لاہور(پ ر)پیٹرول بھتہ ختم کرنے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری اور نمایاں کمی اور مہنگائی کے ستائے عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے مطالبے پر جماعت اسلامی کے جاری دھرنے کے تیسرے روز شمالی پنجاب سمیت مختلف علاقوں سے ہزاروں خواتین نے بھرپور شرکت کی۔ خواتین نے دھرنے میں شرکت کرکے حکومتی معاشی پالیسیوں اور مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف اپنے شدید احتجاج کا اظہار کیا۔دھرنے میں قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ثمینہ سعید، ڈپٹی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، ڈاکٹر زبیدہ جبیں ناظمہ وسطی پنجاب نازیہ توحید، ناظمہ شمالی پنجاب ثمینہ احسان اور ناظمہ حلقہ لاہور عظمیٰ عمران سمیت خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ثمینہ سعید نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ صرف گاڑیوں کے ایندھن کو مہنگا نہیں کرتا بلکہ اس کے اثرات براہِ راست ہر گھر کے چولہے، بچوں کی تعلیم، علاج، روزمرہ خوراک اور گھریلو بجٹ پر پڑتے ہیں۔ حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا کہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام اب مزید بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں۔انہوں نے کہا کہ پیٹرول بھتہ ختم کیا جائے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے۔ حکومت عوام کو یہ بتائے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم یا مستحکم ہونے کے باوجود پاکستانی عوام کو مہنگے پیٹرول کا بوجھ کیوں اٹھانا پڑ رہا ہے۔ حکمران اشرافیہ کے اخراجات اور مراعات کم کرنے کے بجائے ہر بار عوام کی جیب پر ہاتھ ڈالنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ثمینہ سعید نے کہا کہ خواتین اس مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں کیونکہ گھر کا بجٹ سنبھالنے کی ذمہ داری عموماً خواتین کے کندھوں پر ہوتی ہے۔ جب آٹا، دال، سبزی، بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروریات مہنگی ہوتی ہیں تو سب سے پہلے گھر کی خواتین ہی اس کے اثرات برداشت کرتی ہیں۔ آج ہزاروں خواتین کا دھرنے میں آنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خواتین اپنے حقوق، اپنے بچوں کے مستقبل اور عوامی مسائل کے حل کے لیے میدان میں موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کا یہ احتجاج کسی ایک طبقے یا جماعت کا احتجاج نہیں بلکہ پاکستان کے عام آدمی کی آواز ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت فوری طور پر پیٹرول بھتہ ختم کرے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرے اور عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرے۔ اگر حکمران عوام کے مطالبات نہیں سنتے تو پرامن عوامی جدوجہد کا دائرہ مزید وسیع ہوگا۔
مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام مزید بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں،ثمینہ سعید
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل