نصیر کاکڑ پر تشدد صحافت پر حملہ ہے، بی ایم ایف

کوئٹہ:(پ ر)بلوچستان میڈیا فورم نے سینئر صحافی و یو این اے کے بیوروچیف نصیر احمد کاکڑ پر تشدد کے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ فورم کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی شہری کو قانون ہاتھ میں لے کر تشدد یا تذلیل کا نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ بلوچستان میڈیا فورم نے کہا کہ قبائلی نظام کے نام پر ذاتی عدالتیں قائم کرنا اور اپنی منشا کے مطابق لوگوں کے فیصلے کرنا ریاستی قانون اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ جو عناصر خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہوئے اپنی عدالتیں لگاتے، لوگوں کی تذلیل کرتے اور تشدد کا نشانہ بناتے ہیں، ان کا محاسبہ نہایت ضروری ہے۔کسی فرد یا گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے کسی شہری کو مجرم قرار دے کر سزا دینا شروع کردے۔ نصیر احمد کاکڑ کو بھی اسی غیر قانونی اور نام نہاد ذاتی عدالت کا نشانہ بنایا گیا، جس کی کسی مہذب اور قانونی معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ صحافی عوامی مسائل، ناانصافیوں اور مظلوم طبقات کی آواز ایوانِ اقتدار تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ صحافیوں کو تشدد اور دھمکیوں کا نشانہ بنانا آزادی صحافت اور عوام کے حقِ اظہار پر اثرانداز ہونے کے مترادف ہے۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ صحافیوں کو محفوظ ماحول فراہم کرے تاکہ وہ بلاخوف اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرسکیں۔بلوچستان میڈیا فورم نے مطالبہ کیا کہ نصیر احمد کاکڑ پر تشدد کے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ملوث افراد کو بلا تاخیر گرفتار کیا جائے، شفاف تحقیقات کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ صحافی کو مکمل قانونی و حفاظتی معاونت فراہم کی جائے۔ فورم نے واضح کیا کہ قانون کی بالادستی کے خلاف کسی بھی شکل میں قائم ذاتی عدالتیں معاشرے میں مزید ناانصافی اور خوف کو جنم دیتی ہیں، اس لیے ایسے رجحانات کا خاتمہ ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں