تہران۔۔۔۔۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر سلطنتِ عمان کے ساتھ مفاہمت طے کر لی ہے۔ایرانی خبر رساں ایجنسی نے ایک ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں داخلے اور وہاں سے اخراج کے لیے بحری جہازوں کے نئے راستوں کی تفصیلات پر اتفاق کیا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ ایرانی،عمانی مفاہمت کے تحت آبنائے ہرمز فوری طور پر دوبارہ نہیں کھولا جائے گا، بلکہ اس کے لیے بنیاد فراہم کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق مفاہمت میں جنوبی بحری راستے کو بند رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، حالانکہ امریکہ اس راستے کو کھولنے پر زور دے رہا ہے۔یہ بات ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے بیانات سے متصادم دکھائی دیتی ہے۔ایرانی مقف میں تضادآبنائے ہرمز کے حوالے سے ایرانی مقف میں تضاد سامنے آیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس سے قبل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے امکان کا عندیہ دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ قدم واشنگٹن کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی اور ایرانی بندرگاہوں پر فوجی حملے ختم کرنے سے مشروط ہوگا۔یہ تہران کے سابقہ مقف سے پسپائی بھی سمجھی جا رہی ہے، جب ایران نے آبنائے ہرمز کے انتظام پر اپنے اختیار پر اصرار کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ کوئی بھی بحری جہاز ایران کے ساتھ رابطہ اور رابطہ کاری کے بغیر وہاں سے گزر نہیں سکے گا۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو سلطنتِ عمان کے ساتھ مفاہمت اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف عائد کردہ ناکہ بندی اور جارحیت کے خاتمے سے مشروط کیا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ تہران مسقط میں ہونے والے آئندہ وزارتی اجلاس کے نتائج سے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کو آگاہ کرے گا۔پزشکیان نے کہاکہ ہم نے اس معاملے پر سلطنتِ عمان کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں اور ایک مخصوص فریم ورک اور لائحہ عمل پر مفاہمت طے کی ہے۔ پیر کو عمان میں وزارتی اجلاس ہوگا، جس میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے مفاہمت طے پانے کے معاملے پر بات چیت کی جائے گی، ہم نتائج سے متعلقہ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کو آگاہ کریں گے۔اس کے نتیجے میں اس معاہدے کے تحت اور بین الاقوامی قانون کے مطابق یہ گزرگاہ کھلی رہے گی، بشرطیکہ امریکہ ہمارے خلاف اپنی ناکہ بندی اور جارحانہ کارروائیاں ختم کرے۔
آبنائے ہرمز کے معاملے پر عمان سے مفاہمت ہوگئی،ایرانی صدر
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل