اسلا م آباد۔۔۔۔۔ سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ اقتدار بذاتِ خود مقصد نہیں، اقتدار کا مقصد عدل و انصاف کا نفاذ ہونا چاہیے،قوم، سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کو تقسیم کرنے کی پالیسی ملکی مفاد میں نہیں، صوبوں کو توڑنے کی بجائے ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ اپنے پیغام میں انہوںنے کہاکہ سیرت النبی کے اجتماعات سے انسانیت کےلئے رسول اللہ کے پیغام کو تازہ کیا جاتا ہے، قرآن کریم کے ساتھ حکمت کا ذکر ہے، حکمت سے مراد رسول اللہ کی سنت بھی ہے۔انہوںنے کہاکہ رسول اللہ کا ہر قول و فعل کتاب و سنت کا حصہ ہے، صحابہ کرامؓکی زندگی ہمارے لیے معیار ہے، انہیں حق نہ سمجھنے والا گمراہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی استطاعت کے مطابق مکلف بنایا ہے، کامیابی یا ناکامی ہماری ذمہ داری نہیں، دین کے لیے محنت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوںنے کہاکہ اقتدار بذاتِ خود مقصد نہیں، اقتدار کا مقصد عدل و انصاف کا نفاذ ہونا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ ظلم و جبر کے مقابلے میں عدل و مساوات کا نظام رسول اللہ کی تعلیم ہے۔ اہوںنے کہاکہ حکمرانوں کو اللہ اور رسول کے فیصلوں اور احکامات کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ اسلامی دنیا قدرتی وسائل اور معدنی ذخائر سے مالا مال ہے۔ انہوںنے کہاکہ سیرت النبی پر گفتگو کافی نہیں، ہمیں رسول اللہ کے اخلاق، تعلیمات اور طرز حکمرانی کو اپنانا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ دینی مدارس کی تعلیم کو جرم بنانا قابلِ قبول نہیں، پاکستان میں اسلام اور اسلامی قانون سازی کبھی ترجیح نہیں رہی۔ انہوںنے کہاکہ پارلیمنٹ کو بائی پاس کرکے قانون سازی کرنا آئین اور جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ ملکی دفاع کے لیے مضبوط ادارے ضروری ہیں، لیکن ہر ادارے کے اختیار کی ایک آئینی حد اور دائرہ کار ہے۔ انہوںنے کہاکہ ملک کے نظام میں اداروں کے درمیان اختیارات کا توازن ضروری ہے،پارلیمنٹ میں ہماری آواز قوم تک نہیں پہنچنے دی جاتی۔ انہوںنے کہاکہ طاقت کی بنیاد پر کسی کو مسلط کرنا رسول اللہ کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ انہوںنے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف 20 سال سے زائد عرصے سے آپریشنز کے باوجود مسئلہ بڑھ رہا ہے، حکمت عملی پر نظرثانی ضروری ہے۔ انہوںنے کہاکہ مرض بڑھتا جائے تو سمجھنا چاہیے کہ حکمت عملی میں کہیں نقص ہے، ریاست ماں ہے تو ماں اپنی اولاد کو جوڑتی ہے، تقسیم نہیں کرتی۔ انہوںنے کہاکہ قوم، سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کو تقسیم کرنے کی پالیسی ملکی مفاد میں نہیں، صوبوں کو توڑنے کی بجائے ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ صوبوں کے حقوق اور این ایف سی ایوارڈ میں کمی نہیں ہونی چاہیے، آئین ختم ہوا تو ملک کو دوبارہ سمیٹنا انتہائی مشکل ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ ہم ملکی خیرخواہی چاہتے ہیں، آئین اور پارلیمنٹ کو ان کے اصل راستے پر چلانا چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ قرآن و سنت کی روشنی میں قانون سازی کے لیے موجود نظام کو درست سمت میں چلانا ہوگا، رسول اللہ کی سیرت کا تقاضا ہے کہ عدل، انصاف اور مساوات کے اصول اپنائے جائیں۔ انہوںنے کہاکہ 18 ویں ترمیم اب حلق کا کانٹا بنی ہوئی ہے،این ایف سی معاہدہ کے تحت وسائل صوبوں کے پاس جاتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ آئین ٹوٹ گیا تو نئی آئین ساز اسمبلی بنانی پڑے گی،پھر انشار پھیلے گا جسے سنبھالنا مشکل ہوجائے گا،ہر ادارے کا اختیار متعین ہے۔انہوںنے کہاکہ ،ریاست بھی ماں ہے، ماں تو سب کو جوڑتی ہے۔انہوںنے کہاکہ میں کہتا ہوں کہ ریاست کو ماں بناو،قوم کو ایک بناﺅ۔ انہوںنے کہاکہ ملک کے دفاع کو ہم ناگزیر سمجھے ہیں،تیس سال سے ملک میں دھشتگردی کے خلاف اپریشن چل رہا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ دہشتگردی کم نہیں ہورہی ہے بلکہ بڑھ رہی ہے،اس کا مطلب ہماری حکمت عملی ناکام ہے۔انہوںنے کہاکہ کابینہ کا اختیار کسی اور کے پاس نہیں جاتا چاہیے ،اس کے اثرات دفاقی اداروں پر پڑ سکتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ خیر خواہی یہ ہے کہ ہم کھل کر بات کریں،ہم پارلیمنٹ میں جو بات کرتے ہیں وہ عوام تک نہیں پہنچ پاتی۔مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ معلوم نہیں آج الیکٹرانک میڈیا ہماری آواز عوام تک پہنچا رہا ہوگا ؟ ۔
اقتدار بذاتِ خود مقصد نہیں، اقتدار کا مقصد عدل و انصاف کا نفاذ ہونا چاہیے،مولانا فضل الرحمن
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل