شاہرگ ‘کول مائنز میں زہریلی گیس کا دھماکہ، 4 کانکن جاں بحق، 5 شدید زخمی

ہرنائی: ضلع ہرنائی کی تحصیل شاہرگ میں واقع پی ایم ڈی سی کول مائن ایریا نمبر 151 میں زہریلی گیس بھرنے کے باعث زوردار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں 4 کانکن جاں بحق جبکہ 5 شدید زخمی ہوگئے۔ پولیس اور لیویز ذرائع کے مطابق حادثہ دن کے وقت پیش آیا، حادثے کے وقت کان کے اندر مجموعی طور پر 9 کانکن کام کر رہے تھے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی قریبی کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے کانکن موقع پر پہنچ گئے اور اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو آپریشن شروع کردیا۔ریسکیو ٹیموں اور کانکنوں نے کئی گھنٹے کی جدوجہد کے بعد کان کے ملبے سے 4 کانکنوں کی لاشیں اور 5 زخمیوں کو نکال لیا۔ تمام زخمیوں کو فوری طور پر شاہرگ سول ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، تاہم تشویشناک حالت کے پیش نظر زخمی کانکنوں کو مزید علاج کے لیے کوئٹہ کے ٹراما سینٹر ریفر کردیا گیا۔پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے چار کانکنوں کی لاشوں کو قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کردیا گیا ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں عبید اللہ ولد محمد نبی، خیال محمد ولد گل محمد، خیال زادہ ولد شیر عالم خان اور زاہد علی ولد وزیر زادہ شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں گل زمان ولد محمد زیب، عاقل زادہ ولد امیر زادہ، سعید اللہ ولد فقیر جان، نور بچہ ولد شیر زمان اور نور عالم ولد آدم خان شامل ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق جاں بحق اور زخمی ہونے والے تمام کانکنوں کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع سوات سے بتایا جاتا ہے۔حادثے کے بعد شاہرگ اور گردونواح میں سوگ کی فضا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی محکمہ معدنیات اور لیویز کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچ گئے اور حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کردیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کان میں حفاظتی انتظامات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے اور حادثے کے اسباب کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔دریں اثنا صوبائی وزیر خوراک حاجی نورمحمد خان دمڑ نے شاہرگ کی کوئلہ کان میں زہریلی گیس بھرنے کے باعث ہونے والے دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور مائنز ڈیپارٹمنٹ کے حکام کو ہدایت کی کہ کوئلہ کانوں میں حادثات کی روک تھام اور کانکنوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے مو¿ثر اور ٹھوس حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کا سدباب ہوسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں