واشنگٹن/تہران(این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کے اعلان پر نجی طور پر غور کررہے ہیں جبکہ امریکی محکمہ دفاع نے مشرق وسطی میں فوجی تعیناتیوں کو مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ نے اپنے سینئر معاونین کے ساتھ اس امکان پر بات کی ہے کہ آیا ایران کے ساتھ جنگ کو ختم کرنے کا اعلان کیا جائے۔رپورٹ کے مطابق امریکی صدر اس اقدام کے حق میں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایران پر مسلسل شدید معاشی دبا ڈالنے سے تہران کو اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے یا معاشی طور پر شدید بحران کا سامنا کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا نے گزشتہ ہفتے آپریشن اکنامک آٹ کاسٹ شروع کیا جس کے تحت ایران کے اہم معاشی شعبوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ان میں تیل، بحری تجارت، ہوا بازی، سونا، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے شامل ہیں۔۔۔۔۔گزشتہ رات ایران کے مختلف علاقوں پر امریکی فضائی حملوں میں 12 شہری اور 7 فوجی اہلکار شہید ہوگئے، جب کہ 70 سے زائد افراد زخمی ہیں۔ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق مغربی صوبے کرمانشاہ پر امریکی حملے میں پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے 4 اہلکارجبکہ لاوان جزیرے پر حملے میں نیم فوجی دستے بسیج کے 3 اہلکار شہید ہوئے۔صوبہ خوزستان میں امریکی میزائل حملوں میں 7 افراد شہید اور 8 زخمی ہوئے، جبکہ ہرمزگان کے شہر سیرک میں شادی کی تقریب پر امریکی حملے میں بچے سمیت 5 افراد شہید اور 68 زخمی ہوئے۔ایرانی میڈیا کے مطابق اہواز، چابہار، قشم اور بندر عباس میں بھی دھماکے سنے گئے، جبکہ جیرفت ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ خلیج فارس کے ساحل پر واقع اہم گیس مرکز عسلویہ میں بھی دھماکے ہوئے۔ادھر ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر حملوں کی نئی مہم زیادہ دیر تک جاری نہیں رہے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے ریڈار اور میزائل نظام کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران ایسا راکٹ بنانے کی کوشش کر رہا تھا جو بارودی سرنگیں بچھا سکتا ہے، ہم نے اسے تباہ کیا۔۔۔۔۔ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے دعوی کیا ہے کہ جنگ میں امریکا کو تہران کی جانب سے ایک نئی حکمتِ عملی کا سامنا کرنا پڑے گا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک بیان میں محسن رضائی نے کہا کہ ان بے سود کوششوں کے ذریعے امریکا ناصرف اس جہنم کی گہرائیوں سے نکلنے میں ناکام رہے گا جو اس نے اپنے لیے خود بنائی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ میدانِ جنگ، سفارت کاری اور معاشی محاصرے کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے ایران کی نئی حکمتِ عملی امریکا کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گی۔۔۔۔۔امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا ہے کہ کوئی ملک ایران کو امریکی پابندیوں سے بچنے یا آمدنی حاصل کرنے میں مدد نہ کرے، بصورتِ دیگر امریکا ایسے ممالک پر بھی پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ مارکو روبیو نے امریکی ٹی وی کے ساتھ حالیہ انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر کسی ملک نے بھی ایران کو امریکی پابندیوں سے بچانے اور آمدنی حاصل کرنے کے لیے سہولت فراہم کی تو امریکا ان ممالک پر بھی پابندیاں عائد کرے گا۔روس کی جانب سے ایران کی حمایت کے حوالے سے روبیو نے کہا کہ ماسکو کا موقف واشنگٹن سے مختلف ہے تاہم کسی بھی ملک کی جانب سے ایران کو فراہم کی جانے والی مدد امریکا کو اپنے دفاع کے لیے ضروری کارروائی سے نہیں روک سکتی۔انہوں نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول سے روکنا امریکا کا بنیادی اور مرکزی مقصد ہے اور جب تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں ہیں، ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔آبنائے ہرمز کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران تجارتی بحری جہازوں کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے، امریکا ان تمام خطرات کو نشانہ بناتا رہے گا جو امریکی افواج یا عالمی بحری آمدورفت کے لیے فوری خطرہ بنیں گے۔روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے گی اور اس بحری راستے کو ایران کے کنٹرول میں نہیں جانے دیا جائے گا۔انہوں نے ایران کے ساتھ سابقہ انتظامات کی جانب واپسی کے امکان کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ایران جوہری ہتھیار کے حصول کی کوشش جاری رکھے گا، اس پر معاشی دبا برقرار رہے گا۔روبیو نے ایران کی معیشت کو تباہ حال قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پابندیوں میں نرمی یا دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی رقم ایرانی عوام اور ملک کی ترقی پر خرچ کرنے کے بجائے حزب اللہ، حماس اور عراق میں موجود مسلح گروہوں کی مالی معاونت پر خرچ کی جاتی ہے۔بقول مارکو روبیو کے امریکی معاشی حکمتِ عملی کا مقصد صرف ایرانی حکومت کو سزا دینا نہیں بلکہ اسے ایسے مالی وسائل تک رسائی سے روکنا بھی ہے جنہیں دہشت گرد تنظیموں کی معاونت اور جوہری ہتھیار کے حصول کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ کاایران جنگ کو باضابطہ طور پر ختم کرنے پر غور
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل