کوہاٹ ۔۔۔۔۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب ہونیوالے لانگ مارچ کی قیادت خود کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے عدلیہ کے بعض فیصلوں ،ججز کے احکامات کو نظرانداز کرنا عدلیہ کے وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے،اگر عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہوگا اور طاقتور افراد خود کو قانون سے بالاتر سمجھیں گے تو عام شہری کے لیے انصاف کی ضمانت کیسے ممکن ہوگی؟،عمران خان کی آزادی کی تحریک کا بنیادی مقصد ملک میں قانون کی یکساں حکمرانی، آزاد اداروں اور بلاامتیاز انصاف کا قیام ہے۔ہفتہ کو روز ہنگو کے ابوبکر صدیق چوک میں سٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی نے عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے عدلیہ کے بعض فیصلوں اور ججز کے احکامات کو نظرانداز کرنا عدلیہ کے وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کی جانب سے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں قانون کی حکمرانی کمزور اور عوام کا نظام انصاف پر اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ طاقتور طبقات کو قانون سے بالاتر سمجھنے اور عدالتی احکامات نظرانداز کرنے سے ملک میں انصاف کا نظام کمزور ہوتا ہے، اس لیے امیر و غریب، طاقتور و کمزور اور حکمران و عام شہری کے لیے قانون کا یکساں اطلاق ہونا چاہیے۔محمد سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ عدالت کے تین ججز کے فیصلے کو حکومت اور انتظامیہ نے نظرانداز کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہوگا اور طاقتور افراد خود کو قانون سے بالاتر سمجھیں گے تو عام شہری کے لیے انصاف کی ضمانت کیسے ممکن ہوگی۔وزیراعلی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی حقیقی آزادی کی تحریک کا بنیادی مقصد ملک میں قانون کی یکساں حکمرانی، آزاد اداروں اور بلاامتیاز انصاف کا قیام ہے۔ عدالتوں اور ریاستی اداروں کو کسی دباﺅ یا اثر و رسوخ کے بغیر آزادانہ فیصلے کرنے چاہئیں۔انہوں نے پی ٹی آئی کی خواتین کارکنوں اور عمران خان کے خاندان کے ساتھ مبینہ سلوک پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ وہ عمران خان اور ان کے خاندان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں، کارکنوں کے جذبات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔محمد سہیل آفریدی نے ملک کی معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسان مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ صنعتکار سرمایہ بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرضوں کا بوجھ بڑھانے، ٹیکسوں، پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے بجائے ملکی وسائل میں اضافے اور بہتر معاشی پالیسیوں پر توجہ دینی چاہیے۔وزیراعلی نے دعوی کیا کہ خیبرپختونخوا کی مجموعی ریونیو آمدن میں ایک سال کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صوبے کی مجموعی ریونیو آمدن طویل عرصے تک تقریبا 43 ارب روپے تھی جسے بڑھا کر ایک سال میں تقریبا 100 ارب روپے تک پہنچایا گیا ہے، جبکہ رواں مالی سال کے لیے تقریبا 180 ارب روپے کا ریونیو ہدف مقرر کیا گیا ہے جسے ان شا اللہ 200 ارب روپے سالانہ تک پہنچایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال باعث تشویش ہے اور عام شہریوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، اس لیے ریاست کی اولین ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔وزیراعلی نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ملک کے مستقبل کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں اور انہیں اپنی قوم، ملک اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے سوچنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کے حوالے سے کارکنوں اور عوام میں بھرپور جذبہ موجود ہے اور وہ اس روز بڑی تعداد میں اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے۔اجتماع میں پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر خان، صوبائی وزرا شفیع اللہ جان، مینا خان آفریدی اور آفتاب عالم، ہنگو سے رکن قومی اسمبلی یوسف خان، ارکان صوبائی اسمبلی شاہ تراب خان سمیت پارٹی رہنما اور کارکنان بھی موجود تھے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا 27 ستمبر لانگ مارچ کی قیادت خود کرنے کا اعلان
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل