظیمی صلاحیت، بدعنوانی کے خاتمے اور عوام مرکز حکمرانی کے لئے غیر متزلزل عزم کا نتیجہ ہے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ چین نے مسلسل پالیسی اقدامات کے ذریعے کروڑوں افراد کو غربت سے نکالا اور عالمی سطح پر غربت کے خاتمے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے، چین نے اپنا پہلا صد سالہ ہدف کامیابی سے حاصل کرلیا ہے جس کے تحت ہر لحاظ سے ایک معتدل خوشحال معاشرے کی تعمیر کی گئی، اب چین اپنے دوسرے صد سالہ ہدف میں وہ ہر لحاظ سے ایک عظیم جدید سوشلسٹ ملک کی تعمیر کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ چین کا تجربہ ہمارے لئے ایک بہترین عملی مثال ہے، یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ دور اندیش قیادت کس طرح طویل المدتی قومی ترجیحات کا تعین، اجتماعی کوششوں کو متحرک اور عوام کی بہتری کیلئے ترجیحات کو ٹھوس فوائد میں تبدیل کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے چینی بھائیوں کے ساتھ حکمرانی کے تجربات کا تبادلہ ہماری دیرینہ، باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کا حصہ ہے۔ قیادت کی ترقی، اداروں کو مضبوط بنانے اور موثر حکمرانی کے شعبوں میں تعاون ہمارے مشترکہ اہداف استحکام، خوشحالی اور پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے معاشی خود انحصاری اور استحکام کی جانب اہم پیشرفت کی ہے، اب ہم معاشی استحکام کو مزید مستحکم کرنے کے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، ہماری کامیابیاں حکمرانی میں اصلاحات سے جڑی ہیں جن میں میکرو اکنامک نظم و ضبط، اداروں کی جدت کاری، ڈیجیٹل ٹیکس انتظامیہ اور ضابطہ کاری کو آسان بنانا شامل ہیں، سال رواں دونوں ممالک کیلئے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں جبکہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا اپنی 105ویں یومِ تاسیس کی تقریبات منا رہی ہے،گزشتہ 75 برسوں کے دوران پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور حمایت کی بنیاد پر ہمہ موسمی آزمائش پر پورا اترنے والی تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری میں تبدیل ہوچکے ہیں، اس تعلق کو مضبوط بنانے میں پاکستان میں چین کے ساتھ تعلقات کی حمایت پر مبنی وسیع سیاسی اتفاقِ رائے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ہمہ موسمی تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری اس حقیقت کی عکاس ہے کہ ملک کے تمام سیاسی حلقے پاکستان اور چین کی شراکت داری کو ملک کا ایک اہم تزویراتی اثاثہ تسلیم کرتے ہیں۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ دنیا نے مشاہدہ کیا ہے کہ پاکستان اور چین کی شراکت داری خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے لیے ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد ذریعہ ہے، رواں سال 31 مارچ کو پاکستان اور چین نے مشرقِ وسطی میں امن کی بحالی کیلئے مشترکہ طور پر پانچ نکاتی امن اقدام کا آغاز کیا۔ بعد ازاں چین کے صدر شی جن پنگ کی جانب سے مشرقِ وسطی کے لئے چار نکاتی امن تجویز جامع، مشترکہ اور ناقابلِ تقسیم سلامتی کے فروغ سے متعلق چین کے نظریے کا ایک اہم اظہار ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کے تاریخی عالمی حکمرانی اقدام (جی جی آئی)نے بھی بین الاقوامی حکمرانی کے نظام میں انصاف، مساوات اور شفافیت کو آگے بڑھانے کیلئے چین کے مستقل عزم کو اجاگر کیا ہے، یہ اقدامات ترقی پذیر ممالک اور عالمی جنوب کے مفادات کیلئے چین کے عزم کی واضح مثال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی(آئی ڈی سی پی سی)کا بین الاقوامی شعبہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مسلسل روابط کے ذریعے پاک چین دوستی کو فروغ دینے میں ہمارا اہم شراکت دار رہا ہے۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ چین پاکستان سیاسی جماعتوں کا فورم اور سی پیک سیاسی جماعتوں کا مشترکہ مشاورتی نظام دونوں ممالک کے درمیان مسلسل مکالمے، سیاسی تعاون اور تجربات کے تبادلے کیلئے قیمتی پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں، ہمارے روابط پاکستان اور چین کے تعلقات کے ایک اہم پہلو کو اجاگر کرتے ہیں کہ ان تعلقات کی مضبوطی صرف بین الحکومتی تعاون پر منحصر نہیں بلکہ مسلسل سیاسی مفاہمت، ادارہ جاتی روابط اور ہماری سیاسی جماعتوں کے درمیان تبادلوں پر بھی استوار ہے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال مئی میں اپنے دورہ بیجنگ کے دوران ہم نے دوسرے چین پاکستان سیاسی جماعتوں کے فورم اور سی پیک سیاسی جماعتوں کے مشترکہ مشاورتی نظام کے چوتھے اجلاس کا انعقاد کیا۔ ان اجلاسوں نے سی پیک 2.0 کے تحت ہمارے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں سیاسی روابط کی اہمیت کی توثیق کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا اور پاکستان مسلم لیگ (ن)کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پر بھی دستخط کئے جو جماعتی سطح پر زیادہ منظم اور مسلسل تعاون کے ہمارے عزم کی عکاسی کرتی ہے، ان اجلاسوں میں پاکستان نے سیاسی مکالمے، حکمرانی میں تعاون، نوجوانوں کی شمولیت، عوامی روابط اور علاقائی تعاون کے فروغ کیلئے پانچ سیاسی راہداریوں کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عملی اقدامات، باقاعدہ تبادلوں اور موثر پیش رفت کے ذریعے ان نتائج کو مزید آگے بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آج کی نتیجہ خیز گفتگو کو سامنے رکھتے ہوئے ہم اہم سفارشات کو پانچ وسیع شعبوں میں یکجا کرسکتے ہیں جن میں پہلے نمبر پر جماعتی تنظیموں اور نچلی سطح کے ڈھانچوں کو مضبوط بنانا، تنظیمی صلاحیت، داخلی ہم آہنگی اور مقامی برادریوں کے ساتھ روابط کو بہتر بنانا شامل ہے۔ دوسرے نمبر پر ترقی کے متبادل راستوں کی تلاش، طویل المدتی منصوبہ بندی، اعلیٰ معیار کی ترقی اور جدت کاری کے عمل کو آگے بڑھانا ہے جبکہ تیسرے نمبر پر عوام پر مرکوز مرکز حکمرانی کے ذریعے عوامی اعتماد کو مضبوط بنانا، شہریوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دینا، عوامی خدمات کو بہتر بنانا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ ترقی کے ثمرات عام لوگوں تک پہنچیں۔ اس کے علاوہ بدعنوانی کا خاتمہ اور احتساب کا فروغ، نظم و ضبط، شفافیت، دیانت داری اور سرکاری عہدوں کے ناجائز استعمال کی روک تھام کے نظام کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچویں نمبر پر بین الجماعتی تعلقات کیلئے مضبوط نظام کی تشکیل سیاسی جماعتوں کے درمیان باہمی احترام، عدم مداخلت، مکالمے، تعاون اور ایک دوسرے سے سیکھنے کے عمل کو فروغ دینا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعتی تنظیم سازی اور ریاستی حکمرانی کے تجربات کا تبادلہ بالخصوص ہمارے خطے کے ممالک کے درمیان باقاعدگی سے کیا جانا چاہئے۔ نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اور ادارے اتفاقِ رائے پیدا کرنے، پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے اور موثر عملدرآمد میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی سینیٹ و قومی اسمبلی اور چین کی نیشنل پیپلز کانگریس اور چین کی (سی پی پی سی سی)کے درمیان پارلیمانی تعاون کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تھنک ٹینکس، جامعات اور تربیتی اداروں بالخصوص حکمرانی، غربت کے خاتمے اور ترقیاتی منصوبہ بندی کے شعبوں میں تبادلوں کو وسعت دینی چاہئے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کی دوستی کی شمع کو مزید روشن کرنے کیلئے نوجوانوں کو اس عمل میں شامل کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سفارتی تعلقات کے75 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے موقع پر ہم مسلسل سیاسی روابط، ادارہ جاتی تعاون اور سیاسی جماعتوں کے درمیان قریبی تبادلوں کے ذریعے چین کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کیلئے پرعزم ہیں۔ نائب وزیراعظم نے اس بات کا اظہار کیا کہ اس دیرینہ دوستی کو مزید مستحکم کیا جائے گا تاکہ ایک مزید قریبی چین پاکستان ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کیلئے مل کر کام کریں تاکہ ہمارے عوام اور وسیع تر خطے کیلئے امن، استحکام اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ اس موقع پر کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے بین الاقوامی شعبہ (آئی ڈی سی پی سی)کے وزیر لیو ہائی شینگ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، سابق چیئرمین سینیٹ سید نیئر حسین بخاری اور سینیٹر شیری رحمان نے بھی خطاب کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں