حکومت عوامی اعتماد اور تعمیری تنقید برداشت کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہے، جے یو آئی

کوئٹہ…… جمعیت علماءاسلام ضلع کوئٹہ کے زیراہتمام ضلعی امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق کی قیادت میں قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ کی ڈرون کے ذریعے فضائی فوٹیج بنانے اور اسے سوشل میڈیا پر نشر کرنے چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی اور قائد جمعیت کے خلاف منظم منفی پروپیگنڈے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی ریلی سے صوبائی امیر سنیٹر مولانا عبدالواسع، ضلعی امیر مولانا عبدالرحمن رفیق، جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، دلاور خان کاکڑ، حاجی بشیراحمد کاکڑ، حاجی رحمت اللہ، سید عبدالواحد آغا اور دیگر رہنماو¿ں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کے خلاف غیر اخلاقی سازشوں کے پیچھے ذہنیت قابل شرم ہے۔ قائد کی حفاظت کے لیے جانوں کی قربانیوں سے کریں گے۔ ان سے بڑھ کر کوئی محب وطن نہیں ہوسکتا۔ ان کی رہائش گاہ کی ڈرون کے ذریعے نگرانی اور فوٹیج بنا کر سوشل میڈیا پر نشر کرنا نہ صرف چادر و چار دیواری کے تقدس کی صریح خلاف ورزی ہے آئین اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔بلکہ بنیادی انسانی اخلاقی اور جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔ کسی بھی سیاسی رہنما کی نجی زندگی میں اس طرح مداخلت اور نگرانی کے ذریعے دباو¿ ڈالنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف مقتدرہ کی سرپرستی میں سوشل میڈیا کے کرائے کے باکوو¿ں کے ذریعے منظم میڈیا ٹرائل، منفی پروپیگنڈے، کردار کشی اور دشنام طرازی کا سلسلہ جاری ہے جس کا مقصد سیاسی قیادت کو مرعوب کرنا اور اس کے اصولی مو¿قف کو دبانا ہے۔ سیاسی اختلاف اور تنقید جمہوریت کا حسن ہیں لیکن الزام تراشی تضحیک اور بازاری زبان کا استعمال کسی صورت آزادیِ اظہار کے زمرے میں نہیں آتا۔ رہنماو¿ں نے کہا کہ حکومت عوامی اعتماد اور تعمیری تنقید برداشت کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہے یہی وجہ ہے کہ اپنی ناکامیوں اور نااہلیوں کا جواب دینے کے بجائے سیاسی قیادت کی کردار کشی اور اوچھے ہتھکنڈوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ ایسے اقدامات حکومتی بوکھلاہٹ اور سیاسی کمزوری کا واضح ثبوت ہیں۔ جماعت کی مرکزی قیادت اور اہم شخصیات کو ہراساں کرنا ان کی نجی زندگی میں مداخلت اور غیر جمہوری حربوں کے ذریعے دباو¿ ڈالنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی عزت وقار دفاع اور تحفظ جمعیت علمائ اسلام کے کارکنوں کے لیے اولین ترجیح ہے۔ قیادت کے دفاع اور تحفظ کے لیے جمعیت کا ہر کارکن تن، من اور دھن کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔ قیادت کو مرعوب کرنے یا اس کے سیاسی کردار کو متنازع بنانے کی کوئی بھی کوشش کارکنوں کے عزم و حوصلے کو کمزور نہیں کر سکتی۔ احتجاجی مظاہرے کے شرکاءنے متفقہ قراردادوں کے ذریعے قائد جمعیت کی رہائش گاہ کی ڈرون نگرانی اور فوٹیج کی تشہیر کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی قرار دیا۔ قراردادوں میں قائد جمعیت کے خلاف منظم میڈیا ٹرائل منفی پروپیگنڈے کردار کشی اور دشنام طرازی کو مسترد کرتے ہوئے جماعت کی مرکزی قیادت اور اہم شخصیات کو ہراساں کرنے اور ان کی نجی زندگی میں مداخلت کے غیر جمہوری اقدامات کی فوری روک تھام کا مطالبہ کیا گیا۔ شرکاءنے کہا کہ جمعیت علماءاسلام اپنی قیادت کے دفاع آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ اور سیاسی و اخلاقی اقدار کی پاسداری کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں