چاند کی سطح کے قریب 20 سے زائد نامعلوم اجسام کی موجودگی کا انکشاف

کیف:یوکرین کے ماہرین فلکیات کی ایک نئی تحقیق نے چاند پر نامعلوم اجسام کی موجودگی سے متعلق ایک نئی بحث چھیڑ دی ۔تحقیق میں دعوی کیا گیا ہے کہ 2025 کے دوران چاند کے گرد یا اس کی سطح کے قریب 20 سے زائد نامعلوم اجسام دیکھے گئے تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ موجودہ شواہد کسی غیر انسانی یا ذہین تہذیب کے وجود کو ثابت کرنےکےلئے کافی نہیں۔یوکرین کی مین آسٹرونومیکل آبزرویٹری کے سائنسدانوں کے مطابق مشاہدات کے دوران متعدد ایسے اجسام ریکارڈ کیے گئے جن کی حرکت اور چمک کے انداز غیر معمولی تھے جس کی وجہ سے ان کی اصل نوعیت کے بارے میں سوالات پیدا ہوئے۔محققین نے یہ بھی دعوی کیا کہ 16 اگست 2025 کو دن کے وقت حلقہ نما اجسام کا بھی مشاہدہ کیا گیا جو تقریبا تمام شعاعوں کو جذب کرتے دکھائی دیے۔ ان کا قطر تقریبا 22 میل تھا، وہ ہر تین منٹ میں ایک چکر مکمل کرتے تھے اور ان کی رفتار تقریبا 6.8 میل فی سیکنڈ ریکارڈ کی گئی۔تحقیقی ٹیم نے اپنے مقالے میں لکھا کہ اگرچہ ان اجسام کی بعض خصوصیات کسی منظم سرگرمی کی عکاسی کر سکتی ہیں تاہم موجودہ مشاہدات اس بات کا ثبوت فراہم نہیں کرتے کہ ان پر کسی ذہین مخلوق کا کنٹرول ہے۔سائنسدانوں نے یہ رائے بھی ظاہر کی کہ ممکن ہے چاند نامعلوم فضائی اجسام (یو ایف اوز) کے لئے ایک اڈے کے طور پر استعمال ہو رہا ہو اور اگر ایسا ہے تو یہ اجسام تقریبا 20 منٹ میں زمین تک پہنچ سکتے ہیں اور فضائی حدود میں نامعلوم فضائی مظاہر (یو اے پیز) کی صورت میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔تاہم محققین نے خود بھی اس بات پر زور دیا کہ یہ تحقیق ابھی پیئر ریویو کے مرحلے سے نہیں گزری اور نہ ہی اس کے نتائج کی کسی آزاد سائنسی ادارے نے تصدیق کی ہے اس لیے ان دعوں کو حتمی سائنسی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ ان اجسام کی غیر معمولی اور بظاہر منظم حرکات مزید تحقیق کی متقاضی ہیں تاہم فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان کا تعلق کسی غیر انسانی یا انتہائی ترقی یافتہ تہذیب سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں