کوئٹہ : وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے کہا ہے کہ بلوچستان کا کوئی علاقہ نو گو ایریا نہیں البتہ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر دہشت گرد ہیں دہشت گردوں کی لیڈر شپ اپنے آقاﺅں کے ہاتھوں یرغمال ہے اور ان کی پشت پناہی میں دہشت گردی اور بھتہ خوری کررہے ہیں۔ جوخواتین اور عوام کی سہولت کے لئے فراہم کی گئی 35 ایمبولینسیں لے جائیں وہ عوام کے خیر خواہ نہیں ۔عوام سے اپیل ہے کہ وہ ریاست اور ملکی اداروں کے ساتھ کھڑے ہوکر دہشت گردی کا قلع قمع کرنے میں ساتھ دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سول سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر معاون وزیر داخلہ بابر یوسفزئی بھی موجود تھے۔ ضیاءاللہ لانگو نے یوم آزادی بھر پور انداز میں منانے پر بلوچستان کے عوام اور سیکورٹی فورسز کی جانب سے موثر سیکورٹی کے انتظامات یقینی بنانے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے علاقے میں اپنے لوگوں کے ساتھ جشن آزادی منایا اور ان کے ساتھ مختلف تقاریب میں شرکت کی ،لوگوں میں یوم آزادی کے موقع پر ولولہ ، جوش اور جذبہ دیکھا کیونکہ یہ زندہ قوموں میں پایا جاتا ہے جو اپنے آزادی کے ایام کو بھر پور جوش اور جذبے کے ساتھ مناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کے حقوق کے حصول صوبے کی پسماندگی اور عوام میں پائی جانے والے احساس محرومی کو دور کرنے کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور میں نے قلات اور خالق آباد کے لوگوں بالخصوص خواتین کو کسی بھی بیماری یا تکلیف کی حالت میں ہسپتال تک پہنچانے کے لئے خالق آباد اور قلات میں 30 سے 35 ایمبولینسیں عوام کی سہولت کیلئے فراہم کی تھیں۔ جن سے لوگ مستفید ہورہے تھے لیکن مسلح افراد اب عوام سے انکی سہولیات چھین رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیم کے ایک کمانڈر کی تصویر دیکھی وہ عام انسان جیسا نہیں تھابلکہ مجھ جیسی تین گنا زیادہ جسامت رکھتا ہے اور وہ بلوچ نوجوانوں کو بہکاکربھتہ خوری اور دہشت گردی کروارہا ہے ہیں اس لئے میں بلوچ قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ بلوچ قوم کو اپنے اور بچوں کے لئے سوچنا ہو گااور اس جنگ سے دور رہ کر ریاست اور حکومت کا ساتھ دیکر دہشت گردی کا قلع قمع کرنے میں کردار ادا کرنا ہوگا ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا کوئی علاقہ نوگو ایریا نہیں البتہ کوئٹہ کراچی آر سی ڈی قومی شاہراہ پر دہشتگرد ہیں۔ اگر حکومت ان کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو عوامی اور سیاسی حلقے اس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں حکومت اور ریاست نے عوام کی مرضی اور منشاءپر اقدامات اٹھانے ہوتے ہیں اس لئے انہیں اب اس صورتحال پر حکومت اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اپنے علاقے قلات سے ایس ایس پی کی گاڑی میں سکواڈ کے ساتھ آرہا تھا کہ راستے میں دہشت گردوں نے میری گاڑی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی فائرنگ کے تبادلے میں سکواڈ میں شامل ایک گاڑی آئی جس میں سوار پولیس ، اے ٹی ایف ، فرنٹیر کور کے جوانوں نے جوانمردی سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا ہمارے سکواڈ کے 6 جوان زخمی ہوئے جوانوں نے دہشت گردوں کے حملے کو پسپا کرکے زخمیوں کو شہید نواب غوث بخش رئیسانی ہسپتال منتقل کیا اور ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں بحفاظت ٹراما سینٹر کوئٹہ منتقل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچ قوم نے بہت کچھ برداشت کرلیا دہشتگرد کوئی حقوق اور آزادی کی جنگ نہیں لڑرہے بلکہ وہ جنگ کی آڑ میں اپنے بیرونی آقاﺅں کے اشارے پر بھتہ خوری اور خواتین سمیت نوجوانوں کو یرغمال بناکر ان کی تذلیل کررہے ہیں ۔
کوئی علاقہ نوگو ایریا نہیں‘ بلوچ قوم کو اپنے اور بچوں کیلئے سوچنا ہو گا‘ ضیاءلانگو
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل