خواتین اور بچوں پر تشدد، زیادتی اور قتل کے بڑھتے واقعات پر شدید تشویش ہے۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری

اسلام آباد( پ ر) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے ملک میں خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد، زیادتی، اغوا اور قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم بچوں، بالخصوص کمسن بچیوں اور خواتین کے ساتھ ہونے والے بہیمانہ واقعات کسی بھی مہذب اور ذمہ دار معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہیں۔ ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ پوری قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے اور ریاستی اداروں سمیت معاشرے کے ہر ذمہ دار طبقے کو اس سنگین مسئلے کے تدارک کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اپنے ایک بیان میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ بچے کسی بھی معاشرے کا مستقبل اور والدین کی امید ہوتے ہیں، جبکہ خواتین معاشرے اور خاندان کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کے خلاف تشدد، جنسی زیادتی، اغوا اور قتل کے واقعات نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ ہماری اجتماعی، اخلاقی اور سماجی ذمہ داریوں پر بھی سوالیہ نشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ آئے روز معصوم بچوں اور کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے لرزہ خیز واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے واقعات کے بعد چند روز تک غم و غصے کا اظہار کافی نہیں بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان جرائم کے بنیادی اسباب کا مستقل بنیادوں پر جائزہ لیا جائے، مجرموں کی بروقت گرفتاری اور شفاف تفتیش یقینی بنائی جائے اور انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دلوانے کے لیے نظامِ انصاف کو مو¿ثر بنایا جائے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ وہ بحیثیت رکنِ سینیٹ خواتین اور بچوں کے حقوق اور تحفظ کے معاملے کو مسلسل پارلیمنٹ میں اجاگر کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے مو¿ثر قانون سازی کے لیے سینیٹ میں متعدد بلز بھی پیش کیے ہیں جن پر پارلیمانی سطح پر پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون سازی کسی بھی معاشرے میں تحفظ فراہم کرنے کی بنیادی بنیاد ہے، تاہم صرف قوانین بنانا کافی نہیں، ان قوانین پر مو¿ثر اور بلاامتیاز عملدرآمد بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک وہ سینیٹ کی رکن ہیں، وہ خواتین اور بچوں کے خلاف ہونے والے مظالم، زیادتی اور تشدد کے واقعات کو پارلیمنٹ میں بھرپور انداز میں اجاگر کرتی رہیں گی اور مو¿ثر قانون سازی، قوانین پر عملدرآمد اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہیں گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ پارلیمانی مدت کے بعد بھی وہ خواتین اور بچوں کے تحفظ کے اس اہم اور حساس مسئلے پر اپنی آواز بلند کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گی۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کے مقدمات میں فوری کارروائی، جدید سائنسی بنیادوں پر تفتیش اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔ متاثرین اور ان کے خاندانوں کو تھانوں اور دیگر متعلقہ اداروں میں غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں فوری قانونی، طبی اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جانی چاہیے۔ انہوں نے عدلیہ سے بھی اپیل کی کہ خواتین اور بچوں کے خلاف سنگین جرائم کے مقدمات کو قانون کے مطابق ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے تاکہ انصاف میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ انصاف میں تاخیر بعض اوقات متاثرہ خاندانوں کے زخم مزید گہرے کر دیتی ہے اور معاشرے میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ طاقتور یا بااثر مجرم قانون کی گرفت سے بچ سکتے ہیںاور اگر کوئی قانون کا رکھوالا ایسے مجرموں کو تحفظ فراہم کرتا ہے یا کسی قسم کی رعایت دیتا ہے تو اسے بھی قانون کے کٹہرے میں ہونا چاہئے کیونکہ ایسی کالی بھیڑیں ہی انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ قانون کی حکمرانی کے لیے ضروری ہے کہ جرم خواہ کسی نے بھی کیا ہو اسے بلاامتیاز قانون کا سامنا کرنا پڑے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے میڈیا کے کردار کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ذرائع ابلاغ کو خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کے واقعات کو ذمہ دارانہ انداز میں اجاگر کرنا چاہیے۔ میڈیا کا مقصد صرف کسی واقعے کو خبر بنانا نہیں بلکہ عوامی شعور بیدار کرنا، متاثرین کے حقوق کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور متعلقہ اداروں کی توجہ مسئلے کے مستقل حل کی طرف مبذول کرانا بھی ہے۔ متاثرہ بچوں اور خواتین کی شناخت اور عزتِ نفس کے تحفظ کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے علمائے کرام سے بھی اپیل کی کہ وہ مساجد، مدارس اور دیگر مذہبی و سماجی پلیٹ فارمز کے ذریعے بچوں اور خواتین کے احترام، تحفظ اور حقوق کے بارے میں بھرپور آگاہی پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے بچوں، خواتین اور کمزور طبقات کے حقوق اور عزت و حرمت کا واضح درس دیا ہے، اس لیے معاشرے میں اخلاقی تربیت اور ذمہ داری کے احساس کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلاء، اساتذہ، والدین اور معاشرے کے باشعور افراد پر بھی زور دیا کہ وہ خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد اور زیادتی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف حکومت یا پولیس کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں بچوں کو تحفظ، خواتین کو عزت اور ہر شہری کو قانون کے مساوی تحفظ کا یقین ہو۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لیے ایک جامع قومی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جس میں قانون سازی، پولیس اصلاحات، تیز رفتار انصاف، فرانزک سہولیات، متاثرین کے لیے قانونی و نفسیاتی معاونت، عوامی آگاہی اور مجرموں کے خلاف مو¿ثر احتساب شامل ہو۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ ریاست کی اصل ذمہ داری اپنے شہریوں، بالخصوص کمزور اور غیر محفوظ طبقات کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اگر ایک بچہ یا ایک خاتون اپنے ہی معاشرے میں محفوظ نہیں تو یہ ہم سب کے لیے تشویش کی بات ہے۔ ہمیں واقعات کے بعد صرف افسوس اور مذمت تک محدود نہیں رہنا بلکہ ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو ان جرائم کی مستقل روک تھام کا ذریعہ بن سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواتین اور بچوں کے تحفظ کے معاملے پر کسی قسم کی مصلحت، خاموشی یا غفلت قبول نہیں کی جا سکتی۔ مجرموں کو قانون کے مطابق سزا ملنا، متاثرین کو انصاف فراہم کرنا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ریاست، اداروں اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خواتین اور بچوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے اپنی آواز ہر متعلقہ فورم پر بلند کرتی رہیں گی اور مو¿ثر قانون سازی، قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور اداروں کی جواب دہی کے لیے اپنی پارلیمانی اور عوامی جدوجہد جاری رکھیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں