اسلام آباد ۔۔۔۔۔۔۔۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کسانوں کو فصلوں کی نگرانی کےلئے دستیاب موبائل ایپ کے حوالے سے آگاہی بڑھانے کےلئے مو¿ثر میڈیا مہم چلانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ زرعی شعبے کی برآمدات بڑھانے کے لئے زرعی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن ناگزیر ہے ،زرعی شعبے کا پاکستان کی معیشت کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ہے ،پاکستان کی زرعی مصنوعات کے لیے عالمی منڈیوں میں رسائی بڑھانے اور نئی منڈیاں تلاش کرنے کے لیے مربوط اقدامات لیے جائیں ۔ جمعہ کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت زرعی شعبے اور زرعی برآمدات کے فروغ کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہا جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ زرعی شعبے کا پاکستان کی معیشت کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ہے ۔ انہوںنے کہاکہ فی ایکڑ زرعی پیداوار میں اضافے، زراعت میں جدت لانے، لائیو اسٹاک کے شعبے کی ترقی اور زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مو¿ثر رابطہ اور شراکت داری ضروری ہے ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کی زرعی مصنوعات کے لیے عالمی منڈیوں میں رسائی بڑھانے اور نئی منڈیاں تلاش کرنے کے لیے مربوط اقدامات لیے جائیں ۔وزیراعظم نے زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے پاکستان کے بیرون ملک مشنز میں تعینات کمرشل افسران کو مو¿ثر کردار ادا کرنے کی ہدایت کی ہے ۔وزیراعظم نے کسانوں کو فصلوں کی نگرانی کے لیے دستیاب موبائل ایپ کے حوالے سے آگاہی بڑھانے کے لیے مو¿ثر میڈیا مہم چلانے کی ہدایت کی ہے ۔ شہبازشریف نے کہاکہ زرعی شعبے کی برآمدات بڑھانے کے لئے زرعی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن ناگزیر ہے ۔زرعی شعبے کے فروغ اور زرعی برآمدات بڑھانے کے لئے اجلاس میں تجاویز پیش کی گئیں۔ بتایاگیاکہ پچھلے مالی سال میں پاکستان کے زرعی شعبے سے برآمدات 5.18 بلین امریکی ڈالرز رہیں ،چاول، فشریز ، حلال گوشت، آلو، تل، تمباکو ، آم ، مکئی پاکستان کی نمایاں زرعی برآمدات رہیں ۔ اجلاس میں زرعی برآمدات میں اضافے کے لئے ویلیو چینز تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ۔ بتایاگیاکہ چین، سعودی عرب ، ایران اور خلیجی ممالک پاکستان کی زراعت برآمدات کے حوالے سے اہم ممالک ہیں ،نیشنل ایگریکلچر اینڈ فوڈ سیکیورٹی کونسل کو فعال کیا جائے گا ۔ بتایاگیا کہ نیشنل ایگریکلچر اینڈ فوڈ سیکیورٹی کونسل میں وزرائے اعلیٰ اپنے اپنے صوبوں کی نمائندگی کریں گے ۔ بریفنگ دی گئی کہ ڈیجیٹل فارمرز ڈائری-ایگری سٹیک کی تشکیل کی تجویز ؛ جس کے تحت ملک بھر کے کسانوں اور زرعی لینڈ ریکارڈز کو ڈیجیٹائز کیا جائے گا ۔ بتایاگیاکہ ڈیجیٹل فارمرز ڈائری-ایگری سٹیک کے تحت زمین اور پانی کی جانچ کے ریکارڈ ڈیجیٹائز کئے جائیں گے ۔ بتایاگیاکہ بہتر نتائج کے حامل زرعی طریقہ کاروں کے فروغ کے لئے پاک-گیپ نظام تشکیل دیا جائے گا ۔بریفنگ بتایاگیاکہ زرعی شعبے کے برآمد کنندگان کے فروغ کے لیے زرعی فنانسنگ کے حوالے سے سہولیات فراہم کی جائیں گی ۔اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان ,وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اعظم اظہر کیانی، وزیر مملکت برائے قومی غذائی تحفظ ملک رشید احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
زرعی شعبے کی برآمدات بڑھانے کےلئے زرعی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن ناگزیر ہے,وزیراعظم
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل