راولپنڈی اسلام آباد میں شدید بارش سے نظام زندگی درہم برہم، گاڑیاں بہہ گئیں

اسلام آباد /راولپنڈی۔۔۔۔۔۔جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلادھار بارش کے بعد نظام زندگی درہم برہم ہوگیا، سڑکیں تالات کا منظر پیش کر نے لگیں ، گاڑیاں بہہ گئیں ، پانی گھروں میں داخل ہونے سے شہریوں کا سامان تباہ ہوگیا دکانوں میں پانی داخل ہونے سے فرنیچر، الیکٹرونکس کا سامان اور دیگر قیمتی اشیا ناکارہ ہو گئیں،راولپنڈی میں تعلیمی اداروں میں تعلیل کر دی گئی ،نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث خطرے کے سائرن بجا دئیے گئے ، فوج کو بھی الرٹ کر دیاگیا، نشیبی علاقوں سے فوری انخلاءکی ہدایت کر دی گئی ،ای الیون میں چند ہی منٹس میں 150 ملی میٹر بارش ہونے کے بعد نالہ اوورفلو کرنے سے وجہ سے پانی سڑک پر آگیا ، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پہلے سے ہی سیل کی گئی چند بیسمنٹس میں بھی داخل ہوگیا جس کے باعث لوگوں کا کروڑوں کا نقصان ہوا ،D12/2 میں حفاظتی دیوار گر گئی ،راول ڈیم میں بھی پانی کی سطح بلند ہوگئی ، سپیل کھول دیئے گئے، محکمہ موسمیات نے بارشوں کا سلسلہ 5 ستمبر تک جاری رہنے کی پیش گوئی ہے ، شہریوں کو ندی نالوں اور نشیبی علاقوں کے قریب جانے سے گریز اور ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں ًصبح تین اور چار بجے کے درمیان شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے باعث نظام زندگی درہم برہم ہو کر رہ گیا ۔ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب سیف انور جپہ کے مطابق راولپنڈی میں مختلف مقامات پر 70 سے 230 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔انہوں نے کہا کہ نیو کٹاریاں میں سب سے زیادہ 230 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، شمس آباد میں 203، چکلالہ میں 206 اور گولڑہ میں 157 ملی میٹر بارش ہوئی۔ڈی جی نے نالہ لئی کے اطراف میں شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی انہوںنے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ اور واسا اسٹاف فیلڈ میں موجود رہا اور نشیبی علاقوں سے نکاسی آب یقینی بناتا رہا ۔سیف انور جپہ نے کہا کہ بارشوں کا یہ سلسلہ 5 ستمبر تک جاری رہنے کی پیش گوئی ہے ادھر نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث خطرے کے سائرن بجا دیے گئے تھے اور نالہ لئی کے کنارے آباد نشیبی علاقوں کے مکینوں کو فوری انخلا کی ہدایت کی گئی ۔انتظامیہ کے مطابق اسلام آباد سے بڑا سیلابی ریلا راولپنڈی کی جانب بڑھ رہا ہے خطرے کے پیش نظر نشیبی آبادیوں کے انخلا کا حکم جاری کیا گیا۔حکام کے مطابق کٹاریاں کے مقام پر نالہ لئی میں پانی کی سطح پہلے 14.5 فٹ تک پہنچی اور پری الرٹ لیول عبور کیا بعد ازاں مسلسل اضافے کے ساتھ 18.5 فٹ تک جا پہنچی۔ گوالمنڈی میں بھی پانی کی سطح 7 فٹ سے بڑھ کر 11 فٹ ہوگئی ۔ نالہ لئی کے کنارے پارک متعدد گاڑیاں پانی کے ریلے میں بہہ گیں اس سنگین صورتحال کی ویڈیو بھی سامنے آگئی۔ نالہ لئی کنارے کھڑی گاڑیوں کو پانی کی سطح بلند ہونے پر پانی میں بہتا دیکھا جاسکتا ہے، گاڑیوں کے مالکان اوپر کھڑے ہوکر بچانے کی کوشش بھی کرتے تھے لیکن کامیابی نہ ہوئی۔دریں اثناءراولپنڈی دریائے سواں میں نالہ لئی کا سیلابی ریلا داخل ہوگیا، دریائے سواں میں اونچے درجے کا سیلاب رہا، جی ٹی روڈ، پرائیوٹ سوسائیٹیز، اڈیالہ روڈ، چونترہ، چکری، چک بیلی تک سیلابی صورتحال دیکھی گئی ادھر شدید بارش اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے مقامی تعطیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، یکم ستمبر بروز منگل راولپنڈی کی حدود میں مقامی تعطیل رہی ، تمام متعلقہ ادارے مقامی تعطیل کے باعث بند رہنے کا بتایاگیا تاہم ہنگامی نوعیت کے محکمے، ادارے اور اتھارٹیز کومعمول کے مطابق کام کر نے کا کہا گیا ۔ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور نالہ لئی و دیگر نشیبی علاقوں کے قریب جانے سے اجتناب کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ نالہ لئی کے کنارے آباد افراد فوری طور پر علاقہ خالی کرکے محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں۔ دریں اثناءوفاقی دارالحکومت کی اسلام آباد ایکسپریس وے پر پانی کے باعث گاڑیاں روڈ پر پھنسی رہیں ۔ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کے مطابق آرمی امدادی اداروں کے ساتھ موجود رہی، ٹرپل ون بریگیڈ ہمارے ساتھ رابطے میں رہے ۔ اطلاعات کے مطابق راولپنڈی کے علاقے یوسی 44 ڈھوک فرمان علی میں برساتی نالے نے تباہی مچا دی، پانی گلیوں کے بعد گھروں میں داخل ہوگیا ادھر وفاقی دارلحکومت خصوصا ای الیون میں چند ہی منٹس میں 150 ملی میٹر بارش ہونے کے بعد نالہ اوورفلو کرنے سے وجہ سے پانی سڑک پر آگیا جبکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پہلے سے ہی سیل کی گئی چند بیسمنٹس میں بھی داخل ہوگیا جس کے باعث لوگوں کا کروڑوں کا نقصان ہوا ادھر D12/2 میں حفاظتی دیوار گرنے کے بعد امدادی کاروائیوں کا عمل بھی جاری رہا تاہم کسی بھی قسم کا جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔ دوسری جانب راولپنڈی کے ڈبل روڈ پر قائم فوڈ اسٹریٹ میں شدید بارش کے بعد پانی جمع ہوا، جس کے باعث متعدد ریسٹورنٹس کے اندر پانی داخل ہوگیا اور تاجروں کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔متاثرہ دکانداروں کے مطابق پانی داخل ہونے سے فرنیچر، الیکٹرونکس کا سامان اور دیگر قیمتی اشیا ناکارہ ہو گئیں۔تاجروں کے مطابق واسا یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نکاسی آب کے لیے کوئی موثر اقدامات نہیں کیے گئے۔مقامی دکانداروں کے مطابق بارش کے بعد پانی جمع ہونے سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور قیمتی سامان کو نقصان پہنچا۔ تاجروں نے کہا کہ یہ صورتحال پہلی بار نہیں بلکہ پانچویں مرتبہ پیش آئی ہے۔تاجروں نے متعلقہ اداروں سے فوری نکاسی آب کے موثر انتظامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقل بنیادوں پر مسئلے کے حل کے بغیر ہر بار بارش میں یہی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے، جس سے ان کا کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ دوسری جانب چیف واٹر انجینئر راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ محمد عتیق نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ بارشوں نے 16 سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے، اس سے قبل ایسی بارش 2010 میں ریکارڈ کی گئی تھی۔ انہوںنے کہاکہ کنٹونمنٹ بورڈ کے ایگزیکٹو آفیسر کی ہدایت پر تمام عملہ ہائی الرٹ ہے اور تاحال کسی ہنگامی صورتحال کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ کنٹونمنٹ کے علاقوں میں نسبتا کم بارش ہوئی جبکہ نالہ لئی کے اپ اسٹریم علاقوں میں بارش زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ شہریوں کی سہولت کے لیے ایمرجنسی سینٹر قائم کر دیا گیا ہے اور رہائشی 24 گھنٹے رابطہ کر سکتے ہیں۔چیف انجینئر کے مطابق کنٹونمنٹ کو 6 حصوں میں تقسیم کر کے فلڈ ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں اور کنٹرول روم میں موصول ہونے والی ہر کال پر فوری کارروائی کی جا رہی ہے ادھر اسلام آباد اور گرد و نواح میں مسلسل موسلا دھار بارشوں کے باعث راول ڈیم میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو گئی جس کے باعث اسپل ویز کھول دیئے گئے ،ضلعی انتظامیہ کے مطابق راول ڈیم میں پانی کی سطح 1751.90 فٹ تک پہنچ گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے ریسکیو 1122، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ سپل ویز کھولنے کے دوران ہائی الرٹ رہیں اور تمام ضروری حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں۔انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ندی نالوں اور نشیبی علاقوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں