پٹواریوں کے مقرر کردہ ریٹس کسی صورت قابل قبول نہیں، وڈیرہ عبدالستار انگاریہ

سونمیانی وندر(نمائندہ گوادر بزنس) ترقی کے مخالف نہیں ریاست کو ماں سمجھتے ہیں ہم بچوں کا جائز حق دیا جائے۔ بائی پاس روڈ کی تعمیر پر کوئی اعتراض نہیں لیکن اس منصوبے نے وندر کی رہائشی ، زرعی اور کمرشل اراضی کو شدید متاثر کیا ہے۔ معروف قبائلی شخصیت وڈیرہ عبدالستار انگاریہ کی قیادت میں وندر پریس کلب میں پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی پیشگی نوٹس کے لوگوں کے آباد گھروں ، چلتے کاروبار ، دکانوں ، ہوٹلوں ، پیٹرول پمپس ، چیکو کے باغات ، کپاس کی کھڑی فصلوں اور دیگر املاک پر بلڈوزر چلا کر اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے جبکہ معاوضہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر سنائی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پٹواریوں کے مقرر کردہ ریٹس کسی صورت قابل قبول نہیں اور انہیں ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ متاثرین نے کہا کہ انہیں آج تک یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کے نقصانات کا تخمینہ کیا لگایا گیا ہے اور کتنا معاوضہ دیا جائے گا۔ حالانکہ پہلے اراضی ، عمارتوں ، زرعی باغات ، فصلوں اور کمرشل املاک کی مکمل قیمت کا تعین ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی اراضی کے درمیان سے سڑک نکالنے کے باعث باغات اور زمینیں دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہیں ٹیوب ویل ایک جانب جبکہ قابلِ کاشت زمین دوسری جانب رہ گئی ہے جس کے باعث آبپاشی متاثر ہونے سے باقی ماندہ فصلیں بھی مٹی ، دھول اور پانی کی عدم دستیابی کے باعث تباہ ہوگئی ہیں اس نقصان کا ازالہ کون کرے گا ؟ انہوں نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی ، کمشنر لسبیلہ ڈویڑن ، ڈپٹی کمشنر حب ، صوبائی حکومت ، وزیر اعلیٰ بلوچستان ، وفاقی وزیر و ایم این اے لسبیلہ ، حب و آواران جام کمال خان عالیانی سے مطالبہ کیا کہ متاثرین کے تمام مالی نقصانات کا مکمل ازالہ کیا جائے۔ بصورت دیگر وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے تمام قانونی اور آئینی راستے اختیار کریں گے اور کسی صورت اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ اس موقع پر حاجی عبداللہ مینگل ، نواز مینگل ، وڈیرہ اکبر دیریہ ، غلام قادر دیریہ ، سیٹھ پشا مل ، لعل چند ، حاجی عزت خان ، امیر اللہ خان ، حاجی عمر ، نواز خٹک ، وائس چیئرمین عبدالحمید رونجہ ، کونسلران دھنی بخش انگاریہ ، پیر بخش موندرہ ، تاجر برادری ، زمینداران کی بڑی تعداد موجود تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں