کوئٹہ۔۔۔۔۔۔۔وزارتِ انسانی حقوق حکومتِ پاکستان نے صوبائی محکمہ سماجی بہبود و انسانی حقوق کے اشتراک سے کوئٹہ میں معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق سے متعلق بین الاقوامی عہدنامے کے حوالے سے ایک صوبائی مشاورتی سیشن کا انعقاد کیا۔ اجلاس کا مقصد اقوامِ متحدہ کی متعلقہ کمیٹی کے روبرو پاکستان کی دوسری دورانیہ جاتی قومی رپورٹ کی تیاری کے سلسلے میں صوبائی سطح پر کیے گئے قانونی، انتظامی اور پالیسی اقدامات کا جائزہ لینا اور متعلقہ اداروں سے معلومات حاصل کرنا تھا۔اجلاس میں چیئرپرسن بلوچستان کمیشن آن اسٹیٹس آف وومن کرن بلوچ، وزارتِ انسانی حقوق کے ڈائریکٹر برائے بین الاقوامی تعاون ڈاکٹر عارف لغاری، ایڈیشنل سیکر ٹری محکمہ سماجی بہبود عنایت اللہ خان، ڈائریکٹر عبدہو، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ قانون شوکت علی، بلوچستان کانسٹیبلری کی کمانڈنٹ محترمہ شہیلا، جامعہ مکران کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ممتاز بلوچ، بلوچستان میں وزارتِ انسانی حقوق کے علاقائی ڈائریکٹر اسفندیار بادینی، وزارتِ انسانی حقوق کے نمائندگان ذوالفقار علی اور احسن شمیم، اسسٹنٹ ڈائریکٹر تعلقاتِ عامہ منظور احمد مگسی، محکمہ داخلہ، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، محکمہ محنت، بین الصوبائی رابطہ اور محکمہ معدنیات و کان کنی سمیت مختلف سرکاری اداروں، سول سوسائٹی اور جامعات کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزارتِ انسانی حقوق کے ڈائریکٹر برائے بین الاقوامی تعاون ڈاکٹر عارف لغاری نے کہا کہ پاکستان نے سن 2008 میں اس بین الاقوامی عہدنامے کی توثیق کی تھی، جس کے تحت ملک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً اقوامِ متحدہ کی متعلقہ کمیٹی کو روزگار، تعلیم، صحت، سماجی تحفظ اور مناسب معیارِ زندگی سمیت عہدنامے میں تسلیم شدہ حقوق کے نفاذ کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کرے۔انہوں نے کہا کہ آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے بعد ان میں سے متعدد شعبے صوبائی حکومتوں کے دائر اختیار میں آ چکے ہیں، اسی لیے وزارتِ انسانی حقوق ملک بھر میں صوبائی مشاورتی اجلاس منعقد کر رہی ہے تاکہ قومی رپورٹ میں صوبوں کی سطح پر کیے گئے عملی اقدامات اور پیش رفت کو مو¿ثر انداز میں شامل کیا جا سکے۔ڈاکٹر عارف لغاری نے بتایا کہ کوئٹہ میں ہونے والے اجلاس میں بلوچستان سے متعلق اہم امور، جن میں محنت کشوں کے حقوق، سماجی تحفظ، خواتین کی ترقی، تعلیم، صحت کی سہولیات، قدرتی وسائل کی ملکیت و انتظام، معدنیات اور کان کنی کے شعبے سے متعلق معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا چیئرپرسن بلوچستان کمیشن آن اسٹیٹس آف وومن کرن بلوچ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کے حقوق کے تحفظ، ان کی فلاح و بہبود اور سماجی و معاشی خودمختاری کے لیے بلوچستان میں کیے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور فیصلہ سازی کے عمل میں مساوی مواقع کی فراہمی پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔اجلاس کے اختتام پر متعلقہ محکموں سے درخواست کی گئی کہ وہ قومی رپورٹ میں شامل کرنے کے لیے تازہ ترین اعداد و شمار اور معلومات جلد از جلد فراہم کریں۔ شرکاء کی بھرپور شرکت کو اس مشاورتی عمل کی کامیابی قرار دیا گیا۔واضح رہے کہ وزارتِ انسانی حقوق اس سے قبل لاہور اور پشاور میں بھی اسی نوعیت کے مشاورتی اجلاس منعقد کر چکی ہے، جبکہ آئندہ سندھ اور اسلام آباد میں بھی ایسے اجلاس منعقد کیے جائیں گے، جن کے بعد پاکستان کی دوسری دورانیہ جاتی رپورٹ اقوامِ متحدہ کی متعلقہ کمیٹی کو پیش کی جائے گی۔اجلاس کے شرکائ نے اس امر پر زور دیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان باہمی تعاون پر مبنی یہ مشاورتی عمل پاکستان کے انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی وعدوں کی تکمیل اور ملک بھر سے مستند اور شواہد پر مبنی معلومات کی فراہمی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔وزارتِ انسانی حقوق نے اجلاس کے کامیاب انعقاد میں تعاون پر حکومتِ بلوچستان، متعلقہ محکموں اور تمام شریک اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
بین الاقوامی عہدنامے کے حوالے سے صوبائی مشاورتی سیشن کا انعقاد
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل