عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف گھیرا تنگ کردیا

خاران ( محمدعیسی محمدحسنی)بارڈر کی صورتحال اور ایندھن کے بحران کا بہانہ بنا کر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف ضلعی انتظامیہ خاران نے گھیرا تنگ کر دیا۔ خاران سے کوئٹہ اور دیگر ملحقہ اضلاع کے روٹس پر ٹرانسپورٹ کرایوں میں من مانے اور غیر قانونی اضافے پر عوامی حلقوں میں شدید تشویش اور بے چینی پائی جا رہی تھی۔ ان عوامی شکایات کا فوری اور ازخود نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر خاران منیر احمد سومرو کی خصوصی ہدایت پر ایک ہنگامی اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر خاران عمر جمالی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں خاران کے ٹرانسپورٹرز نے شرکت کی۔اجلاس میں مسافروں کو سفری سہولیات کی عدم فراہمی، من مانے کرائے وصول کرنے اور کچے راستوں پر مسافروں کو درپیش خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ٹرانسپورٹرز نے انتظامیہ کی اجازت کے بغیر کرایوں میں اضافے پر باقاعدہ معذرت کی اور اپنے معاشی چیلنجز سامنے رکھے۔ انہوں نے بتایا کہ سرحد (بارڈر) کی بندش کے باعث مقامی مارکیٹ میں ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں یکدم 100 روپے کا بڑا اضافہ ہو چکا ہے۔ علاوہ ازیں، مرکزی شاہراہوں کی بندش اور رکاوٹوں کی وجہ سے گاڑیوں کو طویل اور دشوار گزار کچے راستوں سے گزارنا پڑ رہا ہے، جس سے ایندھن کی کھپت اور گاڑیوں کی ٹوٹ پھوٹ میں اضافہ ہوا ہورہا ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر خاران عمر جمالی نے واضح کیا کہ انتظامیہ کو ٹرانسپورٹرز کے مسائل کا ادراک ہے، لیکن عوام پر یکطرفہ اور بوجھ ڈالنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔ ضلعی انتظامیہ کی پیشگی منظوری اور سرکاری نوٹیفکیشن کے بغیر کرایہ بڑھانا قانوناً جرم ہے۔اجلاس میں باہمی مشاورت کے بعد انتظامیہ نے مسافروں اور ٹرانسپورٹرز دونوں کے مفادات کا توازن برقرار رکھتے ہوئے درج ذیل عارضی کرائے مقرر کر دئیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر خاران عمر جمالی نے تمام ٹرانسپورٹرز کو ہدایات جاری کی کہ وہ مقررہ کرایہ نامے کا نوٹیفکیشن جاری کی جائے گی جبکہ اگر کسی بھی ٹرانسپورٹرز نے زائد کرایہ وصول کی تو اس کے خلاف قانون کے مطابق بھاری جرمانے عائد کہ جائے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں