مانگی واقعہ‘ دھرنا جاری‘مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم‘ مظاہرین کا احتجاج وسیع کرنیکا اعلان

کوئٹہ: زیارت کے علاقے مانگی میں دہشت گرد حملے میں شہیدپولیس اہلکاروں کے لواحقین کا لاشوں کے ہمراہ دھرنا کوئٹہ میں جاری ، حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکا۔ تفصیلات کے مطابق مانگی میں پولیس اہلکاروں کی شہادت کے خلاف لواحقین کا 7میتوں کے ہمراہ دھرنا ہفتہ کو تیسرے روز بھی سمنگلی روڈ پر کوئلہ پھاٹک کے مقام پر جاری رہا ۔ دھرنے میں شہداءکے لواحقین، اہل علاقہ اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن موجود رہے۔ مظاہرین نے حکومت سے جوڈیشل تحقیقات، مسلح افراد کی بے دخلی سمیت پانچ مطالبات پیش کرتے ہوئے احتجاج کو صوبے بھر میں وسعت دینے کا بھی اعلان کیا ہے ۔دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے پشتونخوامیپ کے رہنما عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ گزشتہ رات حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے سامنے واقعے کی جوڈیشل تحقیقات، مسلح افراد کی بے دخلی سمیت پانچ مطالبات پیش کئے گئے ہیں، جن پر مزید بات چیت آئندہ نشست میں ہوگی۔انہوں نے اعلان کیا کہ دھرنے کی حمایت میں باقاعدہ احتجاجی تحریک شروع کی جا رہی ہے، جس کے پہلے مرحلے میں کل تین اضلاع میں مظاہرے کئے جائیں گے، جبکہ محمود اچکزئی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین جلد مشترکہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔دوسری جانب سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءلانگو ، وزیر صحت بخت محمدکاکڑ ، سینیٹر منظور کاکڑ ، کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب کاکڑ اور بلال کاکڑ کے زیارت دھرنا مظاہرین سے مذاکرات جاری ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں