پولیو کا مکمل خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، عزیز میمن

سلام آباد(پ ر)ستمبر کے خصوصی انسدادِ پولیو حفاظتی دنوں (SNIDs) کا افتتاح آج گلستانِ جوہر میں روٹری کلب آف کراچی کمیونٹی سینٹر میں منعقدہ تقریب میں کیا گیا۔روٹری فا¶نڈیشن کے سابق ٹرسٹی اور نیشنل چیئر پولیو پلس کمیٹی عزیز میمن، ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے فوکل پرسن ڈاکٹر احمد علی شیخ ،روٹری ڈسٹرکٹ 3271 کے ڈسٹرکٹ گورنر شہزاد صابر اور ڈسٹرکٹ گورنر الیکٹ فہد سکندر نے ستمبر کے خصوصی انسدادِ پولیو حفاظتی دنوں کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ تقریب میں روٹری کلب آف کراچی کے صدر ہمایوں قریشی اور متعدد روٹیرینز نے بھی شرکت کی۔خصوصی انسدادِ پولیو حفاظتی دنوں کی مہم 21 سے 27 ستمبر 2026 تک جاری رہے گی، جس کے دوران ملک کے 115 ہائی رسک اضلاع میں 3 کروڑ 10 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچا¶ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ مہم بلوچستان، گلگت بلتستان، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں چلائی جائے گی اور پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو اس کا ہدف بنایا جائے گا۔رواں سال کے آغاز سے اب تک ملک بھر میں بڑے پیمانے پر انسدادِ پولیو کی تین مہمات کامیابی سے مکمل کی جاچکی ہیں، جن کے دوران 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچا¶ کی ویکسین پلائی گئی۔ بعض ہائی رسک علاقوں میں بچوں کی قوتِ مدافعت مزید مستحکم کرنے کے لیے منہ کے ذریعے دی جانے والی پولیو ویکسین (OPV) کے ساتھ فریکشنل انجیکٹ ایبل پولیو ویکسین (انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی پولیو ویکسین کی جزوی خوراک) بھی دی گئی، بالخصوص کمزور اور غذائی قلت کا شکار بچوں کو، جو پولیو وائرس کا جلد شکار ہوسکتے ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عزیز میمن نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد کا اہم کردار ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچوں کو تجویز کردہ تمام ویکسینز، بشمول معمول کی حفاظتی ویکسینیشن، مقررہ شیڈول کے مطابق دی جائیں۔انہوں نے کہا کہ روٹیرینز انسدادِ پولیو مہمات کے دوران فرنٹ لائن ورکرز کو سہولت فراہم کرتے ہیں اور اپنے اضلاع میں قومی اور خصوصی انسدادِ پولیو دنوں (NIDs/SNIDs) کی نگرانی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ مقامی کمیونٹی رہنما¶ں سے رابطے میں رہتے ہوئے پولیو ویکسینیشن کے فروغ اور ویکسین سے متعلق غلط معلومات اور بے بنیاد خدشات کے تدارک کے لیے بھی م¶ثر کردار ادا کرتے ہیں۔پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ واحد دو ممالک ہیں جہاں اب تک پولیو کا مکمل خاتمہ نہیں ہوسکا۔ تاہم یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان میں پولیو کے کیسز میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں کمی آئی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں