منگی ڈیم زیارت واقعہ‘ تحقیقاتی کمیشن نے آئی جی پولیس کی رپورٹ غیرتسلی بخش قراردیدی

کوئٹہ(خ ن)منگی ڈیم ضلع زیارت میں پیش آنے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن آف انکوائری جسٹس محمد عامر نواز رانا نے کھلی عدالت میں سماعت کی۔سماعت کے دوران عبداللطیف کاکڑایڈووکیٹ جنرل بلوچستان، محمد فرید ڈوگر، ایڈیشنل اٹارنی جنرل، انور نسیم کاسی، ڈپٹی اٹارنی جنرلI، حبیب اللہ گل، ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل عبدالمتین، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سمیت دیگر متعلقہ حکام اور وکلاءبھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ اے آئی جی (لیگل) شفیق الرحمان، دفتر انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان، اور کمیشن کے رجسٹرار بھی کارروائی میں شریک ہوئے۔کمیشن کے 18 اگست 2026 کے حکم کی تعمیل میں ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان عبداللطیف کاکڑ، اے آئی جی (لیگل) شفیق الرحمان کے ہمراہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان کی جانب سے جامع رپورٹ پیش کی۔ کمیشن نے جامع رپورٹ کا کھلی عدالت میں جائزہ لیا اور رپورٹ کو ٹی او ار کے تقاضوں اور سوالات کے مطابق نہ ہونے اور ہدایت کے مطابق تمام متعلقہ ریکارڈ پیش نہ کئے جانے پر اسے غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔ مزید اگلی سماعت کے دن ائی جی پولیس بلوچستان کو محکمہ پولیس اور اس کے زیلی محکمہ جات کی جانب سے نئی جامع رپورٹ بمع تمام متعلقہ ریکارڈ ذاتی حیثیت میں پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔اس بابت ایڈووکیٹ جنرل کوآائی جی پولیس کو اگلی سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے سے متعلق آگاہ کرنے کا حکم بھی دیا۔ سماعت کے دوران زیارت، ہرنائی، لورالائی اور ملحقہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے متعدد وکلاءنے کمیشن کے روبرو پیش ہو کر منگی ڈیم واقعے کے حقائق سامنے لانے کے لئے رضاکارانہ طور پر قانونی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ کمیشن کے سامنے پیش ہونے والے وکلاءمیں شمس الرحمن کاکڑ، عبدالمصور، صادق خان، برخوردار خان اچکزئی اور حبیب اللہ خان ناصر ایڈووکیٹ بھی شامل تھے۔ وکلا نے قانونی معاونت فراہم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تاکہ تحقیقات کو نتیجہ خیز انجام تک پہنچایا جا سکے اور واقعے کے تمام حقائق مکمل طور پر سامنے لائے جا سکیں۔سماعت کے موقع پر شہید اہلکاروں میں سے ایک کے بھائی نسیم اللہ بھی متعدد دیگر شہداءکے ورثاءکے ہمراہ ذاتی طور پر کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے متعدد قانونی ورثاءاور دیگر متعلقہ افراد اپنے بیانات ریکارڈ کرانے اور دستیاب شواہد کمیشن کے سامنے پیش کرنے کے خواہشمند ہیں۔نسیم اللہ نے موقف اختیار کیا کہ بیشتر لواحقین کا تعلق دور دراز علاقوں سے ہے، جس کے باعث وہ مقررہ مدت کے اندر کمیشن کے رجسٹرار/سیکرٹری کے سامنے پیش ہو کر اپنے نام درج کرانے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے رجسٹریشن اور ناموں کے اندراج کی آخری تاریخ 28 اگست میں مزید توسیع کی درخواست کی اور یقین دہانی کرائی کہ لواحقین مقررہ توسیع شدہ مدت کے دوران کمیشن کے رجسٹرارسیکرٹری کے دفتر میں اپنے نام درج کرائیں گے۔کمیشن نے لواحقین کی درخواست دور دراز علاقوں سے ان کے تعلق اور سفری مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے رجسٹریشن اور ناموں کے اندراج کی آخری تاریخ 28 اگست سے بڑھا کر 3 ستمبر 2026 تک کرنے کا حکم دے دیا۔ اس طرح لواحقین اور ممکنہ گواہوں کو اپنے نام درج کرانے اور کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے لیے مزید وقت فراہم کر دیا گیا۔دوران سماعت کمیشن کے رجسٹرارسیکرٹری نے بتایا کہ کمیشن کے 18 اگست 2026 کے حکم کی تعمیل میں 17 اگست 2026 کو جاری کیا گیا عوامی نوٹس 19 اگست کو معروف اردو اور انگریزی اخبارات کے صفحہ اول پر دوبارہ شائع کیا گیا۔ کمیشن کو بتایا گیا کہ ڈی جی پی آر کے ذریعے عوامی آگاہی کے لئے میڈیا مہم بھی چلائی گئی جبکہ عوام کو کمیشن کی کارروائی اور رجسٹریشن کے عمل سے آگاہ کرنے کے لئے وال پوسٹرز اور دیگر تشہیری مواد بھی جاری کیا گیا۔ متعلقہ اخبارات میں شائع ہونے والے نوٹس اور دیگر مواد کی نقول بھی کمیشن کے ریکارڈ کا حصہ بنا دی گئی ہیں۔دوسری جانب ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے متعلقہ حکام سے ضروری ہدایات حاصل کرنے کے لیے مزید وقت طلب کیا، جس پر کمیشن نے انہیں ایک اور موقع فراہم کر دیا۔کمیشن آف انکوائری بلوچستان نے مزید کارروائی جمعرات27 اگست دوپہر ایک بجے تک ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں