وزیراعلیٰ سندھ کا زیرتعمیر حسن سلیمان میموریل اسپتال کا دورہ

کراچی ۔۔۔۔سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے ہفتے کے روز ملیر میں زیر تعمیر حسن سلیمان میموریل اسپتال کا دورہ کیا اور سندھ حکومت کے تعاون سے 2 کروڑ 35 لاکھ ڈالر کی لاگت سے قائم کیے جانے والے جدید ترین طبی مرکز پر کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔انہوں نے تمام شہریوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور متعلقہ حکام کو منصوبے کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی۔وزیر اعلیٰ کے ہمراہ پرنسپل سیکریٹری آغا واصف بھی تھے۔ ان کی آمد پر حسن سلیمان میموریل اسپتال کے ٹرسٹی ڈاکٹر جاوید سلیمان، سیکریٹری صحت طاہر سانگی، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیع، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر طاہر صغیر اور دیگر حکام نے ان کا استقبال کیا۔ دورے کے موقع پر معمار شاہد عبداللہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔دورے کے دوران وزیر اعلیٰ نے اسپتال کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا جن میں زیر تعمیر وارڈز اور طبی سہولیات شامل تھیں۔ انہیں منصوبے کے دائرہ کار، پیش رفت، سہولیات اور آپریشنل منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ حسن سلیمان میموریل اسپتال کا تصور پاکستان اور امریکا میں مقیم پاکستانی معالجین نے پیش کیا تھا۔ منصوبہ ڈاکٹر جاوید سلیمان کی قیادت میں اس مقصد کے تحت شروع کیا گیا کہ سندھ کے عوام کو اعلیٰ معیار کی اور کم لاگت والی طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔حکام نے بتایا کہ ملیر کو اسپتال کے مقام کے طور پر اس لیے منتخب کیا گیا کیونکہ علاقے میں جدید طبی سہولیات کی کمی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صدر پاکستان، سندھ حکومت اور وزیر اعلیٰ نے منصوبے کے آغاز سے ہی اسے بھرپور تعاون فراہم کیا ہے۔سندھ حکومت نے اسپتال کے لیے زمین فراہم کی اور اس کی تعمیر کے لیے مساوی گرانٹ کی منظوری دی۔ اسپتال کو جدید 312 بستروں پر مشتمل طبی مرکز کے طور پر تعمیر کیا جا رہا ہے، جو تقریباً 3 لاکھ 23 ہزار مربع فٹ رقبے پر محیط ہوگا۔بریفنگ کے مطابق اسپتال میں جدید تشخیصی اور علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں گی، جن میں ایم آر آئی، سی ٹی اسکین، دل کے جدید نگہداشت یونٹس، ہنگامی طبی خدمات، بیرونی مریضوں کے شعبے (او پی ڈی)، انتہائی نگہداشت یونٹس (آئی سی یو) اور کورونری کیئر یونٹس (سی سی یو) شامل ہیں۔منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 2 کروڑ 35 لاکھ ڈالر ہے۔ تعمیراتی کام دسمبر 2022 میں شروع ہوا تھا اور توقع ہے کہ اسپتال کا افتتاح 25 دسمبر 2026 کو کیا جائے گا۔شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ حسن سلیمان میموریل اسپتال ملیر اور ملحقہ علاقوں کے رہائشیوں کے لیے معیاری طبی سہولیات تک رسائی میں نمایاں بہتری لائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسپتال سندھ حکومت کے ہر شہری کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کے ایجنڈے سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سندھ حکومت اس منصوبے میں ایک اہم شراکت دار ہے اور عوامی صحت کی خدمات میں بہتری لانے والے اقدامات کی حمایت کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہماری اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ سندھ کے ہر شہری کو بہترین ممکنہ طبی علاج اور صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل ہو۔انہوں نے کہا کہ سندھ کا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل ضروری خدمات کی فراہمی میں انتہائی کامیاب ثابت ہوا ہے اور حکومت صحت کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے نجی شراکت داروں اور فلاحی اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ صحت کا شعبہ وہ میدان ہے جہاں سرکاری و نجی شراکت داری لوگوں کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لا سکتی ہے اور ہم ایسی شراکت داریوں کو وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں۔کام کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے منصوبے کی ٹیم اور محکمہ صحت کو تعمیراتی شیڈول برقرار رکھنے اور تمام سہولیات کو صحت کے اعلیٰ ترین معیارات کے مطابق یقینی بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ اسپتال کے افتتاح سے کافی پہلے ایک مو¿ثر آپریشنل اور انتظامی منصوبہ تیار کیا جائے تاکہ تعمیر مکمل ہونے کے فوراً بعد عوام کو طبی خدمات فراہم کی جا سکیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ دسمبر کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں جب اسپتال کا باضابطہ افتتاح کیا جائے گا اور یہ عوام کی خدمت شروع کرے گا۔انہوں نے صحت کے شعبے میں ایک اور بڑے اقدام کی بھی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں طبی سہولیات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے لاڑکانہ میں 600 بستروں پر مشتمل اسپتال کا منصوبہ بھی شروع کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں