پشاور:وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت لاہور میں پنجاب کے پارلیمینٹیرینز کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں لاہور میں اسٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں بھرپور عوامی رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ لاہور کے عوام کل خود سڑکوں پر نکلے، ہم نے کسی کو کوئی پلان نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے گھروں پر دھاوے بولے جا رہے ہیں اور بچوں کو اغوا کیا جا رہا ہے۔اجلاس کے شرکا نے کہا کہ گھروں میں خوف کے ماحول میں رہنے سے بہتر ہے جیل چلے جائیں۔ شرکا نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو خوفزدہ کرکے نہیں رکھا جا سکتا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ عاشق رسول اشتیاق احمد کا پنجاب پولیس کے ہاتھوں بہیمانہ قتل کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اشتیاق احمد میلاد کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ پنجاب پولیس نے انہیں گرم تیل کی کڑاہی میں پھینک کر شہید کر دیا گیا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ 27 ستمبر کو حقیقی آزادی کی جدوجہد میں ہم کامیاب ہوں گے اور پوری قوم گھروں سے باہر نکلے گی۔اجلاس میں ایم پی اے اویس ورک، میاں ہارون اکبر، میاں ارقم خان، شیخ امتیاز، ہمبل کریمی، حسن ملک، علی آصف بگا، ایم این اے بریگیڈیئر اسلم گھمن، خرم ورک، معین قریشی اور سینیٹر عون بپی اور دیگر قائدین نے شرکت کی۔بعد ازاں، ایک اہم ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ کل لاہور میں ہم نے کوئی کال نہیں دی تھی، اس کے باوجود لاہور کے عوام بڑی تعداد میں خود سڑکوں پر نکلے۔ ہم نے کسی کو نہیں بتایا تھا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں اس کے باوجود لاہور کے عوام خود نکلے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس نے ہمارے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کرکے تمام راستے بند کیے۔ جہاں جہاں ہم جا رہے تھے وہاں کی لائٹس بند کی گئیں۔ پیٹرول پمپس بند کرائے گئے اور مالکان کو ہماری گاڑیوں کو پیٹرول دینے سے روکا گیا۔ ہمارے قیام کی جگہ سے ٹینٹ اکھاڑ دیے گئے اور آنے والے کارکنان کو گرفتار کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اشتیاق احمد عاشق رسول تھے اور میلاد کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ انہیں گرم تیل کی کڑاہی میں پھینک کر شہید کیا گیا۔ اشتیاق احمد کے بہیمانہ قتل پر میڈیا نے خاموشی اختیار کی حالانکہ صحافت کا تقاضا ہے کہ حق کو حق اور سچ کو سچ کہا جائے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ارشد شریف شہید کو حق اور سچ کی آواز بلند کرنے پر قتل کیا گیا، آج بھی قوم انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ پنجاب پولیس نے کارکنان کو گرفتار کرکے پریزن وین میں بٹھا دیا جب میں احتجاجاً پولیس وین پر کھڑا رہا، مگر پنجاب پولیس کے اہلکاروں میں کسی کو شرم و حیا نہیں آئی۔ پھر کہا گیا کہ بات کرتے ہیں اور کارکنان کو چھوڑتے ہیں، تاہم انہیں رہا نہیں کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں احتجاجاً پولیس وین میں بیٹھا تو انہوں نے مجھے اغوا کرکے گاڑی بھگا دی۔ مجھے بغیر سیکیورٹی کے 15 منٹ لاہور کی سڑکوں پر گھمایا گیا اور بیچ راستے میں چھوڑ دیا گیا حالانکہ یہ بہت بڑا سیکیورٹی رسک تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ سب سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہو رہا ہے۔ پنجاب کی جعلی وزیر اعلیٰ نے چند دن پہلے کہا تھا کہ انہیں بھارت سے نہیں بلکہ پاکستان کے باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے۔ یہ مسلط شدہ کرپٹ ٹولہ پاکستان کو توڑنا چاہتا ہے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، مجھے سیکیورٹی تھریٹ نہیں، بلکہ انکی سیکیورٹی سے ہی خطرہ ہے۔ پنجاب پولیس کو سیاسی بنا کر اتنا زہریلا کر دیا گیا ہے کہ ان میں شرم اور تمیز باقی نہیں رہی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے جعلی حکمرانوں اور ان کی درباری پولیس کے ہاتھوں پر پہلے ہی خون لگا ہوا ہے۔ اگر سمجھتے ہیں کہ اوچھے ہتھکنڈوں سے ہمیں روک لیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ لاہور کے عوام کل بغیر کسی کال کے بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے، لاہور کے عوام 27 ستمبر کو بھی حقیقی آزادی کے حصول کے لیے نکلیں گے۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ پنجاب کی جعلی حکومت اور پولیس ہوش کے ناخن لیں۔ اگر رویہ تبدیل نہ ہوا تو خیبر پختونخوا میں جاری اجلاس کے بعد سخت ردعمل آئے
27 ستمبر کو حقیقی آزادی کے لیے پوری قوم باہر نکلے گی: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل