دہانہ سر کے مقام پر مسافر بس سانحے نے پوری قوم کو سوگ کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے،سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری

اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سرحد پر واقع دہانہ سر میں پیش آنے والے المناک مسافر بس حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اندوہناک سانحے نے پوری قوم کو سوگ کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ پورے ملک کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ اپنے تعزیتی بیان میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ جب ایک ہی حادثے میں درجنوں خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہو جائیں تو یہ صرف ایک حادثہ نہیں رہتا بلکہ پوری قوم کے دل پر لگنے والا ایسا زخم بن جاتا ہے جس کی کسک مدتوں محسوس کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دکھ کی گھڑی میں ہر پاکستانی متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کا شریک ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام مرحومین کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے، ان کے درجات بلند فرمائے اور سوگوار خاندانوں کو صبرِ جمیل اور یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔ انہوں نے حادثے میں زخمی ہونے والے تمام افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والے متعلقہ محکموں اور کارکنوں کی بروقت خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں کو بچانے کے لیے ان کی شبانہ روز محنت لائقِ تحسین ہے۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ زخمیوں کے علاج معالجے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مالی، طبی اور انتظامی معاونت کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ بنیادی انسانی حق ہے جس کا تحفظ ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ایسے افسوسناک واقعات کی وجوہات کا غیرجانبدار، شفاف اور جامع جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ ذمہ دار عوامل کی نشاندہی ہو اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے مو¿ثر قانون سازی، بہتر نگرانی، شاہراہوں کی حفاظت اور ٹرانسپورٹ کے نظام میں ضروری اصلاحات کو یقینی بنایا جا سکے۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے مزید کہا کہ قومی المیوں کے موقع پر یکجہتی، احساسِ ذمہ داری اور اجتماعی تعاون ہی زندہ قوموں کی پہچان ہوتا ہے۔ انہوں نے مخیر حضرات، سماجی تنظیموں اور متعلقہ اداروں سے بھی اپیل کی کہ وہ متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ وہ خود کو تنہا محسوس نہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں