مذاکرات ناکام ہوئے تو خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگ سکتا ہے، بلاول بھٹوزرداری

کراچی۔۔۔۔۔۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت ایک ہفتہ قبل خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کے لیے تیار تھی، تاہم گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ آخری آئینی و قانونی آپشن ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر راج ایٹم بم کی طرح ہے، اسے انتہائی مجبوری میں استعمال کیا جانا چاہیے، لیکن اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگ سکتا ہے۔ ان کے بقول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اس صورت حال تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔بلدیہ ٹاو¿ن میں 25 ایکڑ رقبے پر قائم اسپورٹس کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے حالات سب کے سامنے ہیں۔ ایک وزیراعلیٰ مذاکرات کا راستہ چھوڑ کر منفی سیاست کی طرف جا رہا ہے، جس کا نقصان خود پاکستان تحریک انصاف کو ہو رہا ہے۔ پی ٹی آئی اپنے فیصلوں سے اپنے کارکنوں اور حامیوں کو مایوس کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سہیل آفریدی واقعی عمران خان سے مخلص ہیں تو انہیں انتہا پسندی کی سیاست ترک کردینی چاہیے، ورنہ عمران خان جیل میں رہنے کے حوالے سے آصف علی زرداری کا ریکارڈ بھی توڑ سکتے ہیں۔ آصف علی زرداری 14 سال جیل میں رہے، تاہم ملک کی تاریخ ہے کہ جیل جانے والے رہائی بھی پاتے رہے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیادی سوچ مذاکرات اور سیاسی مکالمہ ہے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کی مذاکرات کے لیے کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ کامیاب ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ایسے حالات میں اگر صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ تعاون نہ کرے تو ایمرجنسی یا گورنر راج کی مخالفت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا خود چاہتے ہیں کہ وہاں گورنر راج نافذ ہو۔ سیاسی استحکام کے بغیر دہشت گردی سے نمٹنا مشکل ہوگا۔نئے صوبوں کے قیام کے مطالبے پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ صوبہ بنانے کا فیصلہ عوام کی رائے اور اتفاق رائے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے مصطفیٰ کمال، محسن نقوی اور کاروباری برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے پر عوامی رابطہ مہم چلائیں اور بلدیہ، لیاری، سانگھڑ، لاڑکانہ اور سجاول سمیت مختلف علاقوں میں جا کر لوگوں سے پوچھیں کہ آیا وہ نیا صوبہ چاہتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام صوبے کا مطالبہ کرتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے اور پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہے۔ جہاں عوام صوبہ بنانے کے حق میں ہوں اور اتفاق رائے موجود ہو، وہاں اس معاملے پر پیش رفت ہونی چاہیے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کراچی ماضی میں نفرت اور تقسیم کی سیاست کا خمیازہ بھگت چکا ہے، جس کے نتیجے میں شہر نے لاشیں اٹھائیں اور بھائی کو بھائی سے لڑایا گیا۔ پیپلز پارٹی کی کوششوں سے شہر میں امن قائم ہوا اور اب پارٹی مثبت سیاست کے ذریعے نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیہ ٹاو¿ن میں اسپورٹس کمپلیکس کا قیام نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کی کوشش ہے، جبکہ بعض سیاسی قوتیں نوجوانوں کو جرائم کی طرف دھکیلنا چاہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسپورٹس کمپلیکس میں کرکٹ، فٹ بال اور فٹسال سمیت کھیلوں کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ اس سے قبل ٹی پی ون پانی کے منصوبے اور تھرکول بلاک ٹو کے تیسرے مرحلے کا افتتاح کیا گیا تھا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں، تاہم غربت میں اضافے اور معاشی مشکلات کے باعث سیاسی استحکام کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، صوبائی وزرائ سعید غنی اور وقار مہدی، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور بلدیہ عظمیٰ کے میونسپل کمشنر ابرار جعفر بھی موجود تھے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اسپورٹس کمپلیکس کا افتتاح کیا اور پودا بھی لگایا۔میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسپورٹس کمپلیکس کے لیے مختص 25 ایکڑ زمین پر قبضے اور غیر قانونی تعمیرات کا خدشہ تھا، تاہم پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے اسے محفوظ بنانے میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بعض لوگ محدود رقبے پر منصوبے بناتے ہیں، وہاں بلدیہ ٹاو¿ن میں 25 ایکڑ پر کھیلوں کی سہولتیں قائم کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق ضلع کیماڑی میں این آئی سی وی ڈی کے سیٹلائٹ سینٹر سمیت دیگر منصوبے بھی عوامی سہولت کے لیے اہم ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں