لاہور(پ ر )جماعت اسلامی کے عوامی دھرنے کے چھٹے روز بھی حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی قیادت چئیرنگ کراس دھرنا گاہ میں موجود رہی اور شرکائے دھرنا کے جذبات کی نمائندگی کرتے ہوئے میڈیا سے گفتگو کی۔ خواتین قائدین نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوام کے بنیادی مطالبات فوری طور پر تسلیم کرے، بصورت دیگر خواتین اپنے بچوں کے مستقبل اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گی۔قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ثمینہ سعید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج دھرنے کا چھٹا روز ہے، مگر حکمرانوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ عوام کی آواز دبانے سے مسائل ختم نہیں ہوتے۔ جماعت اسلامی عام آدمی، ماو¿ں، بہنوں، بچوں اور ہر اس گھرانے کی آواز بن کر سڑکوں پر موجود ہے جس کی زندگی مہنگائی، ناجائز ٹیکسوں اور ناقابلِ برداشت یوٹیلیٹی بلوں نے اجیرن کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیٹرول پر عائد ناجائز لیوی، بجلی کے بلوں میں شامل ظالمانہ ٹیکسز، مہنگائی کا طوفان اور IPPs کا بوجھ مل کر عام آدمی کی کمر توڑ چکا ہے۔ ایک طرف بچوں کی خوراک، تعلیم اور علاج والدین کی پہنچ سے دور ہو رہے ہیں اور دوسری طرف حکمران عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے مزید بوجھ ڈال رہے ہیں۔ثمینہ سعید نے کہاحکومت کو اب عوام کی آواز سننا ہو گی اور ان کے جائز مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ یہ خاموشی کمزوری نہیں، طوفان سے پہلے کا سکوت ہے۔ اگر حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو عوام اپنے حقوق کے لیے فیصلہ کن جدوجہد پر مجبور ہوں گے۔انہوں نے 22 اگست کو ہونے والے خواتین کے خصوصی دھرنے کے حوالے سے پنجاب بھر کی خواتین کو پرجوش دعوت دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سیاسی اجتماع نہیں بلکہ مہنگائی، ظلم اور معاشی استحصال سے تنگ پنجاب بھر کی ماو¿ں، بہنوں، بیٹیوں، طالبات اور گھریلو خواتین کی اجتماعی صدائے احتجاج ہو گی
عوام کی آواز دبانے سے مسائل ختم نہیں ہوتے،ثمینہ سعید
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل