کوئٹہ(خ ن)وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سول اور ملٹری بیلنس برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کو مو¿ثر کارروائی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا، ریاست کسی صورت اپنے شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری کی جانب سے پوائنٹ آف آرڈر پر اٹھائے گئے معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ اس موقع پر وہ پہلے حالیہ دہشت گردی کے واقعے کا ذکر کرنا چاہیں گے جس کا تذکرہ رکن صوبائی اسمبلی نور محمد دمڑ نے کیا۔ دہشت گردوں نے جس انداز میں سیکیورٹی فورسز پر حملہ کیا اور بے دردی سے ہمارے لوگوں کو شہید کیا، اس کی مذمت کے لیے الفاظ بہت کم ہیں۔ شہداءکا مقام بہت بلند ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ شہداءرسول اللہ ﷺ کی شفاعت میں ہوں گے اور اس دنیا سے بہتر مقام پر ہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ پہلے دن سے بلوچستان اسمبلی جیسے نمائندہ اور معزز ایوان کے سامنے یہ بات رکھنے کی کوشش کرتے آ رہے ہیں کہ دہشت گردی کو سمجھنے کے لیے یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ سیکیورٹی فورسز اس وقت ایک ”گرے زون“ میں آپریٹ کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کی جانب سے ان کے سابقہ بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے اور سیاسی اسکورنگ بعض لوگوں کا خاص مشغلہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ انہیں آئی ایس پی آر کا نمائندہ قرار دیتے ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ ریاست پاکستان اور اسی معزز ایوان نے انہیں یہ ذمہ داری دی ہے کہ وہ ریاست کا بیانیہ، حکومت کا بیانیہ اور دہشت گردی و ترقی کے حوالے سے حکومت کا مو¿قف اسمبلی کے سامنے رکھیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کسی صورت سول اور ملٹری کے درمیان عدم توازن کا متحمل نہیں ہو سکتا، بلکہ موجودہ حالات میں سول اور ملٹری بیلنس کی اشد ضرورت ہے۔ یہ انتہائی پریشان کن امر ہے کہ تقریباً ہر اسمبلی اجلاس کا آغاز فاتحہ خوانی سے ہوتا ہے، یہ کوئی معمول کی صورتحال نہیں۔ روزانہ لوگ شہید ہو رہے ہیں، سیکیورٹی اہلکاروں کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے اور شہداءکی لاشوں کو جلایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز شہید ہونے والے ایک کیپٹن کی صرف چھ ماہ کی بیٹی ہے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس خاندان پر کیا گزر رہی ہوگی۔ اسی طرح دالبندین میں شہید ہونے والے دوسرے کیپٹن اور ان کے خاندان کا دکھ بھی ناقابل بیان ہے۔ اس جنگ میں کئی کرنل، جرنیل، سیکیورٹی اہلکار، پولیس جوان اور سویلین شہید ہو چکے ہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ انہیں گزشتہ روز غالباً بسیمہ سے ایک بچے کا فون آیا جس نے بتایا کہ بی ایل اے کے لوگ اس کے بھائی کو لے گئے ہیں، حالانکہ وہ خود کہہ رہے تھے کہ وہ بے گناہ ہے اور اس نے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک بے گناہ بلوچ کو محض اس بنیاد پر قتل کر دیا گیا کہ اس نے مبینہ طور پر ان کی بندوق چھیننے کی کوشش کی۔ اسی طرح لوگوں کو بسوں سے اتار کر قتل کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ پاکستان کی فوج، سیکیورٹی فورسز یا بلوچستان حکومت نے کبھی عوام سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ وہ بندوق اٹھائیں اور دہشت گردوں کے خلاف لڑیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ کمانڈر 12 کور نے کسی رکن اسمبلی یا عام شہری سے بندوق اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے اور نہ حکومت ایسا چاہتی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کا مطالبہ صرف ”اینیبلنگ انوائرمنٹ“ فراہم کرنے کا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے سابقہ بیان کا مقصد بھی یہی تھا کہ اگر کسی شخص کی نجی ملکیت، باغ، گھر، دکان یا ہوٹل دہشت گردوں کی جانب سے حملوں کے لیے استعمال ہو رہا ہو تو ریاست اس صورتحال کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ اگر ایک ہمسایہ روزانہ دوسرے کے گھر پر پتھراو¿ یا فائرنگ کرے تو اس کا ردعمل لازمی ہوگا۔ اسی طرح اگر کسی باغ کو دہشت گرد حملہ آوروں کی آڑ، ہیومن شیلڈ یا مورچہ کے طور پر استعمال کیا جائے تو ریاست کے لیے کارروائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاست نے کبھی باغ کے مالک یا عام شہری سے یہ نہیں کہا کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف بندوق اٹھائے۔ ریاست کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ اگر کسی کی نجی ملکیت میں مسلح جتھہ آ کر مورچہ بند ہوتا ہے یا وہاں سے سیکیورٹی فورسز پر حملہ کیا جاتا ہے تو متعلقہ شخص قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ اور پشتون معاشروں میں صدیوں سے روایات رہی ہیں کہ اگر کسی شخص کو معلوم ہو کہ کسی مسافر کا دشمن آگے راستے میں موجود ہے تو اسے روکا جاتا ہے، خبردار کیا جاتا ہے اور اسے بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی باغ میں آ کر مورچہ بند ہو جائے تو قبائلی معاشرے میں یہ ماننا مشکل ہے کہ باغ کے مالک کو اس کا علم ہی نہ ہو۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر کسی شخص کو علم ہو کہ مسلح افراد اس کی زمین یا باغ میں موجود ہیں تو اس کے پاس کئی راستے ہیں۔ وہ اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ہوم ڈیپارٹمنٹ یا دیگر متعلقہ اداروں کو اطلاع دے سکتا ہے۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے عوام کو اطلاع دینے کے لیے نمبرز بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ اگر کوئی شخص بروقت اطلاع دے دے تو اس کے بعد وہ اپنی ذمہ داری پوری کر دیتا ہے، لیکن اگر اطلاع بھی نہ دی جائے تو ریاست کے پاس اسے دہشت گردوں کا سہولت کار سمجھنے کے سوا کیا راستہ رہ جاتا ہے؟ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ حکومت فوری طور پر کوئی انتہائی قدم اٹھانے جا رہی ہے، تاہم اگر نجی املاک مسلسل ریاستی اہلکاروں، فوج، ایف سی، پولیس یا دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف استعمال ہوتی رہیں تو حکومت کے پاس قانون کے مطابق کارروائی کے سوا کیا راستہ باقی رہ جاتا ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اگر اس معاملے کو مسلسل نظر انداز کیا گیا اور باغات سے حملے جاری رہے تو مستقبل میں سیکیورٹی فورسز کے لیے براہ راست کارروائی کے سوا کیا راستہ رہ سکتا ہے جس کے نتیجے میں وہاں کام کرنے والے بے گناہ مزدور بھی کولیٹرل ڈیمیج کا شکار ہو سکتے ہیں۔ پھر یہی ایوان ان بے گناہ شہریوں کے قتل پر سوال اٹھائے گا۔ اس لیے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسا ماحول دینا ہوگا جس میں وہ مو¿ثر کارروائی کر سکیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئین شہریوں کو حقوق دینے کے ساتھ ریاست کے ساتھ وفاداری اور ذمہ داری بھی عائد کرتا ہے۔ ریاست کے ساتھ وفاداری آئینی ذمہ داری ہے اور اگر شہری اپنی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے تو ریاست کے پاس کوئی دوسرا آپشن باقی نہیں رہے گا۔نقل مکانی کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ماضی میں پورے کے پورے ڈویژن، مالاکنڈ، شمالی و جنوبی وزیرستان اور دیگر علاقوں سے آبادیوں کو عارضی طور پر منتقل کیا گیا، آئی ڈی پیز بنیں اور خیبر سمیت مختلف علاقوں میں نقل مکانی ہوئی، لیکن بلوچستان میں آج تک ایک گاو¿ں بھی خالی نہیں کرایا گیا انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ منصوبے میں مستونگ شامل نہیں ہے اور نہ ہی بلوچستان کے دیگر علاقوں کی آبادی کو نقل مکانی کا سامنا ہوگا۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شور پارود ایک پہاڑی سلسلہ ہے جہاں 1970ءسے آج تک مختلف ادوار میں مسلح افراد کے ٹھکانے اور فراری کیمپ موجود رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ بلوچستان میں امن کے ادوار میں مسئلہ مکمل طور پر ختم ہو گیا تھا، بلکہ ان ادوار میں بھی بعض عناصر جنگ کی تیاری کرتے رہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ شور پارود کے علاقے میں تقریباً ایک ہزار افراد کی آبادی ہے اور حکومت کے سروے کے مطابق یہ زیادہ تر خانہ بدوش آبادی ہے۔ ان لوگوں کو نوٹسز دیے گئے ہیں اور انہیں عارضی طور پر کسی دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا۔ حکومت ان کی مکمل دیکھ بھال کرے گی، ان کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے جائیں گے اور ان کی عزت و احترام، بالخصوص خواتین، بچوں اور بزرگوں کا خصوصی خیال رکھا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ مستقل نقل مکانی نہیں بلکہ مخصوص مدت کے لیے عارضی انتظام ہوگا تاکہ علاقے میں موجود محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ان محفوظ پناہ گاہوں میں دہشت گرد آرام سے منصوبہ بندی کرتے، اپنے دیگر لوازمات مکمل کرتے اور پھر انسانی ڈھال استعمال کرتے ہوئے ریاستی اہلکاروں پر حملے کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ شہداءکے بچوں، بیواو¿ں اور ان بوڑھے والدین کو کیا جواب دیں جن کے بچے روزانہ اس جنگ میں جانیں قربان کر رہے ہیں؟ کہیں نہ کہیں ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت کو بھی اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک طرف ”وار فی¿ر“ ہے جس کی ذمہ داری ملٹری، پیراملٹری اور پولیس پر ہے، جبکہ دوسری طرف ”لاءفی¿ر“ ہے اور اس کی ذمہ داری اس معزز ایوان پر عائد ہوتی ہے۔ آئین پاکستان نے اس ایوان کو جو ذمہ داری دی ہے، اسے پورا کرنا ہوگا اور اپنی ذمہ داری سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے ارکان ان کے لیے انتہائی محترم ہیں اور وہ ہر رکن کا احترام کرتے ہیں۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ جب لاءاینڈ آرڈر پر بحث ہوتی ہے تو محض پوائنٹ اسکورنگ یا الزام تراشی کے بجائے کوئی تعمیری حل بھی پیش کیا جانا چاہیے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ کسی کو مورد الزام ٹھہرانے یا کسی کے جذبات مجروح کرنے کے لیے نہیں کھڑے ہوئے۔ اگر ان کی کسی بات سے کسی کی دل آزاری ہوئی تو وہ معذرت خواہ ہیں۔ ان کا مقصد لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا اور مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے انہوں نے کہا کہ جب بھی لاءاینڈ آرڈر کی صورتحال پر بحث ہو تو بنیادی سوال یہ ہونا چاہیے کہ حل کیا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت دو ہی راستے ہیں انہوں نے کہا کہ پہلا راستہ ڈائیلاگ کا ہے۔ اگر مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل ہو سکتا ہے تو اس سے بہتر کوئی بات نہیں۔ انہوں نے اپوزیشن ارکان اور پارلیمنٹ سے باہر جرگے کرنے والے افراد کو کئی بار دعوت دی کہ وہ قیادت کریں اور کوئی قابل عمل راستہ نکالیں۔ اگر وہ مسئلہ حل کر سکتے ہیں تو حکومت اس کا خیرمقدم کرے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایک مثال بھی بتائی جائے جہاں کسی ایسے گروہ کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل ہوا ہو جس نے تشدد کا راستہ اختیار کیا ہو۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ دوسرا راستہ یہ ہے کہ لاءفی¿ر اور گورننس کو بہتر بنانے کے ساتھ وار فی¿ر کو بھی مو¿ثر بنایا جائے، انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز ہوں، ضرورت کے مطابق ملٹری آپریشنز ہوں، فرنٹی¿ر کور کے آپریشنز ہوں یا پولیس، سی ٹی ڈی اور اے ایس او ڈبلیو کے آپریشنز ہوں۔انہوں نے کہا کہ جب بھی آپریشنز کی بات ہوتی ہے تو اگلے ہی روز اخبارات میں بڑے بڑے سیاسی رہنماو¿ں کے بیانات آ جاتے ہیں کہ بلوچستان آپریشنز کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر آپریشنز نہیں کرنے تو پھر متبادل حل بھی بتایا جائے کہ دہشت گردی سے کیسے نمٹا جائے۔ وزیراعلیٰ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ موجودہ نقل مکانی کے منصوبے میں مستونگ شامل نہیں ہے۔ یہ صرف فٹ ہلز میں رہنے والی ایک محدود آبادی کے حوالے سے ہے، جن میں ایسے لوگ شامل ہیں جو اپنی بھیڑ بکریاں اور مویشی چراتے ہیں اور موسمی طور پر خود بھی نقل مکانی کرتے ہیں۔ سردیوں اور گرمیوں میں ان کی نقل و حرکت معمول کا حصہ ہے۔ حکومت ان کے لیے مناسب انتظام کرے گی، ان کی عزت و احترام کا خیال رکھا جائے گا اور خاص طور پر خواتین، بچوں اور بزرگوں کی ضروریات کا خیال رکھا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ منصوبہ ابھی صرف پلاننگ اسٹیج پر ہے، اس پر عملدرآمد شروع نہیں ہوا۔ باغات اور نجی املاک کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے بلوچستان کے عوام سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردوں کو اپنی نجی املاک استعمال نہ کرنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عام شہریوں سے بندوق اٹھانے کا مطالبہ نہیں کر رہی کیونکہ دہشت گردوں کے خلاف لڑنا فوج، پیراملٹری فورسز اور پولیس کی ذمہ داری ہے۔ عوام کی ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بروقت اطلاع دیں۔انہوں نے کہا کہ ہوٹل ایکٹ کے تحت ہوٹل میں قیام کرنے والے افراد کی اطلاع دینا لازم ہے، اسی طرح شہروں میں رینٹل ایکٹ کے تحت کسی مکان یا جائیداد کو کرائے پر دینے کی صورت میں متعلقہ پولیس کو آگاہ کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہی اصول باغات اور دیگر نجی املاک پر کیوں لاگو نہیں ہو سکتا؟ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر کسی قبائلی شخص کے باغ سے دہشت گرد ریاستی اداروں پر حملہ کریں تو اسے یہ سوچنا ہوگا کہ اگر یہی صورتحال اس کے اپنے گھر کے ساتھ پیش آئے تو کیا وہ اسے معمولی بات سمجھے گا؟ ریاستی اہلکاروں کے بچے بھی بچے ہیں اور ان کے خاندان بھی خاندان ہیں۔ یہ سوچ کہ ریاستی اداروں کے اہلکاروں کے خلاف حملے ہوتے رہیں اور سب خاموش رہیں، اب مزید قابل قبول نہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے اپنے خطاب میں بلوچستان کے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی نجی املاک کو دہشت گردوں کے استعمال سے محفوظ رکھیں اور اگر کوئی مسلح گروہ ان کی زمین، باغ، گھر یا کسی دوسری نجی ملکیت کو استعمال کرنے کی کوشش کرے تو فوری طور پر متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا پہلا مطالبہ اور درخواست بلوچستان کے تمام بھائیوں سے یہی ہے کہ اپنی نجی املاک دہشت گردوں کو استعمال نہ کرنے دیں۔ اگر نجی املاک دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی رہیں گی تو صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے، اور جب وہ حد عبور ہو جائے تو ریاست کے پاس کارروائی کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں رہتا۔
بلوچستان میں سول اور ملٹری بیلنس برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے،وزیر اعلیٰ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل