امریکا کا خارگ جزیرے کے قریب ایرانی ٹینکرز پر حملہ۔۔۔۔۔۔۔ ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں کی بارش کردی

واشنگٹن۔۔۔۔۔۔۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ 8 ستمبر کو امریکی افواج نے خام تیل لے جانے والے پانچ ایرانی جہازوں کو تباہ کردیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک بیان میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ کارروائی پاسداران کی جانب سے 2 روز کے دوران بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز کو دو بار نشانہ بنانے کے بعد کی گئی۔سینٹکام کے مطابق امریکی جنگی جہاز ایرانی حملوں کی کوششوں سے کامیابی کے ساتھ بچ نکلنے میں کامیاب رہا، ایرانی حملوں میں کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔واضح رہے کہ امریکا نے ایرانی جزیرے خارگ اور جاسک کے قریب ایران کے آئل ٹینکرز پر میزائل سے حملہ کیا ہے۔۔۔۔رامریکا نے ایرانی جزیرے خارگ اور جاسک کے قریب ایران کے آئل ٹینکرز پر میزائل حملہ کیا ہے۔ادھرایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں الازرق امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ یہ حملہ ایرانی تیل بردار جہازوں پر امریکی حملوں کے ردعمل میں کیا گیا ۔ اردن میں پنٹاگون کا ڈیفنس نظام ایرانی میزائل روکنے کے لیے فعال ہوگیا ہے۔اردن کی جانب سے امریکی اڈے پر حملے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ادھر یوکے ایم ٹی او کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی بحری جہاز سے متعلق واقعے کی اطلاع ملی ہے۔ امریکی حملوں کے بعد پاسداران نے کویت اور بحرین کی بندرگاہوں کے قریب موجود آئل ٹینکرز کے عملے کو علاقوں سے نکل جانے کی وارننگ جاری کی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔وسی میڈیا کا دعوی ہے کہ ایران نے تازہ امریکی حملوں کے جواب میں میزائلوں کی بارش کردی۔روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ اردن میں پینٹاگون کا ڈیفنس نظام ایرانی میزائل روکنے کیلئے فعال ہوگیا ہے، اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی فورسز نے ایران کے 5 خام تیل بردار بحری جہاز تباہ کردیئے ہیں۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی فوجی اڈوں پر اصفہان، تہران، تبریز و خرم آباد سے درجنوں میزائل داغے گئے، اردن میں امریکی فوجی اڈے پر دو درجن سے زائد میزائل داغے گئے۔ایرانی سرکاری میڈیا نے مزید بتایا کہ اردن میں امریکی فوجی اڈے پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔سینٹ کام کے مطابق کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے 2 روز کے دوران امریکی بحری جنگی جہاز کو 2 مرتبہ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کے بعد کی گئی۔ایرانی بحریہ نے خبردار کیا تھا کہ کویت اور بحرین کی بندرگاہوں سے تمام آئل ٹینکروں کا عملہ انخلا کر جائے جہاں امریکی اہلکار ہیں۔۔۔۔۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی)نے دعوی کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں 2 امریکی بحری جہازوں اور 8 آئل ٹینکروں، 10 دیگر جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق آئی آر جی سی نے اپنے بیان میںکہا کہ امریکی دہشت گرد فوج کی جارحیت اور بدنیتی کے جواب میں امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے اس سے قبل 5 ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا تھا۔پاسدارانِ انقلاب نے مزید کہا کہ ہماری افواج نے خلاف ورزی کرنے والے مزید 10 بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ۔ان کا کہنا تھا کہ نشانہ بنائے گئے بحری جہاز امریکا کی جانب سے اشتعال دلائے جانے اور حمایت کے بعد آبنائے ہرمز کے ایک ممنوع اور غیر محفوظ علاقے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز بدستور ایران کی مضبوط اور بااختیار نگرانی اور انتظام میں ہے۔۔۔۔۔۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب بھی ایران امریکی بحریہ کے جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرے گا، اسے اپنے ٹینکرز سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔کولمبیا کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکی جنگی جہازوں پر حملے کی کوششوں کے ردعمل میں امریکا ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بناتا رہے گا۔قبل ازیں امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ 8 ستمبر کو امریکی افواج نے خام تیل لے جانے والے پانچ ایرانی جہازوں کو تباہ کردیا ہے۔۔۔۔۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکا کا بغیر پائلٹ آبدوز قبضے میں لینے کا دعوی کیا ہے۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکی آبدوز کوایک پیچیدہ انٹیلی جنس اور آپریشنل کارروائی کے دوران قبضے میں لیا گیا۔پاسدارانِ انقلاب کا کہنا تھا کہ پکڑی گئی آبدوز جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ایک اسمارٹ اور بغیر پائلٹ آبدوز ہے جو 2025 میں امریکی بحری بیڑے میں شامل کی گئی تھی۔ایرانی حکام کے مطابق اس آبدوز کی اہم صلاحیتوں میں زیرِ آب جاسوسی اور نگرانی، سمندر کی تہہ کا نقشہ تیار کرنا، بارودی سرنگوں کی نشاندہی اور زیرِ آب کیبلز و پائپ لائنز کا معائنہ شامل ہے۔۔۔۔۔ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں پر کڑی تنقید کی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا کہ امریکا پابندیوں اور فوجی کارروائیوں کے بعد بھی اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا، اس لیے ایک بار پھر اقتصادی دبا کا راستہ اختیار کر رہا ہے۔عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ 47سال کی پابندیوں کے بعد امریکا نے اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ لڑی، نتیجے میں امریکا کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، دنیا بھر میں امریکا کی ساکھ متاثر ہوئی۔ایرانی وزیرِ خارجہ نے سوال کیا کہ پابندیوں اور جنگ کے ذریعے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام واشنگٹن کے پاس کیا نیا حل بھی مزید پابندیاں لگانا ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں