اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تجارت کا فروغ ،کاروباری سرگرمیوں میں آسانی پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور حکومت کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔وزیراعظم آفس سے جاری اعلامئے کے مطابق جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کا پہلا اجلاس ہوا جس وفاقی وزرا رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ، جنید انور چوہدری، مشیر وزیراعظم ہارون اختر خان، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کے ممبران نے شرکت کی۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارت کے فروغ اور کاروباری سرگرمیوں میں آسانی پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، تجارتی عمل میں غیرضروری تاخیر کا خاتمہ، کاروباری لاگت میں کمی اور برآمدات کے فروغ کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔وزیراعظم نے کہا کہ تجارت میں سہولت کاری کے ذریعے پاکستان کو علاقائی اور عالمی سپلائی چینز کا موثر حصہ بنانے کےلئے حکومت پرعزم ہے، ٹریڈ فسیلیٹیشن بورڈ کا بنیادی مقصد تجارت سے متعلق تمام طریقہ کار میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے حکام کو ہدایت کی کہ زیادہ حجم کی حامل بندرگاہوں پر تمام متعلقہ ادارے کاروباری برادری کو ایک ہی مقام پر سہولیات فراہم کریں، مختلف اداروں کی مشترکہ انسپیکشن اور مشترکہ پروفائلنگ کے نظام کو فروغ دیا جائے اور تمام نان ٹیرف اقدامات کا جامع آڈٹ کیا جائے اور تجارت کے راستے میں حائل غیر ضروری رکاوٹیں دور کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی بندرگاہوں تک براہ راست شپنگ لائنز لانے کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں، براہ راست شپنگ سہولت سے پاکستانی فیکٹریوں سے عالمی خریداروں تک مصنوعات کی ترسیل مزید آسان اور تیز ہوگی۔وزیراعظم نے قومی تجارتی کارکردگی انڈیکس تیار کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ قومی تجارتی کارکردگی انڈیکس میں کارگو ڈویل ٹائم،، کسٹمز کلیئرنس، لاجسٹکس، شپ کلیئرنس ٹائم، پوسٹ کلیئرنس آڈٹ اور پری کلیئرنس سمیت دیگر اہم اشاریوں کی پیمائش کی جائے گی اور ہدایت کی کہ تجارت میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کا حصہ بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ ایس ایم ایز کے تجارتی سفر کے مختلف مراحل کی میپنگ کے ذریعے انہیں درپیش رکاوٹوں کی نشان دہی کی جائے، تجارت میں سہولت کے لیے رسک مینجمنٹ نظام کو مزید مثر بنایا جائے، کارگو کلیئرنس کے عمل کو تیز کرنے کے لیے کنٹرولز کو پری ارائیول سے پوسٹ ریلیز مرحلے تک وسعت دی جائے۔انہوں نے کہا کہ صرف ہائی رسک کارگو کی تفصیلی جانچ پڑتال کی جائے، رسک مینجمنٹ کو مزید مثر بنانے اور تجارتی عمل تیز کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت سے استفادہ کیا جائے۔اجلاس کو تمام بندرگاہوں کے لیے ٹائم ریلیز آٹومیٹڈ سسٹم کے اہداف سے آگاہ کیا گیا اور بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک 30 فیصد پری ارائیول کلیئرنس کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، رواں مالی سال کے اختتام تک گرین چینل کا حصہ 65 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک مجاز اقتصادی آپریٹرز کی تعداد 50 سے زائد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا، اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے تمام بندرگاہوں کے لیے ٹائم ریلیز آٹومیٹڈ سسٹم کے مقررہ اہداف کی منظوری دے دی۔وزیراعظم نے نان ٹیرف اقدامات کے جائزے کےلئے ورکنگ گروپ کی منظوری دی اور ہدایت کی کہ یہ ورکنگ گروپ غیر ضروری قواعد کے خاتمے اور تجارت میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ایک مہینے کے اندر روڈ میپ پیش کرے۔
تجارت کا فروغ ،کاروباری سرگرمیوں میں آسانی پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ، شہباز شریف
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل