اسلام آباد…… افغانستان میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث پاکستان میں بھی وائرس کی منتقلی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔حکام کے مطابق پاکستان میں گزشتہ دو ماہ کے دوران رپورٹ ہونے والے 40 سے 50 فیصد پولیو کیسز کا تعلق افغانستان سے سامنے آیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں رواں سال پولیو کے 9 کیسز جبکہ افغانستان میں 50 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، ضلع خیبر میں سامنے آنے والے تینوں پولیو کیسز کا جینیاتی تعلق بھی افغانستان سے ثابت ہوا ہے۔
حکام کے مطابق پاکستان کے سیوریج کے 29 نمونوں میں افغانستان سے آنے والے پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ افغانستان سے منتقل ہونے والا وائرس کراچی، جامشورو، راولپنڈی اور ملتان تک پہنچ چکا ہے۔حکام نے بے دخل کیے گئے افغان شہریوں کی غیر قانونی راستوں سے پاکستان واپسی کو پولیو وائرس کے پھیلاؤ کا ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے، سرحدی علاقوں میں نقل و حرکت کی مؤثر نگرانی نہ ہونے سے وائرس کی منتقلی کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق افغانستان میں گھر گھر جا کر پولیو ویکسین پلانے پر پابندی عائد ہے، جس کے باعث دونوں ممالک میں انسدادِ پولیو کی کوششوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں پولیو وائرس کی موجودگی پاکستان کے لیے بھی خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے سرحدی نگرانی اور انسدادِ پولیو مہم کو مزید مؤثر بنانا ضروری ہے۔
سیوریج کے 29 نمونوں میں افغانستان سے آنے والے پولیو وائرس کی تصدیق