امریکا کی ایران پر مسلسل چھٹے روز بمباری، شہری انفرااسٹرکچرا کو نشانہ بنایا کویت میں امریکی اڈے پر ایران کا حملہ

واشنگٹن /تہران/کویت سٹی۔۔۔۔۔۔۔امریکا نے ایران پر مسلسل چھٹے روز بمباری کی، اس بار شہری انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔امریکی فضائیہ نے ایران شہر ایئرپورٹ، بندر عباس، بندر خمیر، اہواز اور بوشہر میں حملے کیے، حملوں میں تین پل تباہ ہوئے جبکہ 2 افراد جاں بحق اور 9 زخمی ہوگئے۔ایرانی میڈیا کے مطابق بندر عباس میں رہائشی عمارت، کمیونیکیشن ٹاور اور ریلوے اسٹیشن بھی حملہ کیا گیا۔بندر عباس کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہوگئی، بوشہر میں بحری اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی فوج نے خلیج فارس میں سپر ٹینکر پر بھی حملہ کیا۔سینٹ کام کا کہنا تھا کہ اس جہاز نے احکامات ماننے سے گریز کیا تھا۔امریکی میرینز نے ایک اور جہاز پر چڑھائی کی، اور چیکنگ کی۔ ایرانی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے تین جہازوں کو رخ موڑنے پر مجبور کردیا۔۔۔۔۔۔کویت میں کئی زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی ڈرون نے امریکی میزائلوں کی بیٹری کو نشانہ بنایا جس سے دھوئیں کے بادلوں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا،کشیدگی پھر سے شروع ہونے کے بعد سے اب تک ایران مشرق وسطی میں امریکا کے تین اڈوں کو نشانہ بناکر نقصان پہنچاچکا، روسی میڈیا کے مطابق کویت میں امریکی فوجی اڈے پر ایران نے حملہ کیا ہے۔ایرانی ڈرون نے امریکی میزائلوں کی بیٹری کو نشانہ بنایا جس سے دھوئیں کے بادلوں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ۔خلیجی میڈیا کے مطابق ایران نے اردن اور بحرین پر بھی حملے کیے ۔امریکی ٹی وی کے مطابق کشیدگی پھر سے شروع ہونے کے بعد سے اب تک ایران مشرق وسطی میں امریکا کے تین اڈوں کو نشانہ بناکر نقصان پہنچاچکا ۔۔۔۔۔وائٹ ہاوس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو خمیازہ بھگتے گا۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ کیے گئے وعدوں سے پھرے گا تو امریکی صدر ٹرمپ اسے جوابدہ ٹھہرائیں گے، لیکن وہ تہران کے ساتھ سفارت کاری کے لیے بھی ہمیشہ تیار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایرانیوں نے صدر ٹرمپ پر واضح کیا کہ وہ اب بھی معاہدہ چاہتے ہیں، ان سے بات چیت کر رہے ہیں۔۔۔۔۔وائٹ ہاوس کا کہنا ہے کہ امریکا دوبارہ کشیدگی کے باوجود ایران سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارتکاری کے لیے اب بھی تیار ہیں۔وائٹ ہاس کی پریس سیکرٹری کیرولائن لیویٹ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کو اس وقت جواب دہ ٹھہرائیں گے جب وہ امریکا سے کیے گئے وعدوں سے پیچھے ہٹے گا، تاہم وہ سفارت کاری کے لیے بھی ہمیشہ تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران نے صدر ٹرمپ کو اب بھی معاہدہ کرنے کی خواہش سے آگاہ کیا ہے اور امریکا تہران سے بات چیت کر رہا ہے، صدر ٹرمپ نے سفارت کاری کے دروازے بند نہیں کیے، صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کی اجازت نہیں دیں گے اور ایران کو اس کی قیمت چکانا ہوگی۔واضح رہے کہ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران مذاکرات کی طرف واپس نہ آیا تو امریکا حملوں کا دائرہ کار بڑھا کر بجلی گھروں اور پلوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔کیرولائن لیویٹ نے بتایا کہ ایران کے ایک سکول پر حملے سے متعلق تحقیقات جاری ہیں، امریکی فوج کبھی بچوں اور شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنا کر مفاہمتی یادداشت (ایم او یو)کی خلاف ورزی کی، جس کے باعث حالیہ حملے کیے گئے، ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور اسے اپنے اقدامات کی سزا بھگتنا ہوگی۔۔۔۔ترجمان ایرانی مسلح افواج ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں آئے گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز پر ایران کے اختیارِ حاکمیت سے خوفزدہ ہے۔ابراہیم ذوالفقاری کا کہنا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے خلیجی ممالک سے کہا کہ وہ امریکا کو ایران پر حملے کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں