نئے صوبوں سے متعلق عوام کا جو فیصلہ ہوگا پیپلز پارٹی ساتھ کھڑی ہوگی،بلاول بھٹو زر داری

اسلام آباد۔۔۔۔۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے تو وہ ن لیگ کے ساتھ تعاون کے موڈ میں نہیں ہیں،آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کو الیکشن میں ہرایا گیا ، اگر مسلم لیگ (ن )کو اتنا متنازع الیکشن چاہیے تھا تو انہیں مبارک ہو ،حکومت کی جانب سے اگر رابطہ کیا جائے گا تو ضرور بات کریں گے، جب تک پیپلزپارٹی کو انصاف نہیں ملتا حکومت کیساتھ تعاون نہیں ہوگا، میں جی بی اور آزاد کشمیر کا الیکشن حق ملکیت حق حکمرانی کے منشور پر لڑکر آیا ہوں، یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم حکومتی بینچزمیں بیٹھیں اورہمیں اپنے کارکنوں کی لاش اٹھانا پڑے، نئے صوبوں سے متعلق عوام کا جو فیصلہ ہوگا، ساتھ کھڑے ہوں گے،ہم زور زبردستی سے نہ کل مانے ہیں نہ کبھی مانیں گے،چاہتا ہوں عمران خان کا علاج ہوجائے اور وہ ٹھیک ہوجائیں،ہمارا اپوزیشن سے رابطہ ہوا اور میں چاہتا ہوں سیاسی جماعتیں مل کر بات کریں۔پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، سابق سینیٹر مصطفی نواز کھو کھر اور سینیٹ اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کی اور اس دوران پارلیمانی امور اور ملکی سیاست پر گفتگو کی۔ ملاقات کا بنیادی ایجنڈا اپوزیشن کو پارلیمانی کمیٹیوں میں شامل ہو کر فعال کردار ادا کرنے کی دعوت، قانون سازی کے حوالے سے رابطوں کو بڑھانا اور انتخابی اصلاحات کے ذریعے انتخابات میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے خیالات کا اظہار کیا۔ اپوزیشن چیمبر میں ملاقات کے بعد قومی اسمبلی میں اپنے چیمبر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پارلیمنٹ کے نظام کو عزت دی ہے،چاہے وہ اختلاف کی رائے ہو یا لیڈر آف دی اپوزیشن کا عہدہ، پیپلز پارٹی اس کی قدر کرتی ہے اور اسے جمہوری عمل کا اہم ستون سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی خواہش ہے کہ پارلیمنٹ واقعی فعال ہو کیونکہ یہی عوام کی آواز کا سب سے بڑا فورم ہے۔ ٹریژری بینچز ہوں یا اپوزیشن، عوام نے قومی اسمبلی میں ذمہ داری کے ساتھ یہاں بھیجا ہے تاکہ ان کے مسائل حل کریں اور ملک کےلئے بہتر قانون سازی کریں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی کمیٹیاں جب تک کام نہیں کریں گی اور تمام جماعتیں مل کر بیٹھ کر بات نہیں کریں گی، تب تک عوامی مسائل کا حل ممکن نہیں۔ پیپلز پارٹی کا ماننا ہے کہ اختلاف اپنی جگہ لیکن پارلیمان کی حرمت اور فعالیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ پارلیمنٹ کی فعالیت میں اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ اپوزیشن کی بعض جماعتوں کا بائیکاٹ کا فیصلہ ہے۔ وہ نہ صرف پارلیمانی کمیٹیوں سے دور ہیں بلکہ بجٹ کمیٹی، عدالتی کمیٹی اور اہم قانون سازی کے عمل سے بھی خود کو الگ کر چکے ہیں۔ اس رویے سے نہ صرف قانون سازی کا عمل متاثر ہو رہا ہے بلکہ عوامی مسائل کے حل میں بھی تاخیر پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا اگر ہم واقعی ایک فعال، باوقار اور بااختیار پارلیمنٹ چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ اس کے تمام ادارے اور کمیٹیاں مخلص ہو کر کام کرنا شروع کریں۔ انہوں نے کہا پارلیمنٹ تب ہی عوام کی حقیقی نمائندہ بن سکتی ہے جب حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور اختلافات کے باوجود ایک میز پر بیٹھ کر ملک کے مسائل کا حل تلاش کریں۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اس کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو اپنے موجودہ فیصلے پر نظرثانی کرنی ہوگی اور پارلیمانی کمیٹیوں میں واپس آ کر تعمیری سیاست کا حصہ بننا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کسی ایک جماعت کی میراث نہیں بلکہ یہ 24 کروڑ عوام کا فورم ہے۔ یہاں سے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر قومی مسائل کے حل نکل سکتے ہیں، بشرطیکہ ہم سب مل کر پارلیمنٹ کو اس کا آئینی کردار ادا کرنے دیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ ملک میں شفاف، غیر جانبدار اور عوامی امنگوں کے مطابق انتخابات ہوں۔ الیکٹورل ریفارمز کے عمل میں پیپلز پارٹی نے ہر دور میں اہم اور تعمیری کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی کرے گی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو آئین دینے والے شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ہمیشہ عوام کی خدمت پر یقین رکھا۔ آئین کو تشکیل ہی اس لئے دیا گیا کہ جمہوریت کے طور طریقے پر ملک چلے لیکن ہمیشہ اسی آئی۔ کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ اپوزیشن ہو یا ٹریژری بینچز، ہر کوئی انتخابی عمل پر سوالات اٹھا رہا ہے۔ یہاں تک کہ وفاقی حکومت کے اپنے وزرا بھی کھلے عام انتخابات کی شفافیت پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام کا اعتماد انتخابی نظام سے متزلزل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا اگر انتخابی عمل میں واقعی خامیاں ہیں تو ان کا حل بائیکاٹ یا احتجاج نہیں بلکہ پارلیمنٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مل کر، اتفاق رائے سے انتخابی اصلاحات لائیں اور قوم کے تمام اعتراضات دور کریں تو سب کے لئے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کو اسی لیے فعال بنانا چاہتے ہیں تاکہ یہاں بیٹھ کر الیکشن کمیشن کو مضبوط بنایا جائے، انتخابی قوانین میں بہتری لائی جائے اور ہر شہری کے ووٹ کی عزت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا ہم نہیں چاہتے کہ کوئی پارٹی جیت پر جشن منائے اور ہار پر دھاندلی کا شور مچائے۔ پاکستان پیپلز پارٹی ایک جمہوری جماعت ہے اور ہمیشہ جیت اور ہار دونوں کو کھلے دل سے تسلیم کرتی آئی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن صاف شفاف ہوں، دھاندلی کے الزامات ختم ہوں اور فیصلہ صرف اور صرف عوام کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں مہنگائی عروج پر ہے اور عوام کی قوت خرید تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ بجلی، گیس اور روزمرہ کی بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافے نے عام گھرانوں کا بجٹ بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا پیٹرول، ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے جس کا سارا بوجھ براہ راست غریب اور کمزور طبقے پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا حکومت جو چاہے کہ وہ فوری طور پر مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے پی پی پی کا موقف ہمیشہ آئینی، جمہوری اور عوامی امنگوں پر مبنی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی نئے صوبے کا فیصلہ اس وقت ہی ممکن ہے جب متعلقہ علاقے کے عوام میں اس پر واضح اتفاق رائے پایا جائے۔ کسی بھی خطے پر زبردستی انتظامی یا سیاسی فیصلہ مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ گلگت بلتستان کے حوالے سے چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ وہاں کے عوام کا دیرینہ اور جائز مطالبہ ہے کہ انہیں پاکستان کے آئین میں مکمل آئینی حقوق اور نمائندگی دی جائے۔ پی پی پی اس مطالبے کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔ جنوبی پنجاب کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ متعلقہ صوبائی اسمبلی نے باقاعدہ قرارداد منظور کی ہے۔ جب تک اس خطے کے عوامی نمائندے خود اس پر متفق ہیں، وفاقی سطح پر اس کی مخالفت کی کوئی منطقی وجہ نہیں۔ “اگر میں پنجاب، گلگت اور باقی صوبوں کی اسمبلی کی قراردادوں کا احترام کرتا ہوں تو سندھ اسمبلی کی قراردادوں کو نظرانداز کیسے کر سکتا ہوں؟” انہوں نے مزید کہا کہ 2008 سے 2013 تک پی پی پی کے دورِ حکومت میں وفاق کی علامت کے طور پر ہر صوبے کی نمائندگی، خودمختاری اور حقوق کا احترام کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کا ماننا ہے کہ نئے صوبوں کا ایجنڈا عوامی فلاح کے لیے ہونا چاہیے نہ کہ سیاسی مفادات کے لیے۔ فیصلہ پارلیمنٹ، متعلقہ صوبائی اسمبلیوں اور عوام کی مشاورت سے ہی ہونا چاہیے۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عام انتخابات سے محض ایک سال قبل ہی وہاں کی بھارت نے حملے کئے جس کے نتیجے میں کئی کشمیر کے شہری شہید ہوئے۔ یہ الیکشن تمام جماعتوں کے لیے قابلِ قبول اور غیر متنازع ہونا چاہیے تھا تاکہ کشمیر کاز کو دنیا کے سامنے مضبوطی سے پیش کیا جا سکے، لیکن وفاقی حکومت نے اپنے مفاد کے لیے اس پورے عمل کو متنازع بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی مخصوص نشستیں منظم طریقے سے چوری کی گئیں۔ بھمبر اور میرپور میں ہمارے پرامن کارکنوں پر مسلح حملے کیے گئے۔ اس تشدد میں ہمارا ایک کارکن شہید ہوا، پیپلز پارٹی کے ایم این اے پر براہ راست فائرنگ کی گئی، اور صدر آزاد کشمیر پر بھی حملہ کیا گیا۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ انتخابی مدت کے دوران وفاقی حکومت کی پوری انتظامی اور سیاسی مشینری آزاد کشمیر میں متحرک تھی۔ اس مداخلت کے باعث چھ مراحل پر مشتمل انتخابی عمل بھی شفافیت کے معیار پر پورا نہیں اتر سکا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن، پارلیمنٹ اور دیگر تمام آئینی فورمز پر اپنے جائز اعتراضات پیش کیے۔ لیکن مسلم لیگ ن نے نہ صرف ہمارے تحفظات کو نظر انداز کیا بلکہ الیکشن کے بعد بھی کوئی سنجیدہ مکالمہ نہیں کیا۔ ایسے رویے اور سلوک کے بعد کہا جاتا ہے کہ ہم اتحادی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کے منتخب ہونے سے قبل ن لیگ کے ساتھ جو سیاسی مفاہمت اور وعدے طے ہوئے تھے، ان پر ایک فیصد بھی عمل نہیں کیا گیا۔ پیپلز پارٹی نے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں تعاون کیا، لیکن جب وعدے پورے نہ ہوں تو اتحاد کا کوئی مطلب نہیں رہتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا جب تک آزاد کشمیر کے انتخابات سے متعلق پاکستان پیپلز پارٹی کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے اور سیاسی وعدوں پر عمل نہیں ہوتا، ن لیگ کے ساتھ پیپلز پارٹی کا کوئی حقیقی اتحاد ممکن نہیں ہے۔ تاہم اگر قومی مفاد، کشمیر کاز یا عوام کے حقوق کا معاملہ ہو تو پی پی پی ہمیشہ پارلیمنٹ کے اندر تعمیری کردار ادا کرے گی اور عوام کی آواز بنے گی۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر حکومت کا مقف یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں پی پی پی کی ضرورت نہیں تو ہم اس حقیقت کو قبول کرتے ہیں۔ لیکن سیاسی منافقت یہ ہے کہ ایک طرف ن لیگ کا بیانیہ یہ بنایا جاتا ہے کہ پی پی پی حکومت کے راستے میں کھڑی ہے، اور دوسری طرف ہر اہم قانون، ہر آئینی ترمیم اور ہر مشکل بل کے لیے انہیں پی پی پی کے ووٹ اور حمایت درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اپنے کئی ایسے اہداف ہیں جنہیں وہ ایوان میں اکیلے حاصل نہیں کر سکتی۔ ہم نے پارلیمانی روایت کے تحت اپنے تحفظات پیش کیے، متبادل تجاویز دیں، اور قومی مفاد میں تعاون کی پیشکش بھی کی۔ لیکن حکومت نے نہ ہماری بات سنی، نہ ہمارے اعتراضات کو اہمیت دی۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور پارلیمانی نمائندوں کو یہ ہدایت نہیں کر سکتا کہ وہ ایسے اقدامات میں شریک ہوں جن پر ہماری جماعت کو اصولی اختلاف ہے۔ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ بغیر مشاورت کے سب کچھ کروا لے گی تو وہ پہلے صدر پاکستان کو قائل کرے۔ چیئرمین بلاول نے کہا کہ پی پی پی کی خواہش ہے کہ پارلیمنٹ فعال، مضبوط اور باوقار ہو۔ یہاں کی عوام امن اور پرسکون ماحول میں رہے۔ انہوں نے کہا ملک مسائل کا شکار ہے اور ان کا حل ڈنڈے یا اکثریت کے زور سے نہیں نکلے گا۔ قانون سازی کا راستہ صرف اتفاق رائے، مکالمے اور آئینی حدود کے احترام سے گزرتا ہے۔ زبردستی سے بننے والے قانون نہ پارلیمنٹ کی عزت بڑھاتے ہیں نہ عوام کا اعتماد۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کشمیر کو اس وقت “سچ اور مفاہمت” کی پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ قومی استحکام کا تقاضا ہے کہ ہم سیاسی انتقام اور تصادم کے بجائے آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں۔ کسی بھی فرد یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ماضی میں رونما ہونے والے واقعات کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیق ہونی چاہیے تاکہ اصل ذمہ داروں کا تعین کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے، جبکہ اس پورے عمل میں یہ امر ملحوظ خاطر رکھا جائے کہ کسی بے گناہ شہری کو غیر ضروری ہراسانی یا سزا کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی بندش سے نوجوانوں، طلبہ، فری لانسرز، آئی ٹی سیکٹر اور چھوٹے کاروبار شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ڈیجیٹل معیشت اور آن لائن تعلیم کو اس طرح مفلوج کرنا ملکی ترقی کے مفاد میں نہیں۔ حکومت کو فوری طور پر اس حوالے سے پالیسی واضح کرنی چاہیے تاکہ نوجوانوں کا مستقبل دا پر نہ لگے۔ چیئرمین بلاول نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کو متنازع بنانا نہ صرف جمہوری روایات کے خلاف ہے بلکہ کشمیر کاز کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ وفاقی انتظامی مشینری کی موجودگی اور چھ مراحل پر مشتمل انتخابی عمل کے باوجود شفافیت کا فقدان تشویشناک ہے۔ پیپلز پارٹی کی نشستوں میں رد و بدل اور انتخابی نتائج پر سوالات نے پورے عمل کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ کشمیر کے عوام کی رائے کا احترام اور وہاں آزادانہ سیاسی سرگرمیوں کی ضمانت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان دنیا کے سامنے کشمیر کا مقدمہ اسی وقت مثر طریقے سے پیش کر سکتا ہے جب آزاد کشمیر میں جمہوری اقدار اور آئینی حقوق مکمل طور پر بحال ہوں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پارلیمنٹ اور تمام سیاسی قوتوں کو یہ یقین دہانی کروائے کہ کسی بھی کمیشن کی تشکیل اور شفاف تحقیقات کے بغیر انتقامی کارروائیوں کا راستہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔ انصاف نہ صرف ہونا چاہیے بلکہ ہوتا ہوا دکھائی بھی دینا چاہیے۔ ملک صرف سچ بول کر، ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر اور تمام اکائیوں کو ساتھ لے کر ہی آگے بڑھ سکتا ہے، کیونکہ انتقام کی سیاست نے ماضی میں قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب وہ وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز تھے تو ہر بین الاقوامی فورم پر انہوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے جو خطے میں استحکام اور تعاون کا خواہاں ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قربانیاں دی ہیں اور اب بھی اس کا عزم غیر متزلزل ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ آج بی ایل اے، سندھی نیشنلسٹ گروپز اور ٹی ٹی پی کے درمیان ایک خطرناک نیکسز تشکیل پا رہا ہے اور ان عناصر کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں اور وہ مربوط منصوبہ بندی کے تحت کراچی سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی سازش کر تے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا یہ رجحان نہ صرف ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی تشویشناک ہے۔ ریاست کو اس نیکسز کو توڑنے کے لیے سفارتکاری اور سیکیورٹی کی سطح پر مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ بیرونی سرپرستی کے ساتھ ہونے والی دہشت گردی کا ہر راستہ بند کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول نے کہا کہ پاکستان کے دشمن نہیں چاہتے کہ ملک معاشی اور سیاسی طور پر کامیاب ہو۔ اسرائیل اور بھارت جیسی قوتیں “آپریشن سندور” جیسے منصوبوں کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کی سازشیں کر رہی ہیں۔ ان سازشوں کا مقصد پاکستان کے اندرونی انتشار کو ہوا دینا اور عالمی سطح پر ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ ہمیں ان عزائم کو ناکام بنانے کے لیے قومی یکجہتی، بہتر خارجہ پالیسی اور اندرونی سیاسی استحکام کو یقینی بنانا ہوگا۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو سب سے بڑا خطرہ اس وقت یہ ہے کہ جب اس کے اپنے اراکین اس کے آئینی کردار اور تقدس کو تسلیم نہ کریں۔ اپوزیشن کا پارلیمنٹ سے دور رہنے کا فیصلہ سیاسی طور پر بھی درست نہیں اور جمہوری روایات کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے کہا مسائل کا حل ایوان سے باہر نہیں بلکہ ایوان کے اندر مکالمے، قانون سازی اور احتساب کے ذریعے ہی نکل سکتا ہے۔ پارلیمنٹ کو فوری طور پر فعال بنانا ہوگا تاکہ وہ عوام کے مسائل، قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی جیسے اہم امور پر اپنا آئینی کردار ادا کر سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ایک مضبوط پارلیمنٹ ہی وہ فورم ہے جہاں سے ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا مثر جواب دیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں